[ریکارڈز] ایک باری میں سب سے زیادہ رنز کھانے والے باؤلرز

بھارت-آسٹریلیا سیریز کا اختتام میزبان ہندوستان کے حق میں ہوا جس نے 2-1 سے خسارے میں جانے اور دو مقابلوں کے بارش کے نذر ہونے کے باوجود ہمت نہ ہاری اور کمال جراتمندی سے دو مرتبہ 350 رنز سے زیادہ کا ہدف بھی عبور کیا۔ پھر آخری مقابلے میں شاندار کارکردگی سے ثابت کیا کہ آخر وہ کیوں دنیائے کرکٹ نمبر ایک ون ڈے ٹیم ہے۔

ونے کمار نے اگر 102 رنز شکست خوردہ مقابلے میں کھائے ہوتے تو ان کا کیریئر داؤ پر لگ سکتا تھا (تصویر: BCCI)

ونے کمار نے اگر 102 رنز شکست خوردہ مقابلے میں کھائے ہوتے تو ان کا کیریئر داؤ پر لگ سکتا تھا (تصویر: BCCI)

لیکن پوری سیریز کی طرح آخری مقابلہ بھی باؤلرز کے لیے "ڈراؤنا خواب" ثابت ہوا۔ بھارت جیت گیا لیکن اس کے باؤلرز کی حالت دیدنی تھی۔ 384 رنز کا تعاقب کرنے والے آسٹریلیا کی 4 وکٹیں محض 74 رنز پر حاصل کرنے کے باوجود آخری بلے بازوں نے ان کے چھکے چھڑا دیے۔ گلین میکس ویل کے 60، جیمز فاکنر کے 116 اور شین واٹسن کے 49 رنز نے شکست کے مارجن کو کم کرنے میں بہت مدد دی اور ان کی بے رحمانہ بلے بازی کا 'خصوصی نشانہ' بنے نوجوان ونے کمار!

ونے کمار نے کسی ایک مقابلے میں سب سے زیادہ رنز کھانے والے باؤلرز کی شرمناک فہرست میں اپنا نام درج کرایا ہے بلکہ وہ 9 اوورز میں 102 رنز کے ساتھ بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ رنز دینے کا ریکارڈ بھی بنا گئے ہیں۔ ان سے قبل یہ ریکارڈ ظہیر خان کے پاس تھا جنہیں سری لنکا کے خلاف 2009ء میں راجکوٹ کے مقام پر 88 رنز کی مار پڑی تھی۔

کسی ایک روزہ مقابلے میں اپنے اوورز میں سب سے زیادہ رنز دینے کا ریکارڈ آسٹریلیا کے غیر معروف گیندباز مک لوئس کے پاس ہے جنہیں مارچ 2006ء میں 'تاریخ کے بہترین ون ڈے مقابلے' میں جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کے ہاتھوں 10 اوورز میں 113 رنز کی مار سہنا پڑی۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ انہیں ایک وکٹ بھی نہیں ملی۔

دوسرا نام آج سے 30 سال قبل ہونے والے ایک مقابلے میں شامل نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن سنیڈن کا ہے جنہیں اوول میں انگلستان کے بلے بازوں نے 12 اوورز میں 105 رنز رسید کیے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس میں ایک میڈن اوور بھی شامل ہے جبکہ انہیں دو وکٹیں بھی ملی تھیں۔

اس فہرست میں مزید دو کھلاڑی ایسے ہیں جو اب تک 100 یا اس سے زیادہ رنز کی مار کھا چکے ہیں۔ ایک نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی اور دوسرے زمبابوے کے برائن وٹوری۔ جنہیں بالترتیب مارچ 2009ء میں بھارت اور فروری 2012ء میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 105 رنز کھانے پڑے۔ ساؤتھی کو بغیر کوئی وکٹ لیے بھارت کے ہاتھوں یہ ذلالت سہنا پڑی جبکہ برائن وٹوری کو صرف 9 اوورز میں 1 وکٹ کے بدلے یہ زہر کا گھونٹ پینا پڑا۔

ان کے علاوہ کوئی گیندباز ایسا نہیں ہے جس نے اپنے اوورز میں اتنی مار کھائی ہو کہ معاملہ تہرے ہندسے تک پہنچ گیا ہو۔ بہرحال، بھارت کی میچ اور سیریز میں فتح نے ونے کمار کا دکھ کچھ کم کیاہوگا، کیونکہ اگر اتنی مار وہ ایسے مقابلے میں کھاتے، جہاں بھارت کو شکست کے ساتھ سیریز بھی گنوانا پڑتی تو تصور کیجیے کہ توپوں کا رخ کیسے اس نوجوان کی جانب ہوجاتا!

ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز دینے والے باؤلر

باؤلر ملک اوورز میڈنز رنز وکٹیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
مک لوئس آسٹریلیا 10 0 113 0 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ مارچ 2006ء
مارٹن سنیڈن نیوزی لینڈ 12 1 105 2 انگلستان اوول، لندن جون 1983ء
ٹم ساؤتھی نیوزی لینڈ 10 0 105 0 بھارت کرائسٹ چرچ مارچ 2009ء
برائن وٹوری زمبابوے 9 0 105 1 نیوزی لینڈ نیپئر فروری 2012ء
ونے کمار بھارت 9 0 102 1 آسٹریلیا بنگلور نومبر 2013ء

Facebook Comments