'گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوئے' پی سی بی آئی پی ایل کے لیے پرامید

دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ 'انڈین پریمیئر لیگ' میں پاکستانی کھلاڑیوں کی عدم شرکت کا معاملہ کافی طول پکڑ چکا ہے اور اس پر اتنی بحث ہوچکی ہے کہ اب شاید خود پاکستانی بھی نہیں چاہتے کہ قومی کھلاڑی اس لیگ میں کھیلیں لیکن آفرین ہو پاکستان کرکٹ بورڈ کو جو اب بھی بھارت سے توقعات لگائے بیٹھا ہے کہ وہ آئندہ سیزن میں پاکستانی کھلاڑیوں کو مدعو کرے گا۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے صرف انڈین پریمیئر لیگ کے پہلے سیزن میں شرکت کی تھی (تصویر: AFP)

پاکستانی کھلاڑیوں نے صرف انڈین پریمیئر لیگ کے پہلے سیزن میں شرکت کی تھی (تصویر: AFP)

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے پی سی بی کے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارچ 2014ء میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد 6 ماہ تک قومی کھلاڑیوں کے لیے کوئی طے شدہ کرکٹ نہیں ہے ، اس لیے پاکستانی کھلاڑی آئی پی ایل میں کھیلنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ پاک-بھارت کرکٹ تعلقات میں سالوں کی سردمہری کےبعد اب جو گرمجوشی دکھائی دے رہی ہے اس سے توقع ہے کہ قومی کھلاڑیوں پر آئی پی ایل کے دروازے بھی کھلیں گے۔

انڈین پریمیئر لیگ کا ساتواں سیزن اگلے سال اپریل اور مئی میں کھیلا جائے گا اور کیونکہ انہی ایام میں بھارت میں قومی انتخابات بھی منعقد ہوں گے، اس لیے امکان ہے کہ آئی پی ایل بھارت میں نہیں کھیلی جائے گی۔ اس حوالے سے مبینہ پی سی بی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بیرون ملک انعقاد کی صورت میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت کا معاملہ مزید آسان ہوجائے گا کیونکہ ماضی میں یہ کہہ کر پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے کہ بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں اس مرتبہ اس لیے بھی زیادہ توقعات ہیں کہ حالیہ دو چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں پاکستانی ٹیموں کو مدعو کیا گیا تھا اور امید ہے کہ آئندہ سال پاک-بھارت کرکٹ تعلقات مزید بہتر ہوں گے تو آئی پی ایل میں شرکت کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے معاملے پر دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے 2008ء میں آئی پی ایل کے پہلے سیزن میں شرکت کی تھی۔ پھر ممبئی دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے پاکستانی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت پر پابندی عائد ہے۔ ایک مرتبہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت بھی دی تھی لیکن نیلامی کے لیے موجود ہونے کے باوجود کسی فرنچائز نے کوئی پاکستانی کھلاڑی نہیں خریدا تھا۔ اس سبکی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے خود اپنے کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شرکت سے روک دیا تھا۔

اگر ٹائمز آف انڈیا کی اس خبر کو درست مان لیا جائے تو نئی انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے والے پاکستانی بورڈ کی 'خوش فہمی' سمجھ سے بالاتر نظر آتی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

Facebook Comments