بدترین کارکرگی کا تسلسل، ٹی ٹوئنٹی میں بھی کراری شکست

کرکٹ ایک اجتماعی کھیل ہے اور اس میں ٹیم کا توازن اور باہمی تعاون بہت ضروری ہے اور اگر ایک مرتبہ بھاری شکست کھانے کے ساتھ یہ توازن بگڑ جائے تو بکھرا ہوا شیرازہ اکٹھا کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ ایک روزہ سیریز میں چار-ایک کی کراری شکست نے پاکستان کو کتنا بے حال کیا؟ اس کا ایک اظہار پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ہوا جہاں صرف 98 رنز بنا پانے والا پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف 9 وکٹوں سے ہار گیا۔ یوں عالمی درجہ بندی میں سرفہرست پوزیشن حاصل کرنے کا 'دیوانے کا خواب' بھی ٹوٹ گیا کیونکہ جنوبی افریقہ ایک-صفر کے ساتھ ناقابل شکست برتری حاصل کر چکا ہے اور پاکستان کو اس پوزیشن کو حاصل کرنے کے لیے دو-صفر کی فتح درکار تھی۔

محمد حفیظ کے لیے دن کا سب سے شرمناک لمحہ، ایک مرتبہ پھر ڈیل اسٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ کے لیے دن کا سب سے شرمناک لمحہ، ایک مرتبہ پھر ڈیل اسٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے (تصویر: AFP)

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا محمد حفیظ کا فیصلہ اپنی دانست میں درست ضرور تھا لیکن اس کے بعد پہلے دو اوورز ہی میں جس طرح پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ بکھری، وہ گزشتہ کئی مقابلوں ہی کا تسلسل دکھائی دیا۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ پہلے اوور میں احمد شہزاد اور دوسرے اوور میں صہیب مقصود اور محمد حفیظ کا آؤٹ ہونا ہی مقابلے کا فیصلہ کر گیا تھا۔ پھر اس صورت میں کہ پاکستان نے 5 آل راؤنڈرز کھلائے تھے، محض 4 رنز پر تین کھلاڑیوں کا آؤٹ ہوجانا پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کا دم خم ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔ جی ہاں! ایک ایسی ٹیم جس کا سب سے بڑا مسئلہ بیٹنگ ہے، آج صرف تین مستند بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتری، دو اوپنرز احمد شہزاد اور صہیب مقصود اور ایک وکٹ کیپر عمر اکمل، باقی 5 یعنی شاہد آفریدی، محمد حفیظ، شعیب ملک، عبد الرزاق اور سہیل تنویر آل راؤنڈرز یعنی اور صرف تین یعنی عبد الرحمٰن، سعید اجمل اور محمد عرفان باؤلرز تھے یعنی 8 باؤلنگ آپشنز۔ اس ٹیم سلیکشن کے ساتھ ایک شکست خوردہ ٹیم کو فتح کی راہ پر ڈالنا ناممکن نہیں تو مشکل امر ضرور تھا۔

پاکستانی اننگز کا سب سے شرمناک لمحہ وہ تھا جب محمد حفیظ 'ایک مرتبہ پھر' ڈیل اسٹین کے ہاتھوں صفر پر آؤٹ ہوئے۔ شاید وہ اسٹین کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے ہی اوپنر کی حیثیت سے نہیں آئے اور صہیب کو بھیجا۔ پہلے ہی اوور میں وکٹ گرنے کے بعد بھی انہوں نے تجربہ کرتے ہوئے شاہد آفریدی کو میدان میں اتارا لیکن جب دو وکٹیں گرگئیں تو انہیں بادل نخواستہ آنا پڑا اور آتے ہی دوسری گیند پر ڈیل اسٹین کے ہاتھوں وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔ یعنی 18 بین الاقوامی مقابلوں میں 12 ویں مرتبہ وہ جنوبی افریقی پیسر کے ہتھے چڑھے۔ ان کے آؤٹ ہونے پر ڈیل اسٹین کا ردعمل دیکھنے کے قابل تھا۔ وہ حفیظ کے قریب آئے اور منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کو چھپانے بلکہ درحقیقت دکھانے کی کوشش کی۔ ہنسنے بلکہ ڈوب مرنے کا مقام!

بہرحال، اس کے بعد سوائے عمر اکمل کے پاکستان کا کوئی بلے باز پروٹیز گیندبازوں کا سامنا نہ کرسکا۔ شاہد آفریدی ایک مرتبہ پھر ایک اٹھتی ہوئی گیند کو دیکھ کر مچل گئے اور کیچ دےچلتے بنے۔ شعیب ملک اور عبد الرزاق، جو ایک عرصے کے بعد ٹیم میں دوبارہ شامل کیے گئے اور ان کے تجربے کے باعث امیدیں بھی وابستہ تھیں، توقعات پر پورا نہ اترے اور بالترتیب 12 اور 10 رنز بنا کر عمر اکمل کو تنہا چھوڑ گئے۔

عمر اکمل نے حالات کے تناظر میں ایک اچھی اننگز کھیلی وہ 41 گیندوں پر 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 49 رنز بنانے کے بعد آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے اور پھر پاکستان کے 20 اوورز 98 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ کے اسکور کے ساتھ مکمل ہوئے۔ یہ جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کا سب سے کم ٹی ٹوئنٹی مجموعہ تھا بلکہ ان میچز میں بھی کم ترین اسکور تھا جن میں پاکستان نے پورے 20 اوورز کھیلے۔

جنوبی افریقہ کے لیے محض 99 رنز کے ہدف کا تعاقب بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، یعنی نوجوان کوئنٹن ڈی کوک کا۔ 20 سال کے اس "بچے" نے صرف 38 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 48 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور پاکستانی بلے بازوں کو باور کرایا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے بالکل سیدھا سادا تھا ، مسئلہ ان کی نفسیات کا ہے۔ کپتان فف 37 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور جنوبی افریقہ کی گرنے والی واحد وکٹ ہاشم آملہ کی تھی جو 13 رنز بنانے کے بعد سہیل تنویر کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔

ڈیل اسٹین کو شاندار باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دوسرا و آخری ٹی ٹوئنٹی 15 نومبر کو دبئی کے اسی میدان پر کھیلا جائے گا جس کے بعد دونوں ٹیمیں ایک مرتبہ پھر جنوبی افریقہ میں محدود اوورز کی ایک مختصر سیریز کھیلیں گی۔

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

پہلا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ

13 نومبر 2013ء

بمقام: دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی

نتیجہ: جنوبی افریقہ 9 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: ڈیل اسٹین

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
احمد شہزاد ک آملہ ب سوٹسوبے 0 5 0 0
صہیب مقصود ک ڈی کوک ب اسٹین 4 4 1 0
شاہد آفریدی ک میک لارن ب سوٹسوبے 10 13 1 0
محمد حفیظ ک ڈی کوک ب اسٹین 0 2 0 0
شعیب ملک اسٹمپ ڈی کوک ب عمران طاہر 12 23 0 0
عمر اکمل رن آؤٹ 49 41 4 1
عبد الرزاق ک ملر ب میک لارن 10 16 1 0
سہیل تنویر اسٹمپ ڈی کوک ب عمران طاہر 0 3 0 0
عبد الرحمٰن ناٹ آؤٹ 7 12 0 0
سعید اجمل ب اسٹین 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 5 6
مجموعہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 98

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
لونوابو سوٹسوبے 4 2 9 2
ڈیل اسٹین 4 0 15 3
راین میک لارن 4 0 29 1
وین پارنیل 4 0 27 0
عمران طاہر 4 0 17 2

 

جنوبی افریقہہدف: 99 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ہاشم آملہ ب سہیل تنویر 13 9 2 0
کوئنٹن ڈی کوک ناٹ آؤٹ 48 38 3 2
فف دو پلیسی ناٹ آؤٹ 37 40 4 1
فاضل رنز ل ب 1 1
مجموعہ 14.3 اوورز میں 1 وکٹ کے نقصان پر 99

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 3 0 24 0
محمد عرفان 2 0 7 0
سہیل تنویر 2 0 21 1
سعید اجمل 4 0 12 0
شاہد آفریدی 2.3 0 16 0
عبد الرحمٰن 1 0 18 0

Facebook Comments