گرین شرٹس نے پروٹیزکو تگڑا جواب دے دیا

’’پروٹیز کے جوابی دورے پر ’’ تگڑا‘‘ جواب دینے کے لیے ٹیم میں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے جو اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے کھیلیں بلکہ ایسے نوجوان مگر باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کا حصہ بنانا ہوگا جن میں جیت کی بھوک اور اپنی ٹیم کے لیے کچھ کردکھانے کا جذبہ موجود ہو۔ جنوبی افریقہ کے جوابی دورے پر پاکستانی ٹیم شکست کا بدلہ لے سکتی ہے لیکن اس دورے میں تگڑا جواب دینے کے لیے گرین شرٹس کو تگڑی کارکردگی بھی دکھانا ہوگی جس کے لیے کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کو بھی سخت اور تگڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘‘

جنید خان نے اپنی تکلیف کی پروا کیے بغیر فیصلہ کن اوور میں ناقابل یقین باؤلنگ کی (تصویر: AP)

جنید خان نے اپنی تکلیف کی پروا کیے بغیر فیصلہ کن اوور میں ناقابل یقین باؤلنگ کی (تصویر: AP)

یہ سطریں میرے 10 نومبر والے ’’باؤنسر‘‘ کی ہیں جب پروٹیز سے ون ڈے سیریز میں 4-1سے شکست کا زخم تازہ تازہ تھا اور ماہرین کی جانب سے قومی کھلاڑیوں پر لعن طعن کرنے میں بہت "فیاضی" کے مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں نوجوان کھلاڑیوں بالخصوص پہلے ون ڈے میں انور علی اور بلاول بھٹی کی ڈیبیو پر یادگار کارکردگی اور پورٹ ایلزبتھ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں احمد شہزاد کی سنچری، صہیب مقصود اور عمر اکمل کی عمدہ بیٹنگ اور آخر میں جنید خان کی دلیرانہ باؤلنگ نے جنوبی افریقہ کے جبڑوں سے فتح چھین کر پاکستان کو پروٹیز کے خلاف پہلی بار ون ڈے سیریز جیتنے کا اعزاز دلوا دیا۔

یوں مصباح الحق ایشیا کے پہلے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی ہو۔ گو کہ اس عظیم کارنامے کے باوجودچند ’’ماہرین کرکٹ‘‘ کی زبانیں تالو سے لگ چکی ہیں اور مصباح کی مدح میں ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکل رہا۔

لٹل ماسٹر حنیف محمد نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’کسی کے خلاف اس انتہا تک نہ جاؤکہ جب اس کی حمایت اور تعریف کرنا پڑے تو اپنی گزشتہ بات جھوٹ محسوس ہو اور دل میں یہ احساس جگہ بنا لے کہ پچھلے مرتبہ جنہیں بدترین کہا تھا اب اسے بہترین کہنا پڑے‘‘۔ کچھ یہی صورتحال اب ان ’’ماہرین‘‘ کو درپیش ہے۔

بہرحال، پورٹ ایلزبتھ میں تاریخی کامیابی کا بنیادی سہرا پاکستان کی اچھی بیٹنگ کو جاتا ہے، جس کی کمی پاکستان گزشتہ مقابلوں میں محسوس کر رہا تھا۔ احمد شہزاد نے اس مرتبہ غیر ضروری دفاعی انداز اپنانے بجائے اپنے اسٹائل کے عین مطابق مگر انتہائی سمجھداری کے ساتھ بیٹنگ کی، جس کا صلہ تین ہندسوں کی اننگز کی صورت میں ملا۔ تیسری وکٹ پر سنچری شراکت پاکستان کے لیے نہایت اہم تھی، جس میں صہیب نے احمد کا بھرپور ساتھ دیا اور عمر اکمل کی جارح مزاجی نے پاکستان کو 45اوورز میں 262رنز کا مجموعہ دلوایا۔

درحقیقت ژاک کیلس کی وکٹ گرنے تک میچ بالکل برابر تھا مگر پروٹیز کپتان اے بی ڈی ولیئرز کی 45 گیندوں پر 74 رنز کی غیر معمولی اننگز مقابلے کو پاکستان کی پہنچ سے بہت دور لے گئے۔ حتیٰ کہ 39 ویں اوور میں ڈی ولیئرز کی وکٹ گرنے سے بھی کوئی خاص امید پیدا نہ ہوئی تھی لیکن درحقیقت یہ 44 واں اوور تھا جس میں سعید اجمل کی عمدہ باؤلنگ اور آخری گیند پر ہاشم آملہ کی وکٹ تھی جس نے معاملے کو آخری اوورز میں 9 رنز تک پہنچا دیا، جن کا دفاع کیا جا سکتا تھا۔

جنید خان اپنے گزشتہ اوور میں ہاشم آملہ کا ایک زوردار شاٹ اپنی پنڈلی پر سہہ چکے تھے اور ابتدائی طبی امداد لینے کے بعد دوبارہ میدان میں آئے اور اپنی بہترین یارکرز کے ذریعے پاکستان کو کامیابی دلوائی۔ گزشتہ کئی مقابلوں میں بجھے بجھے دکھائی دینے والے جنید اس مرتبہ شیردل بنے رہے اور اپنی تکلیف کی پروا کیے بغیر فیصلہ کن اوور میں ناقابل یقین باؤلنگ کی۔

بحیثیت مجموعی قومی ٹیم نے دوسرے ون ڈے میں مثبت اپروچ کا مظاہرہ کیا اور جوش کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی دکھائی، جس کا صلہ انہیں ایک یادگار کامیابی کی صورت میں ملا۔ علاوہ ازیں نجم سیٹھی کی مصباح الحق کو عالمی کپ 2015ء تک کپتان رکھنے کی’’خواہش‘‘ کو بھی سند مل چکی ہے کیونکہ جنوبی افریقہ میں متوقع ناکامی کی صورت میں قیادت چھوڑنے کے لیے مصباح پر دباؤ مزید بڑھ جاتا۔ لیکن مصباح نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے اور یہی وقت ہے کہ کپتانی کی اس بحث کا خاتمہ کرکے تمام تر توجہ عالمی کپ 2015ء پر مرکوز کی جائے کیونکہ جنوبی افریقہ کو زیر کرنے کے بعد بے شک پاکستانی ٹیم کا اعتماد آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہا ہے لیکن 'ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں' کے مصداق بہت سی منزلوں تک رسائی ابھی باقی ہے۔

Facebook Comments