ویلکم...’’شیرا‘‘!!

کیرئیر کی پہلی کامیابی ہر کسی کو ہمیشہ یاد رہتی ہے یا پیشہ ورانہ زندگی کا پہلاخاص واقعہ بھی ذہن پر نقش ہوکر رہ جاتا ہے۔کرکٹ پر لکھنے کا سلسلہ کافی پرانا ہے لیکن پہلی مرتبہ کسی کرکٹر کا باقاعدہ انٹرویو کرنا مجھے پرجوش کردینے کے لیے کافی تھااور پہلی مرتبہ جس کھلاڑی کا انٹرویو کرنے کا اتفاق ہوا وہ خانیوال کا ’’شیرا‘‘یعنی طویل القامت فاسٹ بالر شبیر احمد تھا۔

شبیر احمد وقتا فوقتا کرک نامہ کے لیے "فل لینتھ" کے عنوان سے کالمز لکھیں گے (تصویر: AFP)

شبیر احمد وقتا فوقتا کرک نامہ کے لیے "فل لینتھ" کے عنوان سے کالمز لکھیں گے (تصویر: AFP)

لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں ایک جوس کی دکان پر انٹرویو کا مرحلہ طے ہوا جس میں شبیر احمد کے ساتھ ان کے کزن بھی موجود ہے۔اُن دنوں شبیر احمد قومی ٹیم سے باہر تھے اور مایوسی کے ان دنوں میں شبیر نے پاکستان کرکٹ سے ناطے توڑ کر انڈین کرکٹ لیگ سے اپنا رابطہ استوار کرلیا تھا اور یوں پاکستان کرکٹ سے مزید دور ہوگئے تھے۔ آئی سی ایل کے لیے بھارت روانگی سے کچھ گھنٹے پہلے دیے گئے اس انٹرویو میں شبیر احمد نے خانیوال میں اپنی کرکٹ کے آغاز سے لے کر مشکوک باؤلنگ ایکشن کے الزام پر پابندی کا شکار ہونے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے فرسودہ نظام کی دھجیاں اڑانے تک کھل کر اپنے خیالات کا اظہار ہوا اور اسی انٹرویو میں ’’شیرا‘‘ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کرکٹ کا آغاز بیٹسمین کی حیثیت سے کیا لیکن مسعود انوار کے کہنے پر شبیر نے فاسٹ باؤلر بننے کی ٹھان لی اور کم ہی عرصے میں خود کو پاکستانی ٹیم تک پہنچادیا۔

جس طرح ساڑھے چھ سال پہلے شبیر احمد نے بلے باز کی حیثیت سے کرکٹ شروع کرنے کا انکشاف کیا تھا بالکل اسی طرح اب اچانک یہ انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کے لیے تیز ترین 50 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے فاسٹ بالر شبیر احمد نے کرک نامہ کے لیے لکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کرک نامہ کے قارئین گاہے بگاہے شبیر احمد کی تحریروں سے مستفید ہوسکیں گے۔ لکھاری برادری میں شمولیت پر میں شبیر احمد کو خوش آمدید کہوں گا۔

کرک نامہ کے لیے شبیر کا پہلا کالم اچھا تھا جنہوں نے ایک اچھے انداز سے تیسرے ون ڈے سے قبل اپنا جائزہ پیش کیا تھا ۔شبیر کا پہلا کالم واقعی ’’فل لینتھ‘‘ پر تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے کالموں میں بھی اِن سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ لانا ہوگی جبکہ میں امید کرسکتا ہوں کہ بیٹسمین کے سامنے سے اُٹھ کر سینے کا رخ کرنے والی ’’شیرا‘‘ کی گیندوں کا لطف ان کی تحریر میں بھی محسوس کیا جائے گا۔

جن لوگوں کو شبیر احمد کا ون ڈے ڈیبیو یاد ہے وہ آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ ساڑھے 6 فٹ کے فاسٹ باؤلر کی حقیقی رفتار اور غیر معمولی اچھال کے سامنے ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین ہراساں دکھائی دیے اور دور حاضر کے سب سے جارح مزاج بیٹسمین کرس گیل پہلی ہی گیند پر شبیر کے ہاتھوں بولڈہوگئے تھے جنہوں نے ون ڈے ڈیبیو پر تین وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ 2004ء میں بھارت کے خلاف پشاور میں سچن ٹنڈولکر کو صفر پر آؤٹ کرنا بھی شبیر احمد کی کامیابیوں میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

10ٹیسٹ میچز میں 23.03ء کی اوسط سے 51وکٹیں لینے شبیر احمد کو کرکٹ کے میدانوں میں سلیکشن کمیٹیوں اور کرکٹ بورڈ کی زیادتیوں کا نشانہ بننا پڑا ہے لیکن اب قلم پکڑ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے شبیر احمد کو اس میدان میں کسی ناانصافی کا شکار نہیں ہونے پڑا گا۔ شبیر احمد نے کھلاڑی کی حیثیت سے جو کچھ کیا اس پر ’’ویل ڈن...شبیر‘‘ ہی کہا جاسکتا ہے لیکن لکھاری برادی میں شبیر احمد کی شمولیت پر میں صرف یہی کہوں گا کہ ’’ویلکم...شیرا‘‘

Facebook Comments