انگلستان کا ہر وار بے کار؛ سری لنکا سیمی فائنل میں پہنچ گیا

کرکٹ کے سب سے بڑے میلے عالمی کپ کا دوسرا دور سری لنکا اور انگلستان کے درمیان چوتھے کوارٹر فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ناک آؤٹ مرحلے کے اس مقابلے میں سری لنکن ٹیم نے 1996ء کی تاریخ دہراتے ہوئے بابائے کرکٹ انگلستان کو ایک بار پھر کوارٹر فائنل میں شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔ پورے عالمی کپ میں سنسنی خیز مقابلوں کے ذریعے شائقین کو دلچسپی کا سامان مہیا کرنے والی انگلستانی ٹیم اس میچ میں آف کلر نظر آئی جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سری لنکا نے اس کی عالمی کپ میں اس کی پیش قدمی کا خاتمہ کردیا۔

پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو میں میچ کی شروعات انگلستانی ٹیم کے قائد اینڈریو اسٹراس نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کے فیصلے سے کی۔ اسٹیڈیم میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تماشائیوں کے سامنے اس بار وہ ایان بیل کے ہمراہ اننگ کا آغاز کرنے وکٹ پر پہنچے جنہوں نے پہلے ہی اوور میں لسیتھ ملنگا کو چوکا رسید کر کے اپنی اننگ کا آغاز کیا۔ انگلستان کو پہلا نقصان 29 کے مجموعی اسکور پر ہوا جب تلکارتنے دلشان نے انگلش قائد (5) کو کلین بولڈ کا مزہ چکھایا۔ اگلے ہی اوور میں ملنگا نے دوسرے انگش اوپنر بیل (25) کو پویلین کی راہ دکھائی۔ یکے بعد دیگرے دو وکٹیں گرنے سے انگلستان کی ٹیم دباؤ میں آگئی تاہم اس نازک گھڑی پر جوناتھن ٹروٹ اور روی بوپارا نے ذمہ دارانہ مگر سست رفتار انداز میں اننگ کو سنبھالا۔ انگلستان کے نقطہ نگاہ سے اہم اس جوڑی کا خاتمہ مرلی دھرن کے ہاتھوں ہوا جنہوں نے بوپارا (31) کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ اس موقع پر ایون مورگن ساتھی کھلاڑی ٹروٹ کی مدد کے لیے کریز پر پہنچے۔ دونوں بلے بازوں نے مجموعی اسکور میں 91 قیمتی رنز کا اضافہ کیا اور اسکور کو 186 تک پہنچا دیا۔

سری لنکن اوپنرز کے سامنے تمام انگلش بالرز بے بس نظر آئے (اے ایف پی)

43 اور 44 ویں اوور میں انگلستان کو بالترتیب مورگن (50) اور گریم سوان (0) کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بیٹنگ پاور پلے کے دوران دو کھلاڑیوں کے نقصان نے انگلستان کو اسکور بورڈ پر بڑا مجموعہ اکٹھا کرنے سے بعض رکھا اور یوں انگلستان کی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں ٹروٹ (86) کی شاندار اننگز کی بدولت 229 رنز بنائے۔ اننگ کے اختتام پر میٹ پرائیر (22) اور لیوک رائٹ (1) کریز پر موجود تھے۔

سری لنکا کی جانب سے مایہ ناز اسپنر مرلی دھرن نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ گیند بازی کے دوران سری لنکا کی فیلڈنگ انتہائی ناقص رہی۔ سری لنکن فیلڈرز نے ابتداء ہی سے کئی اہم کھلاڑیوں کو کئی زندگیاں فراہم کیں۔ رن آؤٹ کرنے کے مواقع ضائع کرنے اور کیچ گرائے جانے کے باعث جوناتھن ٹروٹ، روی بوپارا اور ایون مورگن کو انگلستانی بیٹنگ لائن کو سنبھالنے کا موقع فراہم ملا جو ایک کئی بار شدید دباؤ میں نظر آئی۔

گو کہ انگلستان کی جانب سے 229 رنز کا مجموعہ اس میدان پر نسبتاً کم اسکور تھا تاہم گزشتہ دو مقابلوں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف انگلستان کے کم اسکور کا کامیاب دفاع اور پچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی ٹیم کو میچ کا فیورٹ قرار دینا ممکن نہ تھا۔

سری لنکا کی جانب سے اوپل تھرنگا اور تلکارتنے دلشان نے ہدف کے تعاقب میں اننگ کا آغاز کیا۔ دونوں بلے بازوں نے ابتدائی اوورز میں سست روی سے بیٹنگ کی اور انگلستانی گیند بازوں کی خراب گیندوں کا انتظار کیا۔ اننگ کے چوتھے اوور میں تھرنگا نے گریم سوان کو میچ کا پہلا چھکا رسید کر کے انگلستانی ڈریسنگ روم میں ہلچل مچا دی۔ ساتھی کھلاڑی کی دیکھا دیکھی دلشان نے بھی اگلے اوور میں گریم سوان کو چوکا رسید کیا جس کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کے بلوں سے رنز کو روکنا مزید مشکل ہوگیا۔ دلشان نے 57 گیندوں پر اپنے 50 رنز مکمل کیے تو وہ 1 چھکا اور 5 چوکے لگا چکے تھے۔ دوسری جانب تھرنگا نے بھی اگلے اوور میں اپنے 50 رنز مکمل کیے تو ان کے چوکوں اور چھکوں کی تعداد ساتھی کھلاڑی کی باؤنڈریز کی تعداد کے مساوی تھی۔

شکست کے بعد انگلستانی کھلاڑی عالمی کپ سے خالی ہاتھ وطن لوٹنے پر افسردہ (گیٹی امیجز)

ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی ٹو مینز آرمی کا مقابلہ کرنا اب انگلستانی بالرز کے بس سے باہر ہو چکا تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے عالمی کپ میں دوسری بار 200 سے زائد رنز کا اوپننگ اسٹینڈ فراہم کیا۔ اس دوران دلشان نے اننگ کے 37 ویں اوور میں 2 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے عالمی کپ میں دوسری جبکہ کیریئر کی 10 ویں سنچری مکمل کی۔ ان کے ساتھی اوپنر تھرنگا نے 40 ویں اوور میں میچ کا وننگ اسٹروک کھیلتے ہوئے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی 11 ویں سنچری مکمل کی۔ عالمی کپ میں تھرنگا کی جانب سے بنائی گئی اس دوسری انفرادی سنچری میں 1 چھکا اور 12 چوکے شامل تھے۔ انگلستان کی جانب سے نصف درجن گیند بازوں کو آزمایا گیا تاہم کوئی بھی سری لنکن اوپنرز کے سامنے بندھ نہ باندھ سکا۔

انگلستان کے خلاف سری لنکا کی 10 وکٹوں سے اہم فتح اس کے خطرناک عزائم کا اظہار ہے۔ اس جیت کے بعد سری لنکا اپنا اگلا مقابلہ تیسرے کوارٹر فائنل کی فاتح ٹیم نیوزی لینڈ سے کولمبو کے اسی میدان یعنی پریماداسا اسٹیڈیم ہی میں کھیلے گا۔ عالمی کپ کے فائنل تک رسائی کا یہ پہلا معرکہ 29 فروری کو کھیلا جائے گا۔ سری لنکا کی سیمی فائنل تک رسائی عالمی کپ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جب تین ایشیائی ممالک سری لنکا، پاکستان اور بھارت ایک ساتھ سیمی فائنل کھیلنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

اس سے قبل سری لنکا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے مابین 2007ء کے عالمی کپ کا سیمی فائنل کھیلا گیا جس میں سری لنکا نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ سری لنکا کی ٹیم اب تک 3 بار عالمی کپ کا سیمی فائنل کھیل چکی ہے جس میں سے 2 میں اسے فتح جبکہ ایک میں شکست ہوئی۔ اس تناظر میں نیوزی لینڈ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بلیک کیپس اس معاملے میں بدقسمت ثابت ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے عالمی کپ سے نویں عالمی کپ تک 5 بار سیمی فائنل کھیل چکی ہے لیکن ہر بار اسے شکست کا سامنا ہوا۔ اب دیکھنا ہے کہ آئندہ منگل کو ہونے والا مقابلہ گزشتہ عالمی کپ کے سیمی فائنل کا ایکشن ریپلے ثابت ہوتا ہے یا پھر نیوزی لینڈ کی ٹیم فیورٹ سری لنکا کو شکست دے کر پہلی بار عالمی کپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

میچ کی جھلکیاں
(بشکریہ ای ایس پی این)

Facebook Comments