بال ٹمپرنگ کے مرتکب کھلاڑی پر 10 میچز کی پابندی لگائی جائے: مائیکل وان

گیند سے چھیڑچھاڑ کرتے ہوئے پکڑے جانے والے جنوبی افریقی کھلاڑی فف دو پلیسی کو ملنے والی "سزا" گوروں سے بھی ہضم نہیں ہو رہی۔

مائیکل وان کی رائے میں گیند سے چھیڑچھاڑ کی کم از کم سزا 10 میچز کی پابندی ہونی چاہیے (تصویر: Getty Images)

مائیکل وان کی رائے میں گیند سے چھیڑچھاڑ کی کم از کم سزا 10 میچز کی پابندی ہونی چاہیے (تصویر: Getty Images)

دبئی میں اختتام پذیر ہونے والے ٹیسٹ تیسرے روز فف دو پلیسی نے گیند کو اپنے ٹراؤزر کی زپ پر رگڑ کر اسے خراب کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ جس پر امپائروں نے گیند بدلنے کے علاوہ جرمانے کے طور پر پاکستان کو 5 رنز سے بھی نواز دیا تھا۔ لیکن ایسے موقع پر جب یہ سمجھا جا رہا تھا کہ فف دو پلیسی اور کپتان گریم اسمتھ کے خلاف پابندی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ میچ ریفری ڈیوڈ بون نے اعلان کردیا کہ فف نے یہ حرکت جان بوجھ کر نہیں کی تھی اور ان پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور ان کے خیال میں یہ سزا مناسب ہے۔

عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کا بال ٹمپرنگ تنازع میں پکڑا جانا ہی بہت بڑی خبر تھی، اس پر آئی سی سی کا ردعمل اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ یہاں تک کہ سابق انگلش کپتان مائیکل وان بھی پھٹ پڑے۔

ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ بال ٹمپرنگ کے لیے میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ؟ اگر آئی سی سی نے سختی نہ کی تو ٹیمیں اتنے معمولی جرمانے کی ادائیگی کا خطرہ مول لے کر بال ٹمپرنگ کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 5 رنز کی پنالٹی اور 50 فیصد جرمانے کا فیصلہ انتہائی نامعقول ہے اور ان کی رائے میں گیند سے چھیڑچھاڑ کرنے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کا بال ٹمپرنگ کے حوالے سے قانون آخری مرتبہ 2010ء میں ایکشن میں آیا تھا جب پاکستان کے اس وقت کے کپتان شاہد خان آفریدی آسٹریلیا کے خلاف ایک مقابلے کے دوران گیند سے چھیڑچھاڑ کرتے پائے گئے تھے اور اس کا خمیازہ انہیں 2 ٹی ٹوئنٹی میچز کی پابندی کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔

— Michael Vaughan (@MichaelVaughan) October 26, 2013

 

Facebook Comments