گیدڑ کہنے والو! تمہارے شیروں سے اچھا ہوں: مصباح

جنوبی افریقہ کے خلاف کراری شکست نے پاکستان کرکٹ کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہیڈ کوچ کے عہدے کا تو خاتمہ ہوا ہی ساتھ میں قائد کی کپتانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے لیکن مصباح اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انہیں قیادت سے نہیں ہٹایا جا رہا۔

مصباح کے بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ٹیم میں سخت اختلافات موجود ہیں (تصویر: BCCI)

مصباح کے بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ٹیم میں سخت اختلافات موجود ہیں (تصویر: BCCI)

وطن واپس آنے کے بعد قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح کاکہنا تھا کہ جب تک کرکٹ کھیل رہا ہوں، لڑتا رہوں گا اور بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ تنہا میدان میں لڑتے ہیں اور کارکردگی بھی دکھاتے ہیں، اگر ایسی کارکردگی کے بعد بھی کوئی مجھے گیدڑ کہہ رہا ہے تو مجھے منظور ہے، میں گیدڑ ہی بھلا، کم ا زکم شیروں کی طرح کارکردگی تو دکھا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کون گیدڑ ہے اور کون شیر؟ عوام جانتے ہیں اور کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔

ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو آج بھی پرانا مرض ہی لاحق ہے یعنی خراب بیٹنگ۔ جب تک بلے باز کارکردگی نہیں دکھاتے اکیلے باؤلرز میچ نہیں جتواسکتے۔

ٹیم سلیکشن کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے مصباح کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اتنے زیادہ نوجوانوں کو بھرپور مواقع دیے لیکن کارکردگی صرف صہیب مقصود نے دکھائی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔

مصباح الحق نے جنوبی افریقہ کے خوف کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں طے پانے والا دورۂ جنوبی افریقہ دونوں ممالک کے بورڈز کے درمیان بہتر تعلقات کا ضامن تو ہوگا لیکن کھلاڑیوں کے لیے ایک پریشان کن دورہ ہوگا، جنہیں ورلڈ کلاس ٹیم کے خلاف پے در پے مقابلے کھیلنے پڑیں گے۔

ٹیسٹ سیریز کی برابری اور ون ڈے میں 4-1 کی بدترین شکست کے بعد اب قومی ٹیم محمد حفیظ کی قیادت میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں جنوبی افریقہ کے مدمقابل ہوگی جس کے فوراً بعد قومی کھلاڑی محدود اوورز کی مختصر سیریز میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ جائیں گے۔ لیکن چند کھلاڑیوں کے حالیہ بیانات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ٹیم میں بڑے پیمانے پر آپسی اخلافات چل رہے ہیں اور ٹیم کی شکست کے اسباب بھی غالباً اسی میں پنہاں ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments