وکٹ نہ چھوڑنے پر کوئی شرمندگی نہیں، آسٹریلوی اپنے گریبان میں جھانکیں: اسٹورٹ براڈ

دنیائے کرکٹ کی سب سے پرانی 'دشمنی' اس سال ایک نیا موڑ لے گی۔ جوں جوں نومبر قریب آ رہا ہے، لفظی جنگ میں تیزی آتی جا رہی ہے اور اس مرتبہ مقابلہ ہے اسٹورٹ براڈ اور آسٹریلیا کے تماشائیوں کا!

معاملہ دراصل یہ ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں ہونے والی ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں براڈ نے اس وقت کریز چھوڑنے سے انکار کردیا تھا جب وہ واضح طور پر آؤٹ تھے۔ گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لے کر وکٹ کیپر کے دستانوں کو چھوتی ہوئی پہلی سلپ میں گئی لیکن امپائر کی جانب سے ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے اور براڈ کے ازخود کریز نہ چھوڑنے پر بہت ہنگامہ کھڑا گیا گیا، جس کی دھول ابھی تک اڑ رہی ہے۔ براڈ کی اس 'حرکت' نے انگلستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

کئی ماہرین نے اسے صریح بے ایمانی قرار دیا جبکہ براڈ کے موقف کے حامیوں کے بھی اپنے دلائل ہیں۔ جن میں سے چند براڈ نے آج برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں دیے ہیں۔

بہرحال، براڈ کی اس حرکت نے انگلستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جب سیریز 3-0 سے انگلستان کے حق میں مکمل ہوئی اور آسٹریلوی کوچ ڈیرن لیمن نے ایک مرتبہ پھر اس معاملے کو اٹھایا اور کہا کہ جب رواں سال کے آخر میں دونوں ٹیمیں ایک مرتبہ پھر آسٹریلوی سرزمین پر مقابل ہوں گی تو وہ براڈ کو اس حرکت کا مزا چکھائیں گے۔ انہوں نے آسٹریلوی کرکٹ شائقین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ براڈ کو اتنا تنگ کریں کہ وہ روتے ہوئے وطن واپس جائیں۔

اب جبکہ براڈ سمیت تمام انگلش کھلاڑی آسٹریلیا کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں، تو ایسا لگ رہا ہے کہ گھمسان کا رن پڑنے ہی والا ہے۔ لیکن براڈ، کم از کم انٹرویو کی حد تک تو مطمئن، اور کچھ ڈھیٹ بھی، دکھائی دیتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک اس واقعے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

ناٹنگھم شائر سے تعلق رکھنے والے نوجوان باؤلر کا کہنا ہے کہ میں کریز کیوں چھوڑ کر جاؤں جبکہ امپائر نے مجھے ناٹ آؤٹ قرار دیا ہے۔ اور اگر میں ایسا کرتا تو انگلستان میچ ہار جاتا۔

سابق انگلش کپتان مائیکل وان کو انٹرویو دیتے ہوئے براڈ کا کہنا تھا کہ خود آسٹریلیا والے کب آؤٹ ہونے پر کریز چھوڑ کر پویلین کا رخ کرتے ہیں، انہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت والا معاملہ ہوگیا۔

انٹرویو کے دوران اسٹورٹ براڈ جذباتی انداز میں بولے کہ چند قدامت پسند حلقے کرکٹ کو اب بھی پرانے زمانے کا کھیل سمجھتے ہیں، اور ان کے خیال میں معاملات چائے کی ایک پیالی سے ٹھنڈے ہوجانے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہوتا، ہم کوئی پنیر کے سینڈوچ کے لیے نہیں بلکہ ایشیز کے لیے کھیل رہے ہیں۔ اس لیے میرا ذہن تو اس حوالے سے بالکل واضح ہے اور اب بھی میں اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہوں کہ امپائر کی جانب سے ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے پر مجھے کریز پر کھڑا رہنا چاہیے۔

رواں سال کی دوسری ایشیز کا آغاز 21 نومبر کو برسبین میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا، جہاں دونوں ٹیموں کی کارکردگی سے زیادہ شائقین کی نظریں اس امر پرہوں گی کہ آسٹریلوی شائقین ڈیرن لیمن کی آواز پر لبیک کہتے ہیں یا نہیں؟

Facebook Comments