ڈنیڈن ٹیسٹ ڈرا، بارش ویسٹ انڈیز کے لیے نجات دہندہ، نیوزی لینڈ سر پیٹتا رہ گیا

کہاوت ہے کہ 'قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے' اور ڈنیڈن میں ویسٹ انڈیز پر یہ قول بالکل صادق آیا۔ پہلی اننگز میں 396 رنز کے خسارے کے بعد فالو آن کا سامنا کرنے والے ویسٹ انڈیز نے دوسری باری میں ڈیرن براوو کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت 507 رنز بنائے لیکن کیونکہ نیوزی لینڈ پہلی باری میں 609 رنز کا ہمالیہ کھڑا کرچکا تھا اس لیے اسے صرف 112 رنز کا ہی ہدف ملا اور وہ 4 وکٹوں کے نقصان پر 79 رنز بھی بنانے میں کامیاب ہوگیا لیکن یکدم میچ کا منظرنامہ بدل گیا۔ بارش نے یونیورسٹی اوول کو ایسے آ لیا کہ پھر مقابلہ ممکن ہی نہ ہوسکا اور نیوزی لینڈ محض 33 رنز کے فاصلے پر کھڑی فتح کو تکتے رہ گیا۔ پورے پانچ دن تک جس میدان پر بارش کی ایک بوند نہ پڑی، وہاں یکدم بادل ایسے برسے کہ نیوزی لینڈ کے ارمان بھی بہہ گئے۔

ڈیرن براوو کی ڈبل سنچری اور پھر بارش نے نیوزی لینڈ کا کام تمام کردیا (تصویر: AFP)

ڈیرن براوو کی ڈبل سنچری اور پھر بارش نے نیوزی لینڈ کا کام تمام کردیا (تصویر: AFP)

ویسٹ انڈیز نے پانچویں دن کا آغاز اس طرح کیا کہ ایک اینڈ پر ڈبل سنچری بنانے کے بعد ڈیرن براوو 210 رنز پر جبکہ دوسرے پر کپتان ڈیرن سیمی 44 رنز کے ساتھ ناقابل شکست تھے اور ان کی نظریں ابتدائی دو سیشنز کو گزارنے پر مرکوز تھیں۔ لیکن دن کا تیسرا ہی اوور براوو کی روانگی کا پروانہ لے کر آیا جو ٹرینٹ بولٹ کی گیند پر وکٹیں بکھیرتی چھوڑ گئے۔ 416 گیندوں پر 31 چوکوں سے مزین 218 رنز کی اننگز کے دوران براوو 572 منٹ تک میزبان باؤلرز کے سامنے ڈٹے رہے اور بلاشبہ یہی وہ باری تھی، جو بعد ازاں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ وہ کرکٹ تاریخ کے محض ساتویں بلے باز بھی بنے جنہوں نے فالو آن اننگز میں ڈبل سنچری بنا کر اپنی ٹیم کے لیے میچ بچایا۔ ساتھ ساتھ یہ فالو آن اننگز میں کسی بھی ویسٹ انڈین کھلاڑی کی سب سے بڑی باری بھی تھی۔ بہرحال، ویسٹ انڈیز کی اننگز جو صبح 389 رنز پر شروع ہوئی تھی ڈیرن سیمی کے شاندار 80 رنز کی بدولت 500 کا ہندسہ بھی عبور کرگئی۔ سیمی نے براوو کے بعد بچ جانے والی آخری تین وکٹوں کی مدد سے اسکور میں 54 قیمتی رنز کا اضافہ کیا، اورایک گھنٹے سے زیادہ کا کھیل بھی ضایع کیا، اور سیمی کے آؤٹ ہوتے ہی ویسٹ انڈین اننگز 507 رنز پر مکمل ہوئی۔ پہلی اننگز میں 213 رنز پر ڈھیر ہوکر فالو آن کا سامنا کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے لیے یہ بہت عمدہ واپسی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا نیوزی لینڈ کو ملنے والا صرف 112 رنز کا ہدف جبکہ دو سیشن کا پورا کھیل ابھی باقی تھا۔

حالات نیوزی لینڈ حق میں دکھائی دیتے تھے لیکن قسمت ان کے ساتھ نہ تھی۔ شین شلنگ فرڈ کی تباہ کن باؤلنگ نے کھانے اور پانی کے وقفے کے درمیان کے صرف 16 اوورز میں نیوزی لینڈ کو چار وکٹوں سے محروم کردیا۔ شلنگ فرڈ نے پیٹر فلٹن، آرون ریڈمنڈ اور ہمیش ردرفرڈ کے ساتھ برینڈن میک کولم کی صورت میں دن کی قیمتی ترین وکٹ بھی حاصل کیں۔ نیوزی لینڈ صرف 44 رنز پر 4 وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ اس موقع پر پہلی اننگز کے ہیرو روز ٹیلر اور کوری اینڈرسن سے اننگز کو سنبھالا دیا اور 35 رنز کا اضافہ کرکے بلیک کیپس کو فتح کے مزید قریب پہنچا دیا۔البتہ اسی مقام پر بارش شروع ہوگئی جس کے بعد بالآخر مقابلے کو ڈرا قرار دے دیا گیا۔

قبل ازیں نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں روز ٹیلر کی ناقابل شکست 217 رنز کی اننگز کی بدولت مقابلے پر پہلی باری ہی میں مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ ٹیلر 319 گیندوں پر 23 چوکوں کی مدد سے 217 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے جبکہ نیوزی لینڈ کو پہلی وکٹ پر ہمیش ردرفرڈ اور پیٹر فلٹن کی 95 اور چوتھی وکٹ پر ٹیلر اور کپتان برینڈن میک کولم کے درمیان 195 رنز کی شراکت داری نے آسمان پر پہنچا دیا۔ 609 رنز بنانے کے بعد دوسرے روز کے آخری سیشن میں نیوزی لینڈ نے اننگز 9 وکٹیں گرنے کے ساتھ ڈکلیئر کردی۔ ٹیلر کے 217 رنز کے علاوہ اننگز کی قابل ذکر باریوں میں میک کولم کے 113، ردرفرڈ کے 62، فلٹن کے 61 اور بریڈلے-جان واٹلنگ کے 41 رنز شامل تھے۔ ٹیلر نے آٹھویں وکٹ پر ایش سوڈھی کے ساتھ 76 اور نویں وکٹ پر نائل ویگنر کے ساتھ 61 رنز کی شراکت داریاں بھی بنائیں۔

باؤلرز کی درگت بننے کے بعد اب مہمان ویسٹ انڈیز کے بیٹسمینوں کی باری تھی۔ صرف 24 رنز پر دونوں اوپنرز سے محروم ہونے کے بعد ایسا سلسلہ چل پڑا کہ سوائے تجربہ کار شیونرائن چندرپال کے 76 رنز کے کوئی ویسٹ انڈین بلے باز نیوزی لینڈ کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے قابل ذکر مزاحمت نہ کرسکا۔ ڈیرن براوو نے 40 رنز ضرور بنے لیکن ٹم ساؤتھی قہر بن پر ٹوٹ رہے تھے۔ براوو کے علاوہ انہوں نے ویسٹ انڈيز کی تمام ہی اہم وکٹیں اپنے نام کیں جن میں کیرون پاول، مارلون سیموئلز اور نارسنگھ دیونرائن شامل تھے۔ ویسٹ انڈيز صرف 62 اوورز میں 213 رنز پر ڈھیر ہوگیا یعنی پہلی اننگز 396 رنز کا خسارہ اور فالو آن!

اس صورتحال میں ویسٹ انڈیز کے شاندار جوابی حملے اور قسمت کے ساتھ نے ڈنیڈن ٹیسٹ کا نتیجہ ہی بدل ڈالا۔ البتہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز نیوزی لینڈ کے روز ٹیلر کو دیا گیا البتہ یہ اعزاز بھی ان کے چہروں پر خوشی نہ لا سکا کیونکہ وہ ایک یقینی فتح اور سیریز میں برتری سے محروم رہ گئے۔

تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا دوسرا مقابلہ 11 دسمبر سے ویلنگٹن میں شروع ہوگا۔

Facebook Comments