[فل لینتھ] پاک-جنوبی افریقہ تیسرے ون ڈے کے لیے کوئی ٹیم فیورٹ نہیں

متحدہ عرب امارات میں پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز ون ڈے مرحلے میں موجود ہے۔ جہاں پاکستان پہلے مقابلے میں جس طرح جیتی ہوئی بازی ہارا، اس سے کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والے تو درکنار اناڑی تک بلبلا اٹھے۔ ہم تمام کرکٹرز کو بہت افسوس ہوا کہ اچانک بازی کیسے پلٹ گئی۔ دوسرے مقابلے میں فتح تو پاکستان کو ملی، لیکن بیٹنگ نے ایک مرتبہ پھر دھوکا دیا۔ وہ مقابلہ ہم مکمل طور پر باؤلرز کی وجہ سے جیتے۔

ہاشم آملہ کی آمد سے جنوبی افریقہ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، پاکستان ناصر جمشید کو آرام کا موقع دے اور آفریدی سے اوپننگ کروائے (تصویر: AFP)

ہاشم آملہ کی آمد سے جنوبی افریقہ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، پاکستان ناصر جمشید کو آرام کا موقع دے اور آفریدی سے اوپننگ کروائے (تصویر: AFP)

اب دونوں ٹیمیں ابوظہبی میں تیسرے ون ڈے کے لیے تیار ہیں، جہاں میرے خیال میں کوئی بھی فیورٹ نہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ دونوں کے لیے بیٹنگ لمحہ فکریہ ہے۔ میرے لیے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ گریم اسمتھ، اے بی ڈی ولیئرز اور جے پی ڈومنی جیسے کھلاڑی لمبی اننگز نہیں کھیل پا رہے۔ حالانکہ وکٹیں بھی اتنی بری نہیں ہیں۔ یہاں پاکستانی باؤلرز کاکمال دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے پروٹیز بلے بازوں کو مکمل طور پر قابو میں رکھا اور ان پر نفسیاتی دباؤ نظر آیا۔

اب تیسرے ایک روزہ میں ہاشم آملہ کی واپسی سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس میچ میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ مختلف حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گا اور اس کے بلے باز وکٹ پر رکیں گے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ اسکور بورڈ کو متحرک رکھیں، چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی، اور درمیان میں اکا دکا باؤنڈریز کے ذریعے اپنے رن اوسط کو بہتر بنائیں۔

گو کہ ہاشم کے علاوہ تیسرے ون ڈے سے ڈیل اسٹین بھی جنوبی افریقہ کے اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔ بلاشبہ وہ دنیا کے نمبر ایک باؤلر ہیں لیکن متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر ہوسکتا ہے وہ زیادہ کارگر ثابت نہ ہو۔ ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستانی بلے باز انہیں کیسے کھیلتے ہیں۔ اگر وہ اگلے قدموں پر کھیلے تو اسٹین کی ہمت جلد ہی ٹوٹ جائے گی، ورنہ نتیجہ الٹ بھی ہو سکتا ہے۔

البتہ میری نظر میں مورنے مورکل کی گیند کو اضافی باؤنس دینے کی صلاحیت ہمارے بلے بازوں خصوصاً ناصر جمشید اور محمد حفیظ کے لیے مشکلات کھڑی کرے گی۔

ویرنن فلینڈر گو کہ ٹیسٹ کے باؤلر رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ ون ڈے اسکواڈ کا بھی حصہ ہیں۔ وہ گیند کو دونوں جانب گھمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر وہ تیسرے ون ڈے میں کھیلے تو ہمارے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر بلے بازوں کو ان کے خلاف بہت سنبھل کر کھیلنا ہوگا ورنہ نتیجہ پہلے ون ڈے کی طرح دھڑا دھڑ وکٹیں گرنے کی صورت میں نکلے گا۔

اپنے دل کی بات کہوں تو مجھے عمران طاہر کے ہاتھوں پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ ہوتا دیکھ کر سخت غصہ بھی آیا ہے۔ وہ ایک اوسط درجے کا باؤلر ہے، اگر اسے معمولی باؤلر کی حیثیت سے کھیلا جائے تو اس کے خلاف رنز بٹورنا بہت آسان ہے۔ لیکن پاکستانی بلے بازوں نے اسے اعصاب پر سوار کیا تو نتیجہ وکٹیں گرنے کے علاوہ کچھ نہيں ملے گا۔

اس لیے پاکستان کو ایک اچھی حکمت عملی بنانی پڑے گی خصوصاً مصباح الحق کو اوپر آنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ایک بڑا اسکور بنا سکے۔دوسری جانب عمر اکمل اپنی صلاحیتوں سے انصاف کریں اور اسد شفیق اپنے خوف کو کم کریں تو بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر اسد شفیق کو کھلایا گیا تو میرے خیال میں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگی۔

ناصر جمشید مستقل ناکام ہو رہے ہيں اور اگر انہیں آرام کا موقع دے کر شاہد آفریدی سے اوپننگ کروالی جائے اور مڈل آرڈر میں صہیب مقصود کو موقع دیا جائے تو میرے خیال میں بلے بازی میں بہت اچھی حکمت عملی ہوگی۔

باؤلرز میں محمد عرفان، سعید اجمل اور شاہد آفریدی کی جانب سے حریف بلے بازوں پر بنائے گئے دباؤ کا فائدہ محمد حفیظ یا وہاب ریاض کو اٹھانا ہوگا، تب جا کر ہی سیریز میں برتری قائم ہوگی بصورت دیگر پاکستان کو ان کے 20 اوورز مہنگے پڑ سکتے ہیں۔

میری دعا ہے اور خواہش یہی ہے کہ پاکستان سیریز میں برتری حاصل کرے۔ دیکھتے ہیں کہ کل کے میچ میں کیا ہوتا ہے؟ لیکن حقیقت یہ یہے کہ جیتے گا وہی جو اچھا کھیلے گا۔

Facebook Comments