مصباح کا تازہ انٹرویو، اک نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا

مصباح الحق کے تازہ ترین انٹرویو نے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا ہے کیونکہ قومی ٹیم کی حالیہ شکستوں کے اسباب بیان کرنے کے لیے اک ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا، جہاں قومی ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان کا انٹرویو لینے والے شخص کوئی اور نہیں، خود پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ تھا۔

میں کیا کروں؟ آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ بیٹنگ کرنے خود چلا جاؤں؟ (تصویر: Getty Images)

میں کیا کروں؟ آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ بیٹنگ کرنے خود چلا جاؤں؟ (تصویر: Getty Images)

پاکستان کے معروف نجی ٹیلی وژن چینل جیو نیوز پر "آپس کی بات" نامی پروگرام کرنے والے نجم سیٹھی نے گزشتہ روز اپنے ہی "ادارے" میں "کام" کرنے والے مصباح الحق کو مہمان کی حیثیت سے طلب کیا اور پاک-جنوبی افریقہ سیریز میں قومی ٹیم کی شکست اور اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر جوابات طلب کیے۔

ویسے اگر چیئرمین پی سی بی کے "دو عہدوں" کی قباحت کو ہٹا دیا جائے تو بلاشبہ یہ بہت اچھا انٹرویو تھا جس میں مصباح نے حالیہ سیریز میں شکست کے حوالے سے منیب فاروق اور نجم سیٹھی کے نرم و گرم سوالات کے بخوبی جوابات دیے اور اپنے تمام ناقدین کی آراء کو یکسر مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پے در پے شکستوں کے بعد ٹیم خصوصاً بیٹسمین اپنا اعتماد کھو چکے ہیں اور جیسے ہی چند فتوحات کے ساتھ یہ اعتماد بحال ہوگا، پاکستان ایک مرتبہ پھر فتوحات کی راہ پر گامزن ہوگا۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ 2011ء کے بعد پاکستان نے مختلف مقامات پر سری لنکا، انگلستان، ویسٹ انڈیز اور بھارت کو شکست سے دوچار کیا اور یہ صرف سال 2013ء ہی ہے جس میں ٹیم فتوحات حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے اور ناکامی کی اس دلدل سے نکالنے کے لیے ٹیم انتظامیہ اور میں کوششیں کر رہے ہیں، فی الوقت تو وہ کامیاب نہیں ہو رہیں لیکن وقت آئے گا کہ یہی کھلاڑی کارکردگی دکھائیں گے۔

مصباح الحق نے کہا کہ مجھ پر تنقید کرنے والے رواں سال ایک روزہ مقابلوں میں میرے رنز کی تعداد دیکھ لیں جو دنیا بھر کے تمام بلے بازوں سے زیادہ ہے۔ اور جہاں تک اسٹرائیک ریٹ کا معاملہ ہے وہ بھی ویسا ہی جیسا کہ عام طور پر بلے بازوں کا ہوتا ہے یعنی 70 سے 80 کے درمیان۔

انہوں نے کہا کہ 10 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوں گے تو مجھے حالات کے مطابق ہی کھیلنا ہوگا جبکہ حالت یہ ہے کہ میں اسکور 30 سے 230 تک پہنچا دوں تو پھر بھی ٹیم 235 رنز پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ بیٹنگ لائن اپ کا تو یہ حال ہے کہ وہ 20 اوورز کے میچ میں بھی آل آؤٹ ہو جاتی ہے، میرا معاملہ تو پھر بھی ون ڈے میچزکا ہے۔ مصباح کا کہنا تھا کہ ٹیم کے دیگر بلے بازوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، میں کیا کروں؟ کیا آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ بیٹنگ کرنے چلا جاؤں؟

پروگرام کے دوران "وزن برابر کرنےکے لیے" نجم سیٹھی سے بھی چند سوالات کیے گئے جن میں پاک-لنکا سیریز کے نشریاتی حقوق کا سوال سب سے اہم تھا جس کو نجم سیٹھی صاحب نے کچھ یوں گھمایا کہ نشریاتی معاملے پر اعتراض عمران خان نے اٹھایا تھا، جبکہ ہم نے اس کام کے لیے جس شخص کا انتخاب کیا وہ وہی ہے جو عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا رکن ہے یعنی احسان مانی۔ جب عمران خان ان کی ایمانداری پر اتنا بھروسہ کر سکتے ہیں تو ہم نے بھروسہ کرلیا تو کیا برا کیا؟ اپنی دانست میں تو انہوں نے اس سوال کا بہت اچھا جواب دیا لیکن تسلی بخش ہرگز نہیں تھا۔

اس طویل انٹرویو کا مزا اپنی جگہ لیکن کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے نجم سیٹھی کو یہ انٹرویو لینا چاہیے تھا یا نہیں، اس حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں اور ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آ رہا۔

Facebook Comments