ہیرو: صہیب مقصود، ولن: محمد حفیظ اور کالی بلی

پاک-جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز کا فیصلہ محض 4 مقابلوں ہی میں ہوگیا۔ پاکستان پہلے اور چوتھے ون ڈے میچ میں 'دوچار ہاتھ جب لب بام رہ گیا' کے مصداق شکست سے دوچار ہوا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید سیریز کا نتیجہ الٹ ہوتا یعنی 4 مقابلوں کے بعد 3-1 سے پاکستان کے حق میں ہوتی۔ البتہ چوتھے ون ڈے میں شکست اور سیریز کا نتیجہ ظاہر ہونے کے بعد اس مقابلے کی دو شخصیات شائقین کرکٹ کا موضوع بحث ہیں، ایک ڈیبیو کرنے والے صہیب مقصود اور دوسرے "پروفیسر" محمد حفیظ! شائقین نے محمد حفیظ اور "کالی بلی" کو چوتھے ایک روزہ مقابلے کا "ولن" قرار دیا جبکہ صہیب مقصود کو "ہیرو" کا درجہ دیا۔

black-cat

یہ محمد حفیظ کے کیریئر کا غالباً بدترین مقابلہ ہوگا۔ ابتداء سے لے کر آخر تک وہ ناکامیاں ہی سمیٹتے رہے۔ سب سے پہلے انہوں نے جنوبی افریقی اوپنر کوئنٹن ڈی کوک کا سلپ میں آسان کیچ چھوڑا جو بعد ازاں سنچری داغ گئے۔ ان کا ہر شاٹ محمد حفیظ کے زخموں پر نمک چھڑکتا گیا یہاں تک کہ چھکے کے ذریعے سنچری کی تکمیل نے نائب کپتان کے حوصلے توڑ دیے۔ جب بلے بازی کی باری آئی تو "پروفیسر" سے ایک بڑی اننگز کی ضرورت تھی لیکن وہ 60 گیندوں پر 33 رنز کی مایوس کن باری کھیل کر خود تو بری طرح کلین بولڈ ہوئے ہی، لیکن اس سے قبل دوسرے اینڈ پر جم کر کھیلنے والے احمد شہزاد کو رن آؤٹ بھی کراگئے۔

اب "ہیرو" کی کہانی سنیے۔ صہیب مقصود سخت تناؤکی صورتحال میں میدان میں اترے۔ پہلا ون ڈے کھیلنے کا دباؤ اپنی جگہ لیکن پے در پے پاکستان کی تین وکٹیں گرنے نے ہدف کے کامیابی سے تعاقب کی امیدوں پر اچھا خاصا پانی پھیر دیا تھا۔ اس صورتحال میں انہوں نے نہ صرف کھیلا بلکہ بہت ہی پراعتماد اور جراتمندانہ انداز میں بیٹنگ کی۔ جنوبی افریقہ کے جو باؤلر پاکستان کے بلے بازوں پر حاوی دکھائی دے رہے ہیں، ان کو تو صہیب نے خوب آڑے ہاتھوں لیا، خصوصاً لونوابو سوٹسوبے اور عمران طاہر کو۔ ان کی اننگز 54 گیندوں پر 56 رنز بنانے کے بعد اس وقت مکمل ہوئی جب جنوبی افریقی کپتان ابراہم ڈی ولیئرز معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنے سب سے اہم باؤلر ڈیل اسٹین کو لے آئے۔ جن کی گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش صہیب کو مہنگی پڑ گئی۔ ان کے آؤٹ ہونے پر جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے جس طرح جشن منایا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروٹیز سمجھ گئے تھے کہ صہیب کی وکٹ کی اہمیت کتنی ہے۔

اننگز کے آخری لمحات میں جب مقابلہ برابری کی بنیاد پر آ گیا تھا تو ایک اور "ولن" نے میدان میں انٹری دی۔ جو وہی "المشہور" کالی بلی، جس کا دیدار نہ صرف میدان میں لگی بڑی اسکرین کے ذریعے کھلاڑیوں اور تماشائیوں نے کیا بلکہ دنیا بھر میں میچ دیکھنے والے کرکٹ پرستار بھی اس سے واقف ہوئے۔ جب پہلی بار نظر آئی تو جنوبی افریقی کمنٹیٹر نے اسی وقت کہا کہ یہ کس ٹیم کے لیے بدشگونی ثابت ہوگی؟ قرعہ فال پاکستان کے نام نکلا!

Facebook Comments