سیٹھی بحال یا بدستور برطرف؟ عدالت نے کنفیوژن پھیلا دی

جس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں معاملات گومگو کا شکار ہیں، بالکل اسی طرح اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں دائر مقدمے نے بھی کنفیوژن پھیلا دی ہے۔

نجم سیٹھی اور عبوری انتظامی کمیٹی کی بحالی سے فی الحال سر پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی ہوگی (تصویر: AFP)

نجم سیٹھی اور عبوری انتظامی کمیٹی کی بحالی سے فی الحال سر پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی ہوگی (تصویر: AFP)

آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ریاض احمد خان اور جسٹس نور الحق قریشی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ چودھری ذکاء اشرف کی بر طرفی اور نئے چیئرمین کے انتخاب سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی۔ سماعت کے بعدعدالت نے جسٹس (ر) منیر اے شیخ کی زیر نگرانی چیئرمین پی سی بی کے انتخابات کے معاملے پر حکم امتناعی جاری کردیا اور 29 اکتوبر کی صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے سماعت 7 نومبر تک ملتوی کردی۔

لیکن سماعت کے فوراً فریق اور مدعی دونوں کے وکلاء کے بیانات نے معاملے کو مزید گمبھیر بنا دیا۔ درخواست گزار احمد ندیم سڈل کے وکیل میاں عبد الرؤف ایڈووکیٹ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیئرمین کے انتخابات پر حکم امتناعی جاری کردیا ہے جس کے مطابق اب نجم سیٹھی 29 اکتوبر کے فیصلے کے تحت معطل رہیں گے لیکن کچھ ہی دیر بعد وزارت بین الصوبائی روابط کی وکیل عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے بیان داغ دیا کہ عدالت کے حکم امتناعی کا مطلب ہےکہ نجم سیٹھی کو کام کرنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ 'سونے پہ سہاگہ' پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشیر تفضل رضوی کا بیان تھا جنہوں نے ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے بیان دے ڈالا کہ نجم سیٹھی کو عبوری کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے بحال کردیا گیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ عدالت نے نجم سیٹھی اور عبوری کمیٹی کو بحال کردیا ہے کیونکہ وہ کرکٹ بورڈ کے معاملات کو جمود کا شکار نہیں دیکھنا چاہتی۔

اب دو رکنی بینچ جمعرات کو سماعت کرے گا، جہاں معاملات مزید واضح ہوکر سامنے آنے کا امکان ہے۔

Facebook Comments