پانچ سال بعد بنگلہ دیش میں نیوزی لینڈ کی پہلی فتح، واحد ٹی ٹوئنٹی میں کامیابی

ایک روزہ سیریز میں 2010ء کا 'ڈراؤنا خواب' ایک مرتبہ پھر نظر آنے کے باوجود نیوزی لینڈ نے ہمت نہیں ہاری اور واحد ٹی ٹوئنٹی میں سخت مقابلے کے بعد بنگلہ دیش کو 15 رنز سے زیر کرلیا۔ 205 رنز کا بھاری بھرکم ہدف بنگلہ دیش کو زیر کرنے کے لیے کافی ٹھہرا خصوصاً ابتداء ہی میں 4 وکٹیں گرنا اس کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔

کولن مونرو نے دن کی سب سے عمدہ اننگز کھیلی، 39 گیندوں پر 73 ناقابل شکست رنز (تصویر: AFP)

کولن مونرو نے دن کی سب سے عمدہ اننگز کھیلی، 39 گیندوں پر 73 ناقابل شکست رنز (تصویر: AFP)

ڈھاکہ کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں برینڈن میک کولم کی عدم موجودگی میں قیادت کے فرائض ایک مرتبہ پھر کائل ملز نے انجام دیے جنہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور اوپنرز انتون ڈیوکچ اور ہمیش ردرفرڈ نے شاندار کارکردگی کے ذریعے اس فیصلے کو درست ثابت کرد کھایا۔ صرف 7 اوورز میں 73 رنز کی شراکت داری میں ردرفرڈ کا حصہ صرف 17 رنز کا تھا یعنی کہ تمام تر کمال دوسرے اینڈ پر کھڑے ڈیبیوٹنٹ ڈیوکچ نے دکھایا۔ انہوں نے 31 گیندوں پر 10 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 59 شاندار رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کی فتح کی بنیاد رکھی۔

البتہ نصف اوورز کی تکمیل سے پہلے ہی بنگلہ دیش پے در پے ردرفرڈ اور ڈیوکچ کی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن سکون آج میزبان کے نصیب میں نہیں تھاکیونکہ اس کے بعد روز ٹیلر اور کولن مونرو نے دن کی سب سے بڑی یعنی 93 رنز کی شراکت داری قائم کی، وہ بھی صرف 49 گیندوں پر۔ کولن مونرو نے واقعتاً بنگلہ دیشی باؤلرز کے چھکے چھڑا دیے۔ صرف 39 گیندوں پر 5 چھکوں اور 3 چوکوں سے مزین 73 رنز کی ناقابل شکست اننگز بنگلہ دیش کے اوسان خطا کردینے کے لیے کافی تھی۔ تجربہ کار ٹیلر نے 28 رنز اور بعد ازاں کوری اینڈرسن نے 18 رنز کے ساتھ ان کا ساتھ دیا۔

مقررہ 20 اوورز کی تکمیل پر نیوزی لینڈ کا اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 204 رنز تھا جو بنگلہ دیشی سرزمین پر سب سے بڑا ٹی ٹوئنٹی مجموعہ تھا۔

بنگلہ دیش کے تمام ہی باؤلرز آج بری طرح ناکام رہے۔ سب سے کم رنز کھانے والے الامین حسین نے بھی 4 اوورز میں 31 رنز دیے اور سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ اسٹرائیک باؤلر مشرفی مرتضیٰ کو 4 اوورز میں 46 اور سہاگ غازی کو 3 اوورز میں 30 رنز کی مار پڑی۔ البتہ سہاگ کو ایک وکٹ ضرور ملی۔ ایک، ایک وکٹ عبد الرزاق اور ضیاء الرحمٰن نےبھی حاصل کی۔

جواب میں بنگلہ دیش نے ایک بڑے ہدف کا تعاقب جس بھیانک انداز میں کیا، وہ اس کو شکست دینے کے لیے کافی تھا۔ پہلے ہی اوور میں اوپنرز شمس الرحمٰن اور ضیاء الرحمٰن اپنی وکٹیں ٹم ساؤتھی کو دے کر چلتے بنے جبکہ دوسرے اوور میں مومن الحق کا مچل میک کلیناہن کے ہاتھوں آؤٹ ہونا اننگز کو پٹڑی سے اتار گیا۔ بعد ازاں کپتان مشفق الرحیم نے نعیم اسلام اور ناصر حسین کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا دیا اور ہدف کو قابل حصول بنایا لیکن صرف 29 گیندوں پر اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری بناتے ہی مشفق آؤٹ ہوگئے اور یہ وکٹ بنگلہ دیش کو بہت مہنگی پڑ گئی۔ اگلے ہی اوور میں 'مرد بحران' ناصر حسین بھی ناتھن میک کولم کی گیند پر انہی کو کیچ تھما گئے۔

آخر میں محمود اللہ 34 اور سہاگ غازی 24 رنز نے قابل ذکر مزاحمت کی البتہ بڑھتے ہوئے رن اوسط پر قابو پانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ دونوں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود 20 اوورز کی تکمیل تک بنگلہ دیش کا اسکور 189 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچ پایا۔

اس کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کے دورۂ بنگلہ دیش کا اختتام ہوا، جو ہر لحاظ سے ان کے لیے ایک ناکام دورہ رہا۔ ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ناکامی اور پھر ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کے بعد واحد ٹی ٹوئنٹی میں فتح ہی نیوزی لینڈ کے لیے سکھ کا سانس ثابت ہوئی لیکن دورے میں دکھائی گئی مجموعی کارکردگی نیوزی لینڈ کے کرکٹ سیٹ اپ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی متقاضی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نیوزی لینڈ کی بنگلہ دیش کے خلاف بنگلہ دیش میں 2008ء کے بعد پہلی فتح ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اسٹیفن فلیمنگ کے بعد سے کس بحران کا شکار ہے۔

Facebook Comments