[فل لینتھ] کرکٹ کو بچانا ہے تو ٹی ٹوئنٹی کپتان بدلنا ہوگا

متحدہ عرب امارات کی سخت گرمیوں سے بھی زیادہ پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی سخت ثابت ہوئی۔ تپتی دھوپ نے کھلاڑیوں کو اتنا نہیں جھلسایا ہوگا جتنا ان کی کارکردگی نے شائقین کو تپا دیا ہے۔ کوئی الفاظ نہیں کہ اس دورے کے بارے میں کیا کہوں؟ صرف یہی کہ اب سینئرز کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرلینا چاہیے نا کہ ٹیم پر بوجھ بننے ک ےبعد پرستار بھی ان کے کیریئر کے خاتمے کی صدائیں بلند کرنے لگیں۔

محمد حفیظ سے بہتر کپتانی سعید اجمل کر سکتے ہیں  (تصویر: AP)

محمد حفیظ سے بہتر کپتانی سعید اجمل کر سکتے ہیں (تصویر: AP)

سب سے پہلے بات کرتے ہیں حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی کیونکہ ہمارا اگلا ہدف بھی اسی طرز کی کرکٹ میں اسی حریف کے ساتھ نئے مقام پر سامنا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فارمیٹ میں پاکستان دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل ہے لیکن رینکنگز میں تنزلی میں ٹیم سے زیادہ قصور اس کے کپتان کا ہے، جو تمام طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے لیے ایک میچ ونر کھلاڑی ثابت نہیں ہوا بلکہ انجانی قوتوں کے بل بوتے پر نہ صرف ٹیم پر بوجھ بنا ہوا ہے بلکہ قیادت کا سہرا بھی اپنے سر پر سجائے بیٹھا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اگر کرکٹ بچانی ہے اور بنگلہ دیش میں ہونے والا اگلا بڑا ایونٹ یعنی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آگے بڑھنا ہے تو اسے فوری طور پر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان کو بدلنا ہوگا۔

فی الوقت موجودہ ٹیم میں کپتانی کا کوئی امیدوار نظر نہیں آ رہا کیونکہ جو تجربے کی آڑ لے کر ٹیم میں آئے، کن کے کھلائے گئے گل سب کے سامنے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ہم بھی دیگر ٹیموں کی طرح نئے آپشنز پر غور کریں۔ میرے خیال میں تو محمد حفیظ سے بہتر کپتانی سعید اجمل کر سکتے ہیں۔ محمد حفیظ کو مشورہ ہے کہ وہ پروفیسری جھاڑنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر دھیان دیں تاکہ میچ ونر نہ سہی لیکن کم از کم اوسط درجے کے کھلاڑی تو بن جائیں۔

بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ محمد حفیظ ایک دو وکٹیں لے لیتے ہیں تو ٹیم کے لیے سودمند ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنی وکٹ جلدی گنوا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیم آغاز ہی سے دباؤ میں آ جاتی ہے اور نتیجہ پاکستان کی شکست کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خیرخواہ انہیں بطور آل راؤنڈر نچلے نمبروں پر کھلا سکتے ہیں تو ٹیم میں ضرور شامل کروائیں لیکن انہیں ٹیم پر مسلط نہ کریں۔

عبد الرزاق خود اپنے ساتھ اور ٹیم کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔ ہر کھلاڑی کا ایک وقت ہوتا ہے جس میں وہ ٹیم کے لیے کارگر ہوتا ہے اور 2006ء کے دورۂ انگلستان ہی میں پتہ چل گیا تھا کہ اب ان کی بین الاقوامی کرکٹ ختم ہونے لگی ہے۔ ایک جوانی ہوتی ہے، جوش اور ولولہ ہوتا ہے اور توانائی ہوتی ہے، وہ بلاشبہ بہت بڑے کھلاڑی تھے لیکن اب انہیں سخت فیصلہ کرلینا چاہیے کہ پرستاروں کے ذہن میں ان کا اچھا امیج مزید خراب نہ ہو۔

شعیب ملک ایک باصلاحیت کھلاڑي ہے لیکن وہ کرکٹ سے زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتا۔ اگر وہ کرکٹ کو کیریئر کے طور پر جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے پرانا جنون واپس لانا ہوگا ورنہ وہ ٹیم پر لدے ہوئے بوجھ میں ایک اور اضافہ بن کر رہے گا۔

قلم کی نوک کے ذریعے بہت سی حقیقتیں رقم کرنا چاہتا ہوں لیکن ملکی عزت کے ساتھ ساتھ ان کھلاڑیوں کی عزت بھی مجھے عزیز ہے جو ماضی میں میرے روم میٹ رہے ہیں اور آج بھی میرے دوست ہیں۔ جو اوپر لکھا وہ دوستی سے آگے جا کر بطور محبت وطن اور کرکٹ کو چاہنے والے کی حیثیت سے لکھا کیونکہ یہ سب اب قومی کرکٹ کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments