دبئی میں بوم بوم!! شاہد آفریدی کے چھکے اور پاکستان پہلا ٹی ٹوئنٹی جیت گیا

طویل عرصے سے شاہد آفریدی پر ایک فتح گر اننگز ادھار تھی، اور آج دبئی میں انہوں نے اس ادھار کو ایسے وقت پر چکایا، جب میچ پر پاکستان کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی تھی اور ان کے علاوہ کوئی مستند بلے باز کریز پر موجود نہ تھا۔ شاہد چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے کریز پر آئے تو اس وقت پاکستان کو فتح کے لیے 35 گیندوں پر 50 رنز کی ضرورت تھی جبکہ دوسرے اینڈ پر نوجوان صہیب مقصود تھے۔ بڑھتے ہوئے رن اوسط کو گرانے کے لیے انہوں نے آتے ہی اگلی چند گیندوں پر ایک دلکش چوکا اور دو کرارے چھکے رسید کیے۔ بعد ازاں صہیب کے آؤٹ ہوجانے کے بعد آفریدی نے خلاف توقع بہت ہی ٹھنڈے دماغ سے پاکستان کی کشتی کو پار لگایا۔ شاہد کی صرف 20 گیندوں پر 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 39 رنز کی اننگز نے سری لنکا کے کھلاڑیوں کے چہروں پر آئی مسکراہٹ چھین لی۔

شاہد آفریدی کو کفایتی باؤلنگ اور فتح گر بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی کو کفایتی باؤلنگ اور فتح گر بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: AFP)

پاکستان نے 146 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتداء ہی میں احمد شہزاد کی وکٹ گنوائی، لیکن اس میں احمد شہزاد کا قصور کم اور لاہیرو تھریمانے کے ناقابل یقین کیچ کا کمال زیادہ تھا۔ تھریمانے نے واضح طور پر باؤنڈری کی جانب جاتی ہوئی گیند کو بائیں جانب جست لگا کر تھام لیا۔ اس کے بعد شرجیل خان اور محمد حفیظ کے درمیان 57 رنز کی شراکت داری نے پاکستانی اننگز کو 11 ویں اوور تک مزید کوئی نقصان نہ اٹھانے دیا۔ لیکن اس مقام پر سری لنکا نے چند ہی گیندوں پر بازی اپنے حق میں کرلی۔ سب سے پہلے شرجیل خان ایک غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے تلکارتنے دلشان کے ایک عمدہ کیچ کا شکار ہوئے جبکہ محمد حفیظ اجنتھا مینڈس کی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے۔ شرجیل نے 34 اور حفیظ نے 32 رنز بنائے۔

عین اس مقام پر ایسا لگا کہ قسمت پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔ حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد آنے والے بلے باز صہیب مقصود نے باؤلر کی جانب ڈرائیو کھیلا تو گیند مینڈس کی انگلیوں کو چھوتی ہوئی نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر وکٹوں میں جا لگی۔ رن آؤٹ کی زوردار اپیل ہوئی اور ری پلے سے ظاہر ہوا کہ عمر اکمل کا بلّا کریز میں نہیں تھا۔ یوں عمر اکمل ایک بار پھر بوجھل قدموں کے ساتھ میدان سے لوٹے۔ پاکستان 76 رنز پر 4 وکٹیں گنوا چکا تھا اور کریز پر دو نوجوان کھلاڑی صہیب مقصود اور عمر امین موجود تھے۔ لیکن سری لنکا کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا ان کے بس کی بات نہ لگتی تھی۔ صہیب 13 اور عمر 8 رنز بنانے کے بعد مالنگا کی کمال باؤلنگ کا نشانہ بن گئے۔ سری لنکن ٹی ٹوئنٹی کپتان دنیش چندیمال نے کمال ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مالنگا کے تین اوورز آخری لمحات کے لیے بچا رکھے جو فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے تھے لیکن ان کی تمام امیدوں پر شاہد آفریدی نے پانی پھیر دیا۔

آفریدی نے 16 ویں اوور میں نووان کولاسیکرا کو دو زبردست چھکے رسید کرکے پاکستان کے لیے معاملہ جیسے ہی آسان کیا، صہیب مقصود آؤٹ ہوگئے۔ اس وقت بھی پاکستان کو 23 گیندوں پر 29 رنز کی ضرورت تھی اور اب تمام تر ذمہ داری شاہد آفریدی کے کاندھوں پر تھی جس کو انہوں نے بخوبی نبھایا۔ شاہد نے حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے مالنگا کے بجائے دوسرے باؤلرز کو نشانہ بنایا۔ آخری اوور کے آغاز پر پاکستان کو 6 رنز کی ضرورت تھی اور آفریدی نے پہلی گیند پر پیڈل سویپ کے ذریعے فائن لیگ پر چھکا حاصل کرکے مقابلے کا خاتمہ کردیا۔

قبل ازیں ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر 1 ٹیم سری لنکا نے پاکستان کی دعوت پر بیٹنگ شروع کی تو اسے ابتداء ہی میں تلکانے دلشان کی وکٹ گنوانی پڑی جو ایک انتہائی غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے احمد شہزاد کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ پاکستانی باؤلرز کی جارحانہ گیندبازی کے سامنے سری لنکا کے جانے مانے بلے بازوں کے لیے رنز بنانا مشکل ہو رہا تھا یہاں تک کہ 14 ویں اوور میں جب کمار سنگاکارا کی وکٹ گری تو اس وقت بھی اسکوربورڈ پر صرف 84 رنز موجود تھے۔ لیکن اس وقت قسمت کے دھنی اینجلو میتھیوز نے پاکستانی باؤلرز کو دن میں تارے دکھا دیے۔ شاہد آفریدی کی ایک زوردار ایل بی ڈبلیو اپیل پر بچ جانے والے اینجلو کی 34 گیندوں پر 50 رنز کی اننگز کی بدولت سری لنکا نے آخری 5 اوورز میں 56 رنز سمیٹے۔ لاہیرو تھریمانے نے 16 گیندوں پر ناقابل شکست 23 رنز کے ذریعے اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ سری لنکا ابتدائی حالات کو دیکھتے ہوئے ایک نسبتاً اچھے مجموعے 145 رنز پر پہنچا۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے دو وکٹیں حاصل کیں اور یوں بین الاقوامی کرکٹ میں 400 وکٹیں حاصل کرنے والے ساتویں پاکستانی باؤلر بن گئے۔ دو ہی وکٹیں سہیل تنویر کو بھی ملیں جبکہ ایک کھلاڑی کو شاہد آفریدی نے آؤٹ کیا۔ شاہد پاکستان کے تمام باؤلرز میں سب سے سستے بھی ثابت ہوئے جنہوں نے 4 اوورز میں محض 20 رنز دیے۔ جبکہ پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے عثمان شنواری سے صرف ایک اوور کروایا گیا جس میں انہوں نے 9 رنز کھائے۔

پاکستان کو سیریز میں ناقابل شکست برتری دلوانے والے شاہد آفریدی کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

پاک-لنکا سیریز کا دوسرا ٹی ٹوئنٹی 13 دسمبر کو دبئی ہی میں ہوگا جہاں فتح کی صورت میں پاکستان نہ صرف سیریز اپنے نام کرسکتا ہے بلکہ سری لنکا سے عالمی درجہ بندی کی نمبر ایک پوزیشن بھی چھین سکتا ہے۔

Facebook Comments