انگلش اور لنکن شیر آج آخری کوارٹر فائنل میں مدمقابل

عالمی کپ 2011ء کا چوتھا اور آخری کوارٹر فائنل آج میزبان سری لنکا اور انگلستان کے مابین کولمبو میں کھیلا جائے گا۔

انگلستان چار عالمی کپ ٹورنامنٹس کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا ہے۔آخری مرتبہ 1996ء کے عالمی کپ کا کوارٹر فائنل کھیلا تھا جس میں اسے سری لنکا ہی نے زیر کر کے ٹورنامنٹ سے باہر کیا تھا۔

گروپ 'بی' میں انگلستان کے تمام انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ اسے دو اپ سیٹ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ایک آئرلینڈ کے خلاف اور ایک بنگلہ دیش کے خلاف۔ البتہ بھارت کے خلاف میچ ٹائی کرنے اور جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار فتح نے اس کی اگلے مرحلے تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔ اس عالمی کپ ٹورنامنٹ میں ان کے حوصلوں کا اتنا امتحان ہو چکا ہے اور لگتا ہے کہ وہ اس بھٹی میں کندن بن گئے ہوں گے۔ لیکن ابھی چند منزلیں باقی ہیں۔ کوارٹر فائنل میں سری لنکا کے خلاف فتح کی صورت میں ان کا مقابلہ 29 مارچ کو کولمبو کے اسی میدان میں نیوزی لینڈ سے ہو سکتا ہے جو سب سے فیورٹ ٹیم جنوبی افریقہ کو حیران کن شکست دے کر فائنل فور میں پہنچا ہے۔

دوسری جانب سری لنکا نے اس ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسے صرف پاکستان کے خلاف شکست کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ آسٹریلیا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ بقیہ تمام میچز میں اس نے فتوحات حاصل کی ہیں۔ سیمی فائنل میں پہنچنے والے نیوزی لینڈ کے خلاف بھی اس نے با آسانی مقابلہ جیتا۔

اپنے کیریئر کے آخری لمحات گزارنے والے مرلی دھرن آج اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

آج بلاشبہ سری لنکا زیادہ فیورٹ ہے کیونکہ لنکن شیروں کو ان کی سرزمین پر شکست دینا سب سے مشکل چیلنج ہے جبکہ ان کی حالیہ فارم اور عالمی کپ میں کارکردگی بھی انگلستان سے کہیں بہتر ہے۔ سری لنکا جو 2007ء میں ہونے والے عالمی کپ کا رنر اپ ہے، کپتان کمار سنگاکارا کی فارم اور اسپن مثلث کا سہارا ہوگا اور یہی اس کی فتح میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ متیاہ مرلی دھرن جو اپنا آخری عالمی کپ کھیل رہے ہیں، نے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اگر وہ اسے دہرانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ سری لنکا کو سیمی فائنل مرحلے میں پہنچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ادھر کولمبو کی اسپنرز کے لیے مددگار پچ پر انکلستان کا دارومدار گریم سوان کا بڑا سہارا ہوگا۔ لیکن اس ٹورنامنٹ اس کا سب سے بڑا مسئلہ اہم کھلاڑیوں کا ان فٹ ہونا رہا ہے۔ ان فارم کیون پیٹرسن ہرنیا کے مسئلے کے باعث وطن لوٹ گئے تو پیس اٹیک کے اہم رکن اسٹورٹ براڈ پہلو میں تناؤ کاشکار ہوئے۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے اجمل شہزاد ران کے پٹھے چڑھ جانے کے باعث اور مائیکل یارڈی ذہنی تناؤ کا شکار ہو وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ ان چار اہم کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں انگلستان کے لیے اپنی عالمی کپ کی مہم کو درست سمت میں گامزن رکھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان کا never-say-die رویہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اسی کے بل بوتے پر انہوں نے گروپ مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

اگر کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم کی پچ کا جائزہ لیاجائے تو وہ ہمیشہ کی طرح ہموار ہے اور کسی حد تک اسپنرز کے لیے مددگار ہوگی۔

عالمی کپ کی تاریخ میں انگلستان اور سری لنکا 8 مرتبہ آمنے سامنے آئے ہیں۔ ابتداء میں سری لنکا کی کمزور ٹیم کے خلاف 1979ء اور 1992ء کے درمیان انگلستان نے پانچ فتوحات حاصل کیں لیکن اس کے بعد کھیلے جانے والے تین میں سے صرف دو میچز ہی میں اسے کامیابی ملی۔

مجموعی طور پر دونوں ٹیمیں 44 مرتبہ ایک دوسرے کے سامنے آئی ہیں جن میں سے 23 انگلستان اور 21 سری لنکا نفے جیتے ہیں۔ 2006ء سے اب تک ہونے والے 12 مقابلوں میں سری لنکا نے 8 جیتے ہیں۔

Facebook Comments