[باؤنسرز] مصباح ‪…‬ اب بس کردو!

جنوبی افریقہ نے آخری ون ڈے میں ڈیل اسٹین، مورنے مورکل اور عمران طاہر کو آرام کرواکر پاکستانی بیٹنگ لائن کو ساکھ بحال کرنے کا موقع فراہم کیا تھا مگر گرین شرٹس نے اس میچ میں سب سے خراب بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھی شکست کو گلے لگاکر ثابت کیا کہ پہلی تین شکستوں کا سبب پروٹیز کی عمدہ باؤلنگ سے زیادہ پاکستان کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ تھی جس نے آخری میچ میں تین اہم باؤلرز کی عدم موجودگی کے باوجود اپنی "کارکردگی" کا "تسلسل" برقرار رکھا۔

سیریز کے دوران سینئر کھلاڑیوں کی آپسی چپقلش واضح نظر آئی (تصویر: Cricnama)

سیریز کے دوران سینئر کھلاڑیوں کی آپسی چپقلش واضح نظر آئی (تصویر: Cricnama)

محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کا اس سیریز میں ناکام ہونا معنی خیز ہے خاص طور پر شاہد آفریدی نے جس لاپرواہی سے اپنی وکٹ گنوائی، اس پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ مصباح الحق کے بعد ٹیم کے دونوں سینئر کھلاڑیوں نے اس سیریز میں اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا ثبوت نہیں دیا ۔شاہد آفریدی کی باؤلنگ میں بہتری نظر آئی تو ان کی بیٹنگ مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ دوسرے ون ڈے میں تین وکٹوں کے ساتھ 26رنز بنا کر شاہد آفریدی نے مین آف دی میچ کا ایوارڈ ضرور حاصل کیا لیکن پہلے اورآخری ون ڈے میں نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ جبکہ چوتھے میچ میں ایک غیر ضروری رن لیتے ہوئے اپنی وکٹ گنوا دی۔ عمر اکمل کی کارکردگی بھی واجبی سی رہی جبکہ نوجوان بیٹسمین عمر امین،ناصر جمشید اور اسد شفیق ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔

کپتان مصباح الحق پچھلی کئی سیریزوں سے تن تنہا اچھی اننگز کھیل کر ٹیم کو شکستوں سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔جنوبی افریقہ کے دورے پر پاکستانی ٹیم 3‪-‬2 کے مارجن سے سیریز ہاری تھی مگر اس سیریز میں ملنے والی دونوں فتوحات مصباح الحق کی عمدہ بیٹنگ کی مرہون منت تھیں جس کے بعد چاہے چمپئنز ٹرافی ہو یا ویسٹ انڈیز کا ٹور مصباح الحق نے اپنی بیٹنگ سے شکستوں کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں محسوس ہوا کہ شاید اب مصباح الحق نے بھی ہار مان لی ہے جو نہ باؤلرزکو عقلمندی کے ساتھ باؤلنگ کرنے پر قائل کرسکے ہیں اور نہ ہی بیٹسمینوں کو ذمہ داری سے کھیلنے کا سبق پڑھا سکےبلکہ سیریز کے دوران سینئرز کی بغاوت بھی صاف دکھائی دینے لگی تھی جس کا ایک مظاہرہ شائقین نے اس وقت دیکھا جب شاہد آفریدی نے کپتان سے مشورہ کیے بغیر ریویو لینے کا فیصلہ کیا اور مجبوری کے عالم میں مصباح کو بھی آفریدی کے فیصلے کا احترام کرنا پڑا کیونکہ میدان کے اندر اگر مصباح "لالا" سے اختلاف کرتے تو پاکستانی میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوسکتا تھا۔

چالیسویں سالگرہ کی طرف بڑھتے ہوئے مصباح الحق مکمل طور پر فٹ ہیں اور پرفارم بھی کررہے ہیں اس لیے وہ ریٹائرمنٹ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ پاکستانی کپتان کا ماننا ہے کہ جب وہ فٹ رہے اور پرفارم کرتے رہے اس وقت تک وہ کھیلتے رہیں گے جبکہ دوسری جانب سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی مصباح الحق کو 2015ء کے ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی کپتانی کرنا ایک منفرد اعزاز ہے اور تین سال پہلے ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور سنبھالنے والے مصباح ابھی تک کسی ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت نہیں کرسکے اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سیریز کی شکست کے بعد امکان ہے کہ شاید آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ سے پہلے ہی مصباح الحق کا بوریا بستر گول کردیا جائے۔ مصباح الحق کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہ کرنا ان کھلاڑیوں کو زچ کررہا ہے جو ہمیشہ کپتانی کے خواہشمند رہتے ہیں اور ورلڈ کپ میں بھی کپتانی کا "آرم بینڈ" پہننا چاہتے ہیں۔

مصباح الحق نے مشکل حالات میں ٹیم کو سنبھالا اور جیت کی راہ پر گامزن کیا لیکن اب حالات مصباح الحق کیلئے مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر کا قومی ٹیم پر اثر بہت زیادہ بڑھنا شروع ہوگیا ہے اور عنقریب کوچ ڈیو واٹمور کی چھٹی ہونے والی ہے جو خود بھی اب پاکستانی ٹیم میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا لیکن واٹمور کے بعد برطرفی کی تلوار مصباح الحق پر چلے گی جسے کپتان کی حیثیت سے ناکام کرنے کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔ جنوبی افریقہ کا جوابی دورہ "نمٹا" کر مصباح الحق کو ایک طرف ہوجانا چاہیے کیونکہ کپتان کو ناکام کرنے کے "گندے کھیل" کا آغاز ہوچکا ہے۔مصباح الحق نے پہلے بھی پاکستان کرکٹ کے مفاد میں کپتانی قبول کی تھی اور اب اپنے "ساتھیوں" کے مفاد میں مصباح کو کپتانی چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ مصباح کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم شاید اب مزید فتوحات حاصل نہ کرپائے!!

Facebook Comments