[فل لینتھ] آخری مقابلے میں شکست نے سیریز جیتنے کا مزا کرکرا کردیا

نیشنل کرکٹ اکیڈمی، لاہور میں لیول II کوچنگ کورس میں شرکت کے دوران پاک-جنوبی افریقہ سیریز بھی دیکھی، ٹی ٹوئنٹی کی شکست پر کڑھتا رہا لیکن بعد ازاں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی تاریخی کامیابی پر شائقین کرکٹ کی طرح مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔ البتہ ایک اچھی سیریز کا جیسا اختتام ہونا چاہیے تھا ویسا نہ ہوا اور آخری میچ میں پاکستان کی شکست نے سیریز جیتنے کا مزا کرکرا کردیا۔

پاکستان نے جنوبی افریقہ کے اس اضافی دورے سے بہت کچھ پایا اور بہت کچھ کھویا بھی۔ 2-1 سے ون ڈے سیریز کی فتح نے بلے بازوں کی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈال دیا تاہم آخری مقابلے کی شکست نے ایک مرتبہ پھر عیاں کردیا کہ ہمارے بلے باز مستقل مزاج نہیں ہیں۔ ہمارے بیٹسمین صرف ایک ہی میچ میں اچھا کھیلے اور اس میں بھی پاکستان کی فتح گیند بازوں کی زبردست کارکردگی کی مرہون منت رہی۔ دوسرے ایک روزہ مقابلے کے اختتامی لمحات میں جس طرح سعید اجمل اور جنید خان نے مقابلہ بچایا وہ ناقابل یقین تھا۔

misbah-ul-haq-pak-cricket-captain

مصباح الحق کی کپتانی کا انداز دفاعی ہے لیکن اس وقت ہمارے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں (تصویر: AFP)

این سی اے میں کورس کے دوران احساس ہوا کہ اتنی زیادہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے باوجود ہمارے کھلاڑیوں کو کرکٹ کی بنیادی چیزوں کا علم نہیں۔ کھلاڑیوں کی خامیوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں درست تکنیک سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری کوچز کی بنتی ہے۔ ہمارے بلے بازوں کو چاہیے کہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے زبان کے بجائے عملی اقدامات کریں اور کرکٹ اکیڈمیز کے ساتھ کام کریں۔ اگر کوئی بلے باز کارکردگی نہیں دکھا پا رہا تو اسے پروفیسری جھاڑنے یا اپنے باصلاحیت ہونے کا شور مچانے کی ضرورت نہیں کیونکہ کارکردگی دکھانے کے موقع پر تو وہ کچھ نہیں کرپاتے۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے معرکے میں تو فتح یقینی طور پر پاکستان کی تھی لیکن ہمارے کپتان کو اتنا ہی نہیں معلوم تھا کہ اسکور بورڈ کیا کہہ رہا ہے، جہاں ڈک ورتھ لوئس پار اسکور واضح طور پر لکھا تھا اور موصوف نے ایک چوکا لگانے کی کوشش بھی نہ کی، میرے نزدیک تو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں شکست کے ذمہ دار پروفیسر جی ہیں۔

دوسری جانب ون ڈے کپتان مصباح الحق نے ایک مرتبہ پھر نہ صرف اپنے ناقدین کے منہ بند کیے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بھی منوایا۔ میں مانتا ہوں کہ ان کی کپتانی کا انداز دفاعی ہے لیکن اس وقت ہمارے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں۔ اللہ انہیں عزت دے رہا ہے، انگلستان کے خلاف وائٹ واش اور جنوبی افریقہ کے خلاف تاریخی ون ڈے سیریز فتح نے ان کا نام امر کردیا ہے۔

ہم ہمیشہ گیند بازی سے جیتتے ہیں اور ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ دورۂ جنوبی افریقہ میں دوسرے ون ڈےکے علاوہ کوئی میچ ایسا نہیں تھا جہاں کارکردگی کی بنیاد پر ہم اپنے باؤلرز کو میچ ونر کہہ سکیں۔ سعید اجمل نے بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی اور ہمارے تھنک ٹینک کو اب سوچنا ہوگا کہ باؤلنگ کے شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا جائے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسے باؤلرز کی تعداد کافی ہے جنہیں بین الاقوامی کرکٹ میں آزمایا جا سکتا ہے۔

اب کچھ بات نئے کھلاڑیوں اور ان کی کارکردگی سے متعلق کرلیتے ہیں۔ بلاول بھٹی نے آغاز تو بہت اچھا لیا لیکن ابھی انہیں بہت اتار چڑھاؤ دیکھنے ہیں۔ وہ ایک اچھا تیز باؤلر ہے اور بورڈ کو انہیں مزید مواقع دینا ہوں گے۔ اگر وہ کارکردگی نہ بھی دکھا پائیں تو بھی انہیں کھلایا جائے کیوں کہ بھٹی ایک ایسا باصلاحیت کھلاڑی ہے کہ جو خود کو خطرناک باؤلر ثابت کرسکتا ہے۔

انور علی کافی عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ میں موجود ہیں اور ایک باؤلر سے زیادہ آل راؤنڈر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنی کارکردگی کو بہتربنانا ہوگا کیونکہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے بہت سے کھلاڑی پر تول رہے ہیں اور وہ ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔

صہیب مقصود جیسے باصلاحیت بلے باز کو بار بار مختلف بیٹنگ آرڈر پر کھلانا صریح ناانصافی ہے۔ وہ نڈر اور دلیر بلے باز ہے اور اسے اب بیٹنگ لائن اپ میں مخصوص مقام دینا چاہیے، اسی صورت میں وہ عالمی بلے بازوں میں جگہ بنا پائے گا ورنہ کبھی اوپنر، کبھی ون ڈاؤن اور مزید نیچے کی پوزیشز پر کھلانا اس کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالے جو صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

اب پاکستان کا اگلا امتحان متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف ہوگا اور میری ذاتی رائے میں ناصر جمشید کو آرام دینے کا وقت آ گیا۔ محمد حفیظ کو بھی چاہیے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ یا اکیڈمی کا رخ کریں اور اپنی غلطیوں کو درست کریں ورنہ ہر مرتبہ ٹاپ آرڈر میں اپنی وکٹ جلد گنوا کر ٹیم کو دباؤ میں ڈالتے رہیں گے جس کا نتیجہ پاکستان کی شکست کی صورت میں نکلتا رہے گا۔

Facebook Comments