جنوبی افریقہ، اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

جنوبی افریقہ، وہ وقت نجانے کب آئے گا جب دنیا تمہیں کسی عالمی کپ کے فائنل میں دیکھے گی۔ کبھی قسمت ساتھ نہیں دیتی اور کبھی تم اپنے ہاتھوں سے فتح کو ٹھکرا دیتے ہو اور شکست کو قبو ل کر لیتے ہو۔

1992ء کے عالمی کپ کا سیمی فائنل کئی لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہوگا، جب قانون کے مطابق تو جنوبی افریقہ ہار گیا لیکن اس نے سب کے دل جیت لیے۔ بارش کے باعث 13 گیندوں پر 22 رنز کا ہدف محض ایک بال پر 22 رنز کا ہدف بنا دیا گیا ۔ یوں جنوبی افریقہ ایک ممکنہ جیتی ہوئی بازی ہار گیا اور اس کے بعد سے آج تک کسی بھی عالمی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کوئی میچ نہیں جیت پایا۔

1996ء کے عالمی کپ میں ایک مرتبہ پھر فیورٹ ٹیم کی حیثیت سے میدان میں اترا اور اپنے تمام گروپ میچز جیتے۔ لگتا تھا کہ اس مرتبہ بازی اسی کے نام رہے گی لیکن ۔۔۔۔۔۔ کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں حیران کن شکست کھا گیا۔ ویسٹ انڈیز گروپ میچز میں کینیا سے شکست کھا چکا تھا اوراس میچ میں جنوبی افریقہ کو زیر کرنے میں کامیاب رہا۔ 140 پر محض دو وکٹوں کے نقصان کے ساتھ 265 رنز کے ہدف میں ناکام رہا اور 19 رنز سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

1999ء کے عالمی کپ کا یہ منظر بھلا کون سا جنوبی افریقی بھول سکتا ہے، اسے کہتے ہیں جیتی ہوئی بازی ہارنا

یہ کہانی مزید آگے بڑھتی ہے۔ 1999ء کے عالمی کپ وہ ایک مرتبہ پھر انتہائی فیورٹ ٹیم کی حیثیت سے ٹورنامنٹ کا آغاز کرتا ہے لیکن اس یادگار سیمی فائنل کوئی کیسے بھلا سکتا ہے، جسے کرکٹ کے بیشتر ماہرین کھیل کی تاریخ کا عظیم ترین میچ قرار دیتے ہیں۔ آسٹریلیا کے 213 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے پروٹیز لڑکھڑانے کے بعد لانس کلوزنر کی شاندار بلے بازی کی بدولت فتح کے بہت قریب آ گئے۔ کلوزنر نے دو مسلسل چوکے جڑ کر مقابلہ برابر کر دیا اور چار گیندوں پر محض ایک رن درکار تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس مرتبہ دوسرے اینڈ پر موجود ایلن ڈونلڈ رن آؤٹ ہو گئے اور میچ ٹائی ہو گیا۔ گزشتہ میچ میں چونکہ آسٹریلیا جنوبی افریقہ کو شکست دے چکا تھا اس بنیاد پر اسے فائنل کا حقدار قرار دیا گیا اور جنوبی افریقہ پھر عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔

2003ء میں جنوبی افریقہ عالمی کپ کے گروپ مرحلے ہی میں باہر ہو گیا۔ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد اسے سری لنکا کے خلاف میچ جیتنا ضروری تھا لیکن وہ بارش سے متاثر ہو گیا اور بدقسمتی سے ڈک ورتھ لوئس کے تحت بھی میچ ٹائی ہی ہوا اور جنوبی افریقہ اپنے ملک میں عالمی کپ کا اگلا مرحلہ کھیلنے سے بھی محروم ہو گیا۔

2007ء میں وہ ایک مرتبہ پھر مضبوط امیدوار تھا، سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لیکن ناقص بلے بازی کے باعث آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کھا کر ایک مرتبہ پھر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

یہی سلسلہ 2011ء میں بھی جاری رہا جہاں اس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کئی ماہرین اسے عالمی کپ کی متوازن ترین ٹیم کہہ رہے تھے پھر بھارت کے خلاف انہوں نے جس طرح فتح حاصل کی اس کے بعد تو یہ تک کہا گیا کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم اب "چوکر" نہیں رہی۔ لیکن ۔۔۔۔ نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے جس طرح جیتی ہوئی بازی ہاری ہے لگتا ہے جنوبی افریقہ اب کافی عرصے تک اس داغ کو اپنے ماتھے سے مٹا سکے گا۔

Article Tags

Facebook Comments