شکست پر ٹیم بدلنے کا مطالبہ کرنے والے اب بتائیں ٹیم بدل دیں کیا؟ مصباح بھی برس پڑے

جنوبی افریقہ کو ون ڈے سیریز ہرانے کے بعد پاکستان کے کھلاڑی ذرائع ابلاغ پر بیٹھ کر قومی ٹیم پر تنقید کرنے والوں پر خوب برس رہے ہیں۔ ایک طرف آل راؤنڈر شاہد آفریدی پھٹے تو دوسرے طرف کپتان مصباح الحق نے بھی ناقدین کا خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

فتح کے باوجود بیٹنگ کا بنیادی مسئلہ جوں کا توں موجود ہے (تصویر: AFP)

فتح کے باوجود بیٹنگ کا بنیادی مسئلہ جوں کا توں موجود ہے (تصویر: AFP)

وطن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے سوال اٹھایا کہ متحدہ عرب امارات میں سیریز میں شکست کے بعد ٹیم کو بدلنے کا مطالبہ کرنے والے اب بتائیں کہ جنوبی افریقہ کو پہلی بار انہی کی سرزمین پر شکست دینے والی قومی ٹیم کو بدل دیا جائے؟

پاک-جنوبی افریقہ ون ڈے سیریز میں 2-1 سے جیتنے والی ٹیم کے قائد کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کو سیریز میں شکست دینا بہت حوصلہ افزاء امر ہے لیکن بنیادی مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے یعنی بلے بازوں کا مستقل کارکردگی نہ دکھا پانا۔ ہمارے بلے باز ایک اننگز میں اسکور کرتے ہیں تو اگلی تین سے چار باریوں میں وہ رنز نہیں بناتے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی سخت ضرورت ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی کسی کھلاڑی کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا، جب تبدیلی ہوگی تو سب دیکھیں گے اور وہ اس کے لیے وہ مل بیٹھ کر ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

قومی کپتان کا کہنا تھا کہ دورۂ جنوبی افریقہ سے پہلے سوچ رہے تھے کہ محمد عرفان کی کمی محسوس ہوگی لیکن بلاول بھٹی نے عمدہ کارکردگی پیش کی، اور دیگر نوجوان کھلاڑیوں نے توقعات سے بڑھ کر پرفارم کیا، جس کے بعد امید ہے کہ سری لنکا کے خلاف آنے والی سیریز میں بھی ٹیم فتوحات سمیٹے گی۔

پاک-سری لنکا سیریز کا باضابطہ آغاز 11 دسمبر کو پہلے ٹی ٹوئنٹی سے ہو رہا ہے جس کے بعد دونوں ٹیمیں ایک مزید ٹی ٹوئنٹی مقابلہ، 5 ایک روزہ اور 3 ٹیسٹ میچز کھیلیں گی۔

Facebook Comments