انگلستان دیرینہ خواب پورا کرنے اور آسٹریلیا براڈ کو رلانے کا خواہشمند

انگلستان کی کرکٹ ٹیم ایک صدی سے بھی زیادہ پرانے خواب کی تعبیر کے لیے آج آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوگئی۔ یعنی مسلسل چار مرتبہ ایشیز سیریز جیتنا۔

کیا آسٹریلیا اسٹورٹ براڈ کو رلا پائے گا؟ یا اس مرتبہ بھی خود ہی روئے گا؟ (تصویر: PA Photos)

کیا آسٹریلیا اسٹورٹ براڈ کو رلا پائے گا؟ یا اس مرتبہ بھی خود ہی روئے گا؟ (تصویر: PA Photos)

انگلستان نے مسلسل چار مرتبہ ایشیز سیریز جیتنے کا کارنامہ آخری مرتبہ 1890ء میں انجام دیا تھا جب سر ڈبلیو جی گریس کی قیادت میں سیریز دو-صفر سے جیتی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک 123 سالوں میں ایک مرتبہ بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ 'بابائے کرکٹ' نے ایشیز کا اعزاز مسلسل چار مرتبہ حاصل کیا ہو۔ اب اس خواب کی تعبیر محض چند قدموں کے فاصلے پر ہے اور 17 رکنی دستہ ایلسٹر کک کی قیادت میں 21 نومبر سے گابا، برسبین میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے اس کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرے گا۔

انگلستان نے نومبر 2006ء میں 5-0 کے بدترین مارجن سے شکست کھانے کے بعد سے اب تک کوئی ایشیز نہیں ہاری۔ 2009ء میں انگلستان، 2010ء میں آسٹریلیا اور رواں سال کے وسط میں اپنی ہی سرزمین پر 3-0 کی فتوحات نے انگلستان کو آنے والی ایشیز کے لیے بھی فیورٹ بنا دیا ہے۔ بلکہ ماضی کے عظیم انگلش آل راؤنڈر این بوتھم کے مطابق تو انگلستان کلین سویپ کرے گا۔

دوسری جانب آسٹریلیا ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پے در پے شکستوں سے نکلنا چاہتا ہے بلکہ اس کے سامنے تو ایک اور ہدف بھی ہے۔ اسٹورٹ براڈ کو رلاتے ہوئے گھر واپس بھیجنا۔ جی ہاں! یہ مشہور دھمکی رواں سال ہونے والی ایشیز سیریز کے دوران آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لیمن نے دی تھی۔ جنہوں نے ٹرینٹ برج میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں اسٹورٹ براڈ کے آؤٹ ہونے کے باوجود کریز نہ چھوڑنے اور بعد ازاں سیریز تین-صفر سے ہارنے کے بعد زچ ہوکر عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ اگلی ایشیز میں وہ اسٹورٹ براڈ کو آڑے ہاتھوں لیں۔ اب عوام آسٹریلوی کوچ کی اس اپیل پر کتنا کان دھرتے ہیں، اس کا اندازہ برسبین میں ہوجائے گا۔

برسبین کے بعد دونوں ٹیمیں مزید 4 ٹیسٹ میچز کھیلیں گی جو بالترتیب ایڈیلیڈ، پرتھ، ملبورن اور سڈنی میں کھیلے جائیں گے۔ علاوہ ازیں 4 ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز بھی ہوگی جس کا آغاز 12 جنوری کو ملبورن میں پہلے ون ڈے سے ہوگا۔

Facebook Comments