[ریکارڈز] مسلسل تین ون ڈے سنچریاں، ڈی کوک تازہ اضافہ

جنوبی افریقہ کے باصلاحیت نوجوان بلے باز کوئنٹن ڈی کوک نے آج مسلسل تیسرے ون ڈے مقابلے میں سنچری بنا کر کرکٹ کی تاریخ کے چند بہترین بلے بازوں میں اپنا نام بھی درج کروا لیا ہے۔

کوئنٹن ڈی کوک مجموعی طور پر پانچویں بلے باز ہیں، جنہیں مسلسل تین سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہوا (تصویر: AFP)

کوئنٹن ڈی کوک مجموعی طور پر پانچویں بلے باز ہیں، جنہیں مسلسل تین سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہوا (تصویر: AFP)

ایک روزہ کرکٹ میں اب تک پاکستان کے ظہیر عباس اور سعید انور اور جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز اور ابراہم ڈی ولیئرز ہی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے مسلسل تین ون ڈے مقابلوں میں سنچریاں داغی ہوں۔ لیکن آج سنچورین میں جنوبی افریقہ-بھارت تیسرے ون ڈے میچ میں کوئنٹن ڈی کوک نے اپنی بھرپور فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف ٹیم کے لیے انتہائی کارآمد اننگز کھیلی بلکہ یہ تاریخی ریکارڈ بھی برابر کرڈالا۔ انہوں نے اننگز کے 37 ویں اوور میں انہوں نے محمد شامی کی گیند پر ایک رن دوڑ کر اپنے مختصر کیریئر کی چوتھی اور مسلسل تیسری سنچری مکمل کی۔

ڈی کوک نے صرف 28 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوجانے کے بعد جنوبی افریقہ کی اننگز کو سنبھالا اور کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ پر 171 رنز جوڑ کر پروٹیز کو بہترین پوزیشن پر پہنچایا۔ ان کی باری 120 گیندوں پر دو چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 101 رنز پر تمام ہوئی۔ ڈی کوک کی بھرپور فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی چاروں سنچریاں لگ بھگ ایک ماہ کے عرصے میں بنی ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ 'ایشین بریڈمین' ظہیر عباس نے 1982 اور 1983ء پر محیط تین ون ڈے مقابلوں میں میں انجام دیا تھا۔ انہوں نے بھارت کے دورۂ پاکستان کے دوران ملتان، لاہور اور کراچی میں کھیلے گئے تین ون ڈے میچز میں تہرے ہندسے کی اننگز کھیلیں۔ ظہیر عباس کی 118 رنز کی باری کی بدولت پاکستان ملتان میں کھیلا گیا مقابلہ 37 رنز سے جیتا۔ جبکہ اس کے بعد لاہور میں کھیلے گئے میچ میں ظہیر کی 105 رنز کی سنچری بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی البتہ نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں ہونے والے سیریز کے چوتھے میچ میں ظہیر عباس کی 99 گیندوں پر 113 رنز کی جارحانہ بیٹنگ نے پاکستان کو نہ صرف 8 وکٹوں سے مقابلہ جتوا دیا بلکہ سیریز بھی پاکستان کے ہاتھ آ گئی۔

10 سال کے عرصے تک ظہیر عباس اس ریکارڈ کے بلاشرکت غیرے مالک تھے یہاں تک کہ 1993ء میں پاکستان کے اوپنر سعید انور نے شارجہ میں کھیلی گئی پیپسی چیمپئنز ٹرافی میں مسلسل تین میچز میں سنچریاں داغ کر اپنا نام بھی ان کے ساتھ جوڑ لیا۔ سعید نے سری لنکا کے خلاف 107، ویسٹ انڈیز کے خلاف 131 اور پھر سری لنکا کے خلاف ایک اور مقابلے میں 111 رنز کی باریاں کھیل کر اپنا نام امر کیا۔

جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز سے ستمبر و اکتوبر 2002ء میں کینیا، بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف جبکہ جنوبی افریقہ کے موجودہ ون ڈے کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے 2010ء میں بھارت کے خلاف دو اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے مسلسل ایک روزہ مقابلوں میں مسلسل تین سنچریاں بنا کر اپنا نام اس فہرست میں درج کروایا۔

دسمبر 1992ء میں جنم لینے والے تقریباً 21 سالہ کوئنٹن ڈی کوک نے اپنے 16 مقابلوں پر محیط کیریئر کی پہلی سنچری گزشتہ ماہ ابوظہبی میں پاکستان کے خلاف اسکور کی جس کے بعد اب بھارت کے خلاف جوہانسبرگ، ڈربن اور سنچورین میں ہونے والے سیریز کے تینوں مقابلوں میں انہوں نے بالترتیب 135، 106 اور 101 رنز جوڑے ہیں۔ سیریز میں ان کی ابتدائی دونوں سنچریاں فتح گر ثابت ہوئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسرے و آخری ون ڈے میں 28 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ کی نازک صورتحال میں بنائی گئی تہرے ہندسے کی اننگز جنوبی افریقہ کو فتح سے ہمکنار کرتی ہے یا نہیں۔

مسلسل تین ایک روزہ مقابلوں میں سنچریاں بنانے والے والے کھلاڑی

کھلاڑی ملک رنز بمقابلہ میدان تاریخ
ظہیر عباس پاکستان 118 بھارت ملتان 17 دسمبر 1982ء
105 بھارت لاہور 31 دسمبر 1982ء
113 بھارت کراچی 21 جنوری 1983ء
سعید انور پاکستان 107 سری لنکا شارجہ 30 اکتوبر 1993ء
131 ویسٹ انڈیز شارجہ یکم نومبر 1993ء
111 سری لنکا شارجہ 2 نومبر 1993ء
ہرشل گبز جنوبی افریقہ 116 کینیا کولمبو 20 ستمبر 2002ء
116* بھارت کولمبو 25 ستمبر 2002ء
153 بنگلہ دیش پوچیفسٹروم 3 اکتوبر 2002ء
ابراہم ڈی ولیئرز جنوبی افریقہ 114* بھارت گوالیار 24 فروری 2010ء
112* بھارت احمد آباد 27 فروری 2010ء
102 ویسٹ انڈیز نارتھ ساؤنڈ 22 مئی 2010ء
کوئنٹن ڈی کوک جنوبی افریقہ 135 بھارت جوہانسبرگ 5 دسمبر 2013ء
106 بھارت ڈربن 8 دسمبر 2013ء
101 بھارت سنچورین 11 دسمبر 2013ء

Facebook Comments