’’سچن ... سچن‘‘ شکریہ سچن!!

’’ سچن... سچن‘‘کے نعرے ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں گونج رہے تھے اور کرکٹ کا دیوتا عظیم ترین سچن تنڈولکر 14نومبر کو اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اتررہا تھا ۔وانکھیڑے سچن تنڈولکر کے قدموں میں تھا جہاں ماسٹر بیٹسمین نے 25 سال قبل ناقابل شکست سنچری کیساتھ اپنے فرسٹ کلاس کیرئیر کی ابتدا کی تھی ۔ ربع صدی پہلے بھی سچن تنڈولکر کی صلاحیتوں کی نشاندہی ہوچکی تھی مگر 10 دسمبر 1988ء کو شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ سچن پچیس برس بعد اسی میدان پر شان و شوکت کے ساتھ اپنے غیر معمولی کیرئیر کا خاتمہ کریں گے۔

سچن کے ریکارڈز تک رسائی کے لیے کسی بھی بیٹسمین کو دو جنم لینے پڑیں گے لیکن اس کی عظمت کے قریب پہنچنے کے لیے سات جنم بھی ناکافی ہیں (تصویر: BCCI)

سچن کے ریکارڈز تک رسائی کے لیے کسی بھی بیٹسمین کو دو جنم لینے پڑیں گے لیکن اس کی عظمت کے قریب پہنچنے کے لیے سات جنم بھی ناکافی ہیں (تصویر: BCCI)

کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کو اس انداز سے رخصت نہیں کیا گیا جس طرح ممبئی کے باسیوں نے سچن ٹنڈولکرکو الوداع کہا ۔ وانکھیڑے میں صرف دنیائے کرکٹ کے بے تاج بادشاہ سچن نعروں کی گونج تھی اوربھارتی ڈریسنگ روم سے میدان تک جانے والی 34 سیڑھیوں کے گرد موجود تماشائی کرکٹ کے اس دیوتا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دیوانے ہوئے جارہے تھے جنہوں نے چاروں دن تنڈولکر کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا اور جب سچن آخری مرتبہ وانکھیڑے کی وکٹ کے ’’چرن‘‘چھو کر نم آنکھوں کے ساتھ میدان سے باہر آئے تو اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں کی آنکھیں بھی نم تھیں، جو جانتے تھے کہ وہ اپنے ہیرو کو دوبارہ کھیلتا ہوا نہیں دیکھ سکیں گے۔

یہ سچن کا غیر معمولی ٹیلنٹ تھا جس نے بھارتی سلیکٹرز کو مجبور کو کیا وہ پاکستان کے اہم ٹور پر ایک 16سالہ نوجوان کو بھیج دیں جسے عمران ، وسیم اور وقارجیسے خطرناک پیسرز کا سامنا کرنا تھا۔16برس کی عمر میں سچن تنڈولکر کا پاکستان کے ٹور پر آنا ہی اس بات کا اعلان تھا کہ دنیائے کرکٹ کو بیٹنگ کا غیر معمولی ٹیلنٹ ملنے والا ہے اور یہ بھارتی کرکٹ کی خوش قسمتی تھی کہ گواسکر جیسے ریکارڈ ساز بیٹسمین کی ریٹائرمنٹ کے محض دو برس بعد انہیں سچن جیسا بیٹسمین میسر آگیا جو گواسکر کو بھی بہت پیچھے چھوڑ گیا۔میں یہاں سچن تنڈولکر کے ریکارڈز کی بات نہیں کروں گا کہ انہوں نے کتنے رنز بنائے ،کتنی سنچریاں اسکور کیں،کرکٹ کے میدانوں میں کیا کیا کارنامے دکھائے کیونکہ چوتھائی صدی تک عالمی کرکٹ پر موجود رہنا ہی سچن تنڈولکر کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

سچن تنڈولکر کرکٹ کا دیوتا ہے جس نے 24 برس تک دنیا بھر کے باؤلرز کو اپنے حکم کے تابع کیے اور کوئی بھی ریکارڈ ایسا نہ تھا جس تک تنڈولکر کو رسائی نہ ملی ہو۔یہاں سچن ٹنڈولکرکے ریکارڈز کی بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے کیونکہ سچن جیسے عظیم بیٹسمین کے سامنے ریکارڈز بھی ہاتھ باندھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں کہ سچن ان ریکارڈز کو اپنا کر انہیں تعظیم دے۔

ہم میں سے کسی نے ڈان بریڈمین کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن ہم اس بات پر فخر کرسکتے ہیں ہم نے سچن کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھیلتے ہوئے دیکھا ہے ۔میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ 24برس قبل کراچی میں ٹیسٹ ڈیبیو سے لے کر ریٹائرمنٹ تک مجھے سچن تنڈولکر کا شاندار کیرئیر دیکھنے کا پورا موقع ملا ہے اور اس نسل کے لوگوں کے لیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے وہ سچن تنڈولکر کے شاندار اور تابناک کیرئیر کے گواہ ہیں کیونکہ یہ موقع آنے والی نسلوں کو نہیں مل سکے گا۔

سچن تنڈولکر جیسا دوسرا بیٹسمین آئندہ کبھی بھی دنیائے کرکٹ کو میسر نہیں آئے گا کیونکہ سچن کے ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی کسی بیٹسمین کو دو جنم لینا پڑیں گے مگر سچن تنڈولکر کی عظمت کے قریب پہنچنے کے لیے سات جنم بھی ناکافی ہیں!!

میں راماکانت اچریکار کا شکرگزار ہوں جنہوں نے کم سن سچن کو کرکٹ کے داؤ پیچ سکھا کر دنیا کو ایک عظیم بیٹسمین فراہم کیا۔میں ممبئی کے شیواجی پارک کا بھی احسان مند ہوں جہاں عظیم سچن نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔مجھے معروف بھارتی صحافی ہرشا بھوگلے کو بھی ’’دھنیواد‘‘ کہنا ہے جنہوں نے سو روپے معاوضے کے عوض ایک اخبار کے لیے اسکول بوائے سچن پر پہلا آرٹیکل لکھا ۔ راج سنگھ ڈنگاپور کا بھی شکریہ جنہوں نے پہلی مرتبہ سچن تنڈولکر کو بھارتی ٹیم میں منتخب کیا اور کرشنماچاری شری کانت کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے علاوہ وقار یونس کی بھی نوازش کہ انہوں نے ڈیبیو پر سچن تنڈولکر کو زخمی کرکے اگلے میچ میں نصف سنچری اسکور کرنے پر اکسایا۔

سچن تنڈولکر کے لیے کرکٹ کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہوگا لیکن شائقین کے لیے بھی سچن کے بغیر کرکٹ دیکھنا بھی آسان نہیں ہے ۔ شائقین کے ساتھ ساتھ کرکٹ کا کھیل بھی سچن تنڈولکر کا شکرگزار ہے جنہوں نے اس کھیل کو نئی شان عطاء کی...شکریہ سچن!!

Facebook Comments