پاک - بھارت معرکے میں میزبان ٹیم فیورٹ ہے: راشد لطیف

جیسے جیسے 30 مارچ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے ویسے ویسے ذرائع ابلاغ پر کرکٹ کے ماہرین و شائقین کے درمیان پاک - بھارت سیمی فائنل مقابلے کی بابت بحث شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں رکی پونٹنگ کی جانب سے سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم کی فتح کی پیش گوئی کے بعد اب پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے کہا کہ ہے کہ موجودہ عالمی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میچ میں میزبان ملک بھارت کی ٹیم زیادہ فیورٹ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقابلے میں جو ٹیم جارحانہ انداز سے کھیلے گی اس کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

راشد لطیف نے کہا کہ عالمی کپ 2011ء کا سیمی فائنل فی الحقیقت عالمی کپ کا سب سے بڑا مقابلہ ہے، یہ do-or-die صورتحال ہے اور اس میچ کو اگر mother of all matches کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہمیشہ فیورٹ ہوتا ہے، لیکن پاکستان کی ٹیم اس عالمی کپ میں بہت متحد نظر آرہی ہے اس لیے اس میچ میں وہ ٹیم جیت سکتی ہے تو زیادہ جارحانہ انداز اپنائے گی۔

راشد لطیف عالمی کپ 1996ء کے کوارٹر فائنل مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانے والی ٹیم کے رکن بھی تھے۔ انہوں نے اس میچ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کھیل میں شکست کا درد اب تک محسوس کرتا ہوں، باوجود اس کے کہ اس واقعہ کو 15 سال بیت چکے لیکن لوگ اسے اب تک نہیں بھولے۔ راشد لطیف نے پاکستانی ٹیم کے موجودہ کوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس ٹیم کے رکن کی حیثیت سے اس وقت کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں 96ء اور 2003ء کے عالمی کپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی تلخ یادوں کے ازالہ کا موقع میسر آ چکا ہے۔

راشد لطیف نے پاکستانی تیز گیند باز شعیب اختر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستانی ٹیم میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی حریف کے خلاف کھیلتے ہوئے ان کا جوش اور جذبہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے اور یہ بات ٹیم انتظامیہ بھی بخوبی سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں موجود اتحاد بھارت کے خلاف فتح میں اہم ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اکمل برادران، شاہد آفریدی، عبدالرزاق اور یونس خان کی کارکردگی اہمیت کی حامل ہے۔

پاکستانی ٹیم عالمی کپ 2011ء میں اب تک 7 میں سے 6 میچ جیت چکی ہے جس میں میزبان سری لنکا اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست بھی شامل ہے۔ دوسری جانب بھارت نے اپنے 7 مقابلوں میں سے 5 میں فتح حاصل کی جبکہ اسے جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست اور انگلستان کے ہاتھوں ٹائی میچ کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی جبکہ بھارت نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو ناک آؤٹ کر کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ یہ عالمی کپ کی تاریخ کا پہلا موقع ہوگا کہ جب پاکستان اور بھارت سیمی فائنل مقابلے میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوں گے۔

Facebook Comments