آفریدی نے چھکے نہ لگائے پر چھکے چھڑا دیے ، شعیب اور یوسف کو 'ہیکل جیکل' قرار دیدیا

شاہد آفریدی آج کل میدان میں تو چھکے لگا نہیں پارہے البتہ انہوں نے وطن واپسی پر خود پر تنقید کرنے والے شعیب اختر ، محمد یوسف اور سکندر بخت کے چھکے ضرور چھڑادیئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جارح مزاج کھلاڑی نے کہا کہ ٹیلی وژن پر بیٹھ کر 'ہیکل جیکل' اور 'مسٹر بین' تنقید کرتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ وہ خود کتنےاطاعت گزار اور فرمانبردار کھلاڑی تھے۔

ہم پر تنقید کرنے والے خود اپنے دور میں کتنے فرمانبردار کھلاڑی تھے، سب جانتے ہیں: شاہد آفریدی (تصویر: AFP)

ہم پر تنقید کرنے والے خود اپنے دور میں کتنے فرمانبردار کھلاڑی تھے، سب جانتے ہیں: شاہد آفریدی (تصویر: AFP)

آج علی الصبح کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈےپر آمد کے موقع پر شاہد آفریدی نے کہا کہ ہم جیتتے ہیں تو سب خاموش ہوجاتے ہیں، لیکن جیسے ہی ٹیم شکست سے دوچار ہوتی ہے، گروپنگ کا رونا رویا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی کھلاڑیوں کے دور میں ٹیم گروپنگ کا شکار تھی اور میچز ہارتی تھی۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی باؤلنگ کے ذریعے کارکردگی پیش کر رہے ہیں البتہ بیٹنگ کے حوالے سے انہیں تشویش ضرور لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیس، تیس رنز کرنے کی صورت میں ٹیم جیت جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی بیٹنگ فارم حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

دورۂ جنوبی افریقہ میں اپنی کارکردگی سے سب کے دل موہ لینے والے نوجوان آل راؤنڈرز بلاول بھٹی اور انور علی کو سراہتے ہوئے آفریدی کا کہنا تھا کہ اس وقت ان دونوں کا اظہر محمود یا عبد الرزاق سے موازنہ کرنے کے بجائے انہیں کھیلنے کا موقع دیا جائے۔ شاہد نے صہیب مقصود کو ذہین کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ وہ جانتا ہے کہ اسکور بورڈ کو کیسے متحرک رکھنا ہے، اور اس کے آنے سے مڈل آرڈر مضبوط ہوا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ کے حوالے سے شاہد کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ ایک اچھا کھلاڑی ہے، بس وہ برے دور سے گزر رہا ہے اور وہ خود بھی جانتا ہے کہ اس کی کارکردگی ٹیم کے لیے کتنی اہم ہے، اسی لیے وہ جلد از جلد کارکردگی دکھانے کے جتن کر رہا ہے۔

'بوم بوم' آفریدی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کا کوئی جواز نہ تھا لیکن دورۂ جنوبی افریقہ میں سیریز جیتنے سے ٹیم کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اس میں اہم کردار معین خان اور محمد اکرم کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو مزید گرانے کے لیے ذرائع ابلاغ میں بہت فضول باتیں کی گئیں لیکن ان مینیجر اور باؤلنگ کوچ نے حوصلوں کو پست نہ ہونے دیا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم 16، 17 کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ٹیم ہے اور اسے عوا م کی جانب سے حوصلہ افزائی کی سخت ضرورت ہے۔

پاکستان کی آئندہ مہم کے حوالے سے شاہد آفریدی نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل سری لنکا کے خلاف سیریز بہت اہمیت کی حامل ہے اور ٹیم اس میں اچھی کارکردگی دکھا کر اگلے سال اہم ٹورنامنٹ میں بلند حوصلوں کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔

Facebook Comments