وسیم اکرم کا مشورہ غلط نہیں تھا!

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے میں پاکستان کی شکست کے بعد سابق کپتان وسیم اکرم نے شاہد آفریدی کو ’’مشورہ‘‘ دیا تھا کہ وہ گیارہویں نمبر پر بیٹنگ کیا کریں کیونکہ اس میچ میں شاہد آفریدی نے عین اس وقت غیر ذمہ دارانہ انداز میں اپنی وکٹ گنوائی جب پاکستان کو جیت کے لیے 47 گیندوں پر صرف 8 رنز کی ضرورت تھی۔363ون ڈے میچز کے تجربہ کار شاہد آفریدی کی غیر ذمہ داری کے باعث وسیم اکرم تک کو ایسا مشورہ دینا پڑا تھا جو ماضی میں شاہد کے بہت بڑے حامی رہے ہیں۔

سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے آفریدی پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے پرفارم کریں  (تصویر: AFP)

سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے آفریدی پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے پرفارم کریں (تصویر: AFP)

کیرئیر کے آغاز میں لااُبالی پن کا مظاہرہ کرنے والے شاہد آفریدی بین الاقوامی کرکٹ میں 17برس گزارنے کے باوجود آج بھی بے پروائی سے شاٹ کھیلنے سے نہیں چوکتے اورمتعدد مرتبہ ایسی 'حرکت' کا مظاہرہ کرنے پر وسیم کو طنزیہ انداز میں یہ کہنا پڑا کہ شاہد گیارہویں نمبر بیٹنگ کرنے آئیں۔ مگر وسیم اکرم کے یہ بیان دینے کی دیر تھی کہ ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہوئے شاہد آفریدی کے بہت سے ’’سپورٹرز‘‘ اپنی کرسیوں پر اچھلنا شروع ہوگئے اور اس ’’تکلیف‘‘ پر دہرے ہونے والے ’’ماہرین‘‘ اگلے میچ کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے کہ شاہد آفریدی اگلے میچ میں اچھا پرفارم کریں تو انہیں وسیم اکرم کا منہ بند کرنے کا موقع مل سکے۔

دوسرے ون ڈے میں شاہد آفریدی نے فتح گر کارکردگی دکھاتے ہوئے جہاں اپنے ناقدین کو خاموش کروایا، وہیں ایک چینل پر بیٹھے ہوئے ماہرین نے بھی وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی کو لتاڑنے کے لیے آستینیں چڑھا لیں۔ ایک میزبان اچھل اچھل کر اپنے مہمانوں سے مطالبہ کررہا تھا کہ وہ وسیم اکرم کو کہیں کہ شاہد آفریدی گیارہویں نمبر کا کھلاڑی نہیں ہے اور ہاتھ کی انگلیوں کے برابر ٹیسٹ میچز کھیلے ہوئے ایک سابق کھلاڑی کیمرے کی طرف دیکھ کر وسیم اکرم کو مخاطب تھے کہ’’ شاہد آفریدی گیارہویں نمبر کا کھلاڑی نہیں ہے اس لیے وسیم تم اپنا ہاتھ ہلکا رکھو‘‘جبکہ وسیم اکرم کی کپتانی میں اپنا کیرئیر شروع کرنے والے دیگر دو ’’مہمان‘‘ اس لیے اپنا منہ نہ کھول سکے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ وسیم اکرم ہی تھے جنہوں نے انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں اترنے کا موقع دیا اور یہ بات الگ ہے کہ وہ سابق چیف سلیکٹر کی طرح شاہد آفریدی کے ’’ڈائی ہارڈ فین‘‘ نہیں ہیں جنہیں آفریدی کی خراب کارکردگی بھی دکھائی نہیں دیتی۔

شاہد آفریدی نے دوسرے ون ڈے میں مرد میدان کا ایوارڈ حاصل کرکے ان لوگوں کو بھنگڑے ڈالنے کا موقع فراہم کردیا جو ’’بوم بوم‘‘ کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مین آف دی میچ کا ایوارڈ ہاتھ میں تھامے شاہد آفریدی نے وسیم اکرم کی اس بات کی تائید کردی جو سابق کپتان نے پہلے ون ڈے کے اختتام پر کہی تھی۔ مرد میدان کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’بیٹنگ میرا پلس پوائنٹ ہے اور میں نے ہمیشہ اپنی بالنگ پر فوکس کیا ہے ‘‘دوسرے لفظوں میں شاہد آفریدی خود کو ایسا بالر قرار دے رہے ہیں جو کبھی کبھار بیٹنگ میں اپنے جوہر بھی دکھا سکتا ہے اور یہی بات وسیم اکرم نے بھی کہی تھی کہ شاہد آفریدی کو آخری نمبروں پر بیٹنگ کروائی جائے ’’اسپیشلٹ‘‘ بالرز کے لیے مخصوص ہیں۔

دوسرے ون ڈے میں آل راؤنڈ پرفارمنس دکھانے والے شاہد آفریدی نے جو کہا وہ اپنی خامیوں کو چھپانے کے مترادف ہے کیونکہ اگر ایسا بیان سہیل تنویر یا وہاب ریاض جیسے ’’آل راؤنڈرز‘‘ دیتے تو بات سمجھ میں آتی کیونکہ بیٹنگ ان کھلاڑیوں کی اضافی صلاحیت ہے جنہیں کبھی بھی پاکستان کی طرف سے ٹاپ آرڈر میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا لیکن پاکستان کی طرف 139مرتبہ اننگز کا آغاز کرنے والے ’’باؤلر‘‘ پر اس طرح بیان موزوں نہیں بیٹھتا جس کے لیے بیٹنگ اب ’’انگور کھٹے ہیں‘‘ کی مثال بن چکی ہے۔

ورلڈٹی20میں شاہد آفریدی نے اہم مواقع پر اپنی وکٹ گنوا کر پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا تھا اور ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں بھی ایسا ہوا مگر بیٹنگ میں کئی ناکامیوں کے بعد ایک بہتر اننگز پر شاہد آفریدی کے مداح بغلیں بجانا شروع ہوجاتے ہیں اور جہیز میں ملے ہوئے ماہرین آل راؤنڈر کی مدح سرائی پر کمربستہ ہوجاتے ہیں۔

شاہد آفریدی اپنی طرز کے واحد کھلاڑی ہیں جن کی خداداد صلاحیتوں پر بھی شک نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے متعدد مرتبہ پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے لیکن کیرئیر کے اس حصے میں شاہد آفریدی پر سینئر ترین کھلاڑی کی حیثیت سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے تسلسل کے ساتھ پرفارم کریں ۔ شاہد آفریدی ماضی میں بیٹسمین کی حیثیت سے بھی عمدہ کارکردگی دکھا چکے ہیں لیکن دوسرے ون ڈے کے بعد ان کا بیان حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے ۔

عمران خان اپنے کیرئیر کے آخری حصے میں زیادہ بہتر بیٹنگ کررہے تھے،آل راؤنڈر کی حیثیت سے کیرئیر شروع کرنے والے اسٹیو واہ دنیا کے عظیم بیٹسمین کی حیثیت سے رخصت ہوئے اور اسی طرح ژاک کیلس نے بھی خود کو بیٹسمین کی حیثیت سے منوایا ہے ۔شاہد آفریدی بھی ایک بڑے اور دلیر کھلاڑی ہیں جنہیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے کی بجائے ذمہ داری اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹنگ میں تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھانی چاہیے اور ان کے مداحوں، لے پالک ماہرین کو بھی غیر ضروری طور پر سیخ پا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ شاہد آفریدی کو یہ مشورہ کسی 5 ٹیسٹ کھیلے سابق کھلاڑی نے نہیں بلکہ دنیا کے عظیم کھلاڑیوں میں سے ایک وسیم اکرم نے دیا ہے اور خود شاہد آفریدی نے بھی اپنے بیان سے ثابت کردیا ہے کہ وسیم اکرم نے کچھ غلط نہیں کہا تھا!!

Facebook Comments