یہ تو ہونا ہی تھا!!

ویوین رچرڈز کے نزدیک دفاع کا بہترین طریقہ جارحیت تھا اور عظیم بیٹسمین کا پورا کیرئیر اس کی عملی مثال ہے جنہوں نے کبھی بھی باؤلرز کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا ۔80ء کے عشرے میں اسی جارح مزاجی ویسٹ انڈیز کو عالمی کرکٹ کی سپر پاور بنایا اور پھر آسٹریلیا نے بھی یہی انداز اپنا کر طویل عرصے تک حکمرانی کی جبکہ ماضی میں پاکستانی ٹیم بھی جارحانہ اپروچ کی حامل تھی مگر موجودہ پاکستانی ٹیم میں اس رویے کا فقدان دکھائی دے رہا اور اس کے ساتھ ساتھ پرفارمنس کا عدم تسلسل بھی قومی ٹیم کو اٹھنے نہیں دیتا ۔

مقابلے سے پہلے ہی جیتنے کے بجائے ڈرا کرنے کی سوچ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا (تصویر: AP)

مقابلے سے پہلے ہی جیتنے کے بجائے ڈرا کرنے کی سوچ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا (تصویر: AP)

ابوظہبی میں پاکستانی ٹیم نے عالمی درجہ بندی میں سرفہرست جنوبی افریقہ کو پچھاڑا تو اسے بہت بڑی کامیابی تصور کیا گیا اور یہ جیت واقعی بہت بڑی اور یادگار تھی کیونکہ پاکستان نے ایسی ٹیم کو شکست دی تھی جسے لگ بھگ دو برسوں میں کوئی ہرا نہیں سکا تھا ۔ پاکستان کی اس کامیابی کے بہت سے مثبت پہلو تھے جسے ابوظہبی ٹیسٹ میں ایک نئی اور عمدہ اوپننگ جوڑی ملی، ذوالفقار بابر جیسا اسپنر ملا اور پاکستان نے صرف چار اسپیشلسٹ باؤلرز کے ساتھ جنوبی افریقہ کی مضبوط بیٹنگ لائن کو دو مرتبہ آؤٹ کیا ۔ پہلے ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد پاکستانی ٹیم کو پروٹیز پر نفسیاتی برتری بھی حاصل تھی جو پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز جیتنے کی پوزیشن میں آگئی تھی جبکہ ہاشم آملہ کی عدم موجودگی نے مہمان ٹیم کو مزید کمزور کردیا تھا ۔

اس صورتحال میں پاکستانی ٹیم کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ دوسرا ٹیسٹ جیتنے کی کوشش کرتی لیکن میچ سے پہلے ہی ڈیو واٹمور کا بیان سامنے آگیا کہ سیریز برابر ہونے کی صورت میں بھی پاکستانی ٹیم درجہ بندی میں چوتھی پوزیشن حاصل کرلے گی ۔اس دفاعی اپروچ کا نقصان پاکستانی ٹیم کو اٹھانا پڑا جس کے کھلاڑیوں کو ہر حال میں فتح کی نہیں بلکہ میچ ڈرا کرنے کی تلقین کی گئی اور کسی وجہ سے پاکستانی ٹیم میچ ہار بھی گئی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ چوتھی پوزیشن تو برقرار رہے گی۔واٹمور کی ساری کوششیں چوتھی پوزیشن کے حصول پر تھیں اور یہی بات غالباً کھلاڑیوں کے ذہن میں بھی تھی کہ ابوظہبی کی یادگار کامیابی کے بعد اب چوتھی پوزیشن ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔

دفاعی مزاج کے ساتھ میدان میں اترنے والی ٹیم کی بیٹنگ کا فلاپ ہوجانے کا سبب کیا تھا؟ چند دن پہلے جو ٹیم 400 سے زائد رنز کا مجموعہ اسکوربورڈ پر کھڑا کررہی تھی وہ 100 سے کم اسکور پر کیسے آؤٹ ہوگئی؟ ابوظہبی اور دبئی کی وکٹوں میں’’زمین آسمان‘‘کا فرق نہیں تھا لیکن ٹیم کی اپروچ میں اس سے بھی زیادہ فرق تھا اسی لیے دونوں میچز میں قومی ٹیم کی جانب سے متضاد نتائج سامنے آئے ہیں۔

پہلے ٹیسٹ میں دونوں اوپنرز ٹیم میں جگہ پکی کرنا چاہتے تھے اس لیے دونوں نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے لمبے اسکورز بنائے مگر دوسرے ٹیسٹ میں جس طرح خرم منظور نے جس غیر ذمہ دارانہ انداز میں اپنی وکٹ گنوائی اس پر محض افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس طرح کا شاٹ تو اوپنرز ون ڈے میں بھی نہیں کھیلتے جو خرم نے دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلر کے خلاف میچ کی دوسری گیند پر کھیلنے کی کوشش کی ۔ شان مسعود کو اچھا آغاز مل گیا تھا مگر لیگ اسپنر کے خلاف بیٹ اور پیڈ کے درمیان خلا چھوڑ کر کھیلنے کی کوشش نے انہیں چلتا کردیا۔ اظہر علی کی خراب فارم کا سلسلہ اس اننگز میں بھی جاری رہا جسے ڈراپ کرنا ٹیم مینجمنٹ کیلئے نہ جانے کیوں اتنا مشکل فیصلہ بن رہا ہے ۔ ٹیم کے سب سے تجربہ کار بیٹسمین یونس خان نے قدموں کو حرکت دیے بغیر شاٹ کھیلنے کی کوشش کی اور نتیجہ پویلین واپسی کی صورت میں نکلا۔مصباح ہر میچ میں پرفارم نہیں کرسکتا جس کا جلد آؤٹ ہونا ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کرگیا جبکہ اسد شفیق نے بھی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوائی۔

پاکستان کی بدترین بیٹنگ پرفارمنس کے بعد ڈیل اسٹین پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام لگانا یا عمران طاہر کو’’غدار‘‘قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ تن آسانی میں مبتلا ہوجانے والے بیٹسمینوں کی غیر ذمہ داری کے باعث پاکستانی ٹیم نے سیریز جیتنے کا موقع گنوادیا ہے جس کا سبب کوچ کی دفاعی اپروچ اور کھلاڑیوں کی حد سے زیادہ خود اعتمادی ہے ۔ جس طرح اسمتھ اور ڈی ویلیئرز نے پاکستانی باؤلرز کا بھرکس نکالا ہے اس سے وکٹ کی صورتحال بھی واضح ہوگئی ہے کہ یہ وکٹ بیٹنگ کیلئے کتنی ’’خطرناک‘‘ہے اور اب پاکستان کو یہ ٹیسٹ میچ بچانے کیلئے کسی معجزے کا انتظار کرنا ہوگا اور کیونکہ معجزے ہر روز رونما نہیں ہوتے اس لیے پاکستانی ٹیم یہی سوچ کے مطمئن ہوجائے کہ کہ درجہ بندی اس کی چوتھی پوزیشن کو کوئی خطرہ نہیں ہے!!

Facebook Comments