[ریکارڈز] پاکستان کی کم ترین مارجن سے حاصل کردہ فتوحات

پورٹ ایلزبتھ میں پاکستان کی سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد 1 رن سے حاصل کردہ فتح کئی لحاظ سے تاریخی تھی اور بلاشبہ مدتوں تک شائقین کے ذہنوں میں تازہ رہے گی۔ یہ ایک روزہ کرکٹ تاریخ میں محض دوسرا موقع تھا کہ پاکستان نے صرف 1 رن کے مارجن سے کوئی مقابلہ جیتا ہو۔

جنید خان نے وقار یونس کی طرح اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور امید ہے کہ وہ آئندہ کیریئر میں اچھی کارکردگی کے ذریعے وقار جیسی لافانی شہرت بھی حاصل کریں گے (تصویر: WICB)

جنید خان نے وقار یونس کی طرح اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور امید ہے کہ وہ آئندہ کیریئر میں اچھی کارکردگی کے ذریعے وقار جیسی لافانی شہرت بھی حاصل کریں گے (تصویر: WICB)

جس طرح جنید خان نے گزشتہ روز 9 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا بالکل اسی طرح 22 سال پہلے وقار یونس پاکستان کے ہیرو قرار پائے تھے، جب حریف ویسٹ انڈیز کو آخری اوور میں 10 رنز کی ضرورت تھی اور اس نے این بشپ کے شاندار چھکے کی بدولت ابتدائی 3 گیندوں ہی پر 8 رنز بنا لیے لیکن بقیہ 3 گیندوں پر وقار اپنے عروج پر دکھائی دیے۔ انہوں نے نہ صرف دو گیندیں ضایع کروائیں بلکہ آخری گیند پر این بشپ کی وکٹیں بکھیر کر پاکستا ن کی سنسنی خیز فتوحات کے باب میں ایک نیا اضافہ کیا۔

یہ درحقیقت اکتوبر 1991ء میں کھیلی گئی ولز ٹرافی کا ایک مقابلہ تھا۔ ویسٹ انڈیز 237 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 57 رنز پر 5 وکٹیں گنوا بیٹھا تھا لیکن کپتان رچی رچرڈسن اور وکٹ کیپر جیفری ڈیوجون کے درمیان 154 رنز کی شراکت داری نے ویسٹ انڈیز کو تقریباً منزل تک پہنچا دیا تھا لیکن وقار یونس آڑے آ گئے۔ وقار نے اس نازک مرحلے پر، جب ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے صرف 26 رنز کی ضرورت تھی، رچی کے علاوہ آنے والے دو بلے بازوں کرٹلی ایمبروز اور کورٹنی واش کو میدان بدر کیا جبکہ ڈیوجون رن آؤٹ ہوکر مقابلہ پاکستان کے حق میں کرگئے۔ آخری اوور کی تیسری گیند پر این بشپ نے پاکستان کے کئی تماشائیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جب انہوں نے لانگ آن پر ایک شاندار چھکا رسید کرکے میدان میں موت کا سا سناٹا پیدا کردیا۔ لیکن وقار نے اس موقع پر اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور ٹیم کی کشتی کو پار لگایا۔ بعد ازاں فائنل میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو 72 رنز سے شکست دے کر ولز ٹرافی بھی اپنے نام کی۔

شارجہ کی اس تاریخی فتح نے نہ صرف وقار یونس بلکہ چند تماشائیوں کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ جی ہاں، اس مقابلے کے اختتامی لمحات میں تماشائیوں میں موجود دو دعاگو لڑکیوں نے ملک گیر شہرت حاصل کی تھی۔

جتنی یادگار شارجہ کی یہ فتح تھی، بلاشبہ گزشتہ شب پورٹ ایلزبتھ میں ملنے والی جیت بھی پاکستان کے لیے اتنی ہی یادگار ہوگی۔ آج تک ایشیا سے تعلق رکھنے والی کوئی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز نہیں جیت سکی اور یہ پہلا موقع ہے کہ مصباح الحق یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اگر اس سیریز کا پس منظر دیکھا جائے تو پاکستان کی اس فتح کی اہمیت مزید دوچند ہوجاتی ہے کیونکہ پاکستان ابھی اس دورے سے چند روز قبل ہی متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف 4-1 سے ہاراہے۔ جب ٹیم کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صدائیں بلند ہو رہی ہوں اور کھلاڑی سخت دباؤ میں ہوں،ان حالات میں جنوبی افریقہ کو خود اسی کی سرزمین پر شکست دینا معجزے سے کم نہیں۔

پاکستان کی کم ترین مارجن سے حاصل کردہ فتوحات

فتح کا مارجن بمقابلہ بمقام بتاریخ
پاکستان 1 رن ویسٹ انڈیز شارجہ 21 اکتوبر 1991ء
پاکستان 1 رن جنوبی افریقہ پورٹ ایلزبتھ 27 نومبر 2013ء
پاکستان 2 رنز آسٹریلیا سڈنی 20 فروری 1990ء
پاکستان 2 رنز انگلستان لارڈز 12 جون 2001ء
پاکستان 2 رنز بنگلہ دیش ڈھاکہ 22 مارچ 2012ء
پاکستان 3 رنز انگلستان لارڈز 22 اگست 1992ء

Facebook Comments