ٹیلنٹ ہے...مگر عقل کہاں ہے؟؟

ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے کہ میں نے لکھا تھا کہ ’’ون ڈے سیریز میں گرین شرٹس ریلیکس نہیں کرسکتی‘‘ کیونکہ آملہ اور اسٹین کی عدم موجودگی میں بھی پروٹیز سائیڈ آخری گیند تک مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے اس لیے ون ڈے سیریز میں پاکستانی ٹیم کے پاس ’’ریلیکس‘‘کرنے کا کوئی موقع موجود نہیں ہے ورنہ نتائج دبئی ٹیسٹ جیسے آسکتے ہیں! اب پہلے ون ڈے کا نتیجہ سامنے ہے جہاں پاکستانی ٹیم نے ایک جیتا ہوا میچ بیٹسمینوں کی بے پروائی اور غیر ذمہ داری کے سبب گنوادیا جس کے بعد مصباح الحق کو بھی یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ بیٹسمینوں نے ’’ریلیکس ‘‘ شاٹ کھیلے جس کے باعث شکست ہوئی۔

"ہیرو" بننے کے شوق کا خمیازہ ہاتھ آیا میچ گنوانے کی صورت میں نکلا (تصویر: AFP)

"ہیرو" بننے کے شوق کا خمیازہ ہاتھ آیا میچ گنوانے کی صورت میں نکلا (تصویر: AFP)

پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں پر نظر ڈالیں تو ناصر جمشید، احمد شہزاد، عمر امین اور عمر اکمل ایسے نام ہیں جنہیں باصلاحیت ترین کھلاڑی کہا جاتا ہے جبکہ بیٹنگ لائن میں محمد حفیظ، مصباح الحق اور شاہد آفریدی کا تجربہ بھی شامل تھا مگر اس کے باوجود پاکستانی ٹیم 184رنز کے ہدف تک رسائی حاصل نہ کرسکی تو ان 7 بیٹسمینوں کی صلاحیت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانا ضروری ہوجاتا ہے۔باؤلرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو محض183رنز پر ٹھکانے لگایا تو بیٹسمین 'ریلیکس' ہوگئے کہ وہ چٹکی بجاتے ہی اس آسان ہدف تک رسائی حاصل کرلیں گے ۔

حقیقی فاسٹ بالرز کے خلاف باؤنسر کھیلنا ناصر جمشید کی کمزوری بن چکا ہے جس پر کھبے اوپنر کو اکثر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود ناصر شارٹ گیندوں کو وکٹ کیپر کی طرف جانے دینے کی بجائے انہیں باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو پروٹیز کے خلاف پہلے ون ڈے میں ہوا۔محمد حفیظ نے شارٹ بال پر اس وقت غیر ضروری شاٹ کھیلا جب 30 اوورز میں 109درکار تھے۔احمد شہزاد نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی، خود کو رن آؤٹ سے بچانے کی کوشش میں انہیں زخمی بھی ہونا پڑا لیکن چھ برس قبل جونیئر ٹیم کے لیے بڑی اننگز کو فتح گر اننگز میں بدلنے میں ناکام رہنے والے احمد شہزاد آج بھی اس خامی سے پیچھا نہیں چھڑا سکے، جن کے لیے سب سے اہم صرف نصف سنچری اسکور کرنا ہے اور ففٹی کی تکمیل کے بعد احمد شہزاد غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ اسٹروکس کھیل کر وکٹ گنوانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں دائیں ہاتھ کے اوپنر کو اکثر کامیابی بھی ملتی ہے۔

مصباح الحق کی وکٹ بھی ہضم نہیں ہورہی جنہوں نے آف اسٹمپ سے باہر جانے والی گیند کو دائرے سے باہر اچھالنے کی کوشش کی، مگر پوائنٹ پوزیشن پر پکڑے گئے۔ پاکستانی ٹیم مصباح الحق کی عمدہ بیٹنگ کی عادی ہوچکی ہے اس لیے جس میچ میں مصباح فتح گر کردار نہ نبھا سکیں تو وہاں گرین شرٹس بھی آسانی سے ڈھیر ہوجاتی ہے۔ مصباح کے آؤٹ ہونے پر 36اوورز میں اسکور 4/135تھا یعنی 84بالز پر 49رنز کی ضرورت وہ بھی 6 وکٹوں کے ساتھ مگر بدقسمتی ملاحظہ ہو پاکستانی ٹیم اس پوزیشن سے بھی میچ ہار گئی۔

عمر اکمل کو سب سے زیادہ باصلاحیت کھلاڑی کہا جاتا ہے لیکن وہ ڈریسنگ روم سے یہ تہیہ کرکے آئے تھے کہ عمران طاہر کو سویپ شاٹ ضرور کھیلیں گے اور یہ شاٹ کھیلتے ہوئے انہیں اتنا بھی خیال نہ آیا کہ ابھی ایک گیند پہلے پاکستان کی پانچویں وکٹ گری ہے مگر سویپ شاٹ کھیلنے کے شوق نے پاکستان کو شکست کا ’’شاک‘‘لگادیا۔

165پر عمر اکمل روانہ ہوئے تو نو اوورز میں 19رنز آسان ہدف تھامگر پرجوش کراؤڈ کے سامنے شاہد آفریدی خود کو کس طرح چھکا لگانے سے باز رکھ سکتے تھے۔ چھکا لگانے کی کوشش میں شاہد آفریدی پویلین روانہ ہوئے تو اس سے پہلے سہیل تنویر کو آف اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی سزا مل چکی تھی۔ 8 وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم بیک فٹ پر چلی گئی اورپروٹیز نے آخری دو وکٹیں حاصل کرکے ہارا ہوا میچ محض ایک رن سے جیت لیا جس میں پاکستان کے آخری چھ بیٹسمین صرف 17رنز کے اندر آؤٹ ہوئے۔

اس میچ میں شریک پاکستان کے تمام نوجوان کھلاڑی ٹیلنٹ کی دولت سے مالامال ہیں مگر عقل کا فقدان ہے جو کافی عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ میں گزارنے کے باوجود ٹیم کی ضرورت کو سمجھ نہیں سکے بلکہ انفرادی کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ویراٹ کوہلی 17سنچریاں اسکور کرچکا ہے جبکہ کوہلی کے ساتھ جونیئر ورلڈ کپ کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین محض پچاس رنز بنانے پر ہی نازاں ہیں۔

شارجہ کے ون ڈے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن عقل کا فقدان ضرور ہے کیونکہ ’’ہیرو‘‘ بننے کے شوق میں جس غیر ذمہ دارانہ طریقے سے بیٹسمینوں نے اپنی وکٹیں گنوائی ہیں اس پر ان کی عقلوں پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے جن کے جسم میں صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے لیکن دماغ کسی نئے تعمیر شدہ گھر کی طرح بالکل خالی ہیں!!

Facebook Comments