آسٹریلیا کی نظریں تاریخی وائٹ واش پر

انگلستان کے خلاف ناقابل یقین فتوحات سمیٹنے کے بعد اب آسٹریلیا کی نظریں 'سفیدی' پھیرنے یعنی 'وائٹ واش' پر ہیں۔ یعنی سیریز کے ایسے نتیجے پر، جس کی توقع انتہائی "خوش فہم" آسٹریلوی شائقین کو بھی نہ تھی۔ کیونکہ کچھ مہینے قبل یہی آسٹریلیا اسی حریف کے خلاف وائٹ واش کی ہزیمت سے بمشکل ہی بچ پایا تھا اور انگلستان نے 4 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز 3-0 سے جیت کر آسٹریلیا کو درحقیقت رلا دیا تھا، جس کے کوچ ڈیرن لیمن 'بے ایمانی کی گئی' جیسی بچکانہ باتوں پر اتر آئے تھے۔

ایک یادگار فتح اور اس کے فوراً بعد بدترین شکست انگلستان کے اعصاب کی کمزوری کی دلیل ہے (تصویر: Getty Images)

ایک یادگار فتح اور اس کے فوراً بعد بدترین شکست انگلستان کے اعصاب کی کمزوری کی دلیل ہے (تصویر: Getty Images)

لیکن ۔۔۔۔۔ جوابی ایشیز میں آسٹریلیا نے اب تک جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف شائقین بلکہ خود ان کے کھلاڑیوں کے لیے بھی حیران کن ہوگا۔ البتہ یہ کارکردگی اس امر کی دلیل بھی ہے کہ مائیکل کلارک الیون نے گزشتہ شکست کے بعد سر جوڑ کر سخت منصوبہ بندی کی ہے اور اس کا سہرا کپتان کے علاوہ کوچ کو بھی جاتا ہے جس کی بدولت وہ کھیل کے ہر شعبے میں انگلستان کو نکیل ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

برسبین، ایڈیلیڈ اور پرتھ میں بدترین شکستوں کے بعد انگلستان کو ملبورن اور سڈنی میں ہونے والے اگلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں شکست سے بچنا ہوگا ورنہ ایشیز تاریخ میں چوتھی مرتبہ وہ آسٹریلیا کے ہاتھوں وائٹ واش کا نشانہ بنے گا، جی ہاں! محض چوتھی مرتبہ۔

آسٹریلیا نے 1920-21ء کی ایشیز میں انگلستان کو 5-0 سے زیر کیا تھا جس کے بعد 1979-80ء میں گریگ چیپل کی زیر قیادت 'کینگروؤں' نے انگلستان کے تینوں مقابلوں میں شکست دے کر سیریز اپنے نام کی۔

تیسرا اور یادگار ترین موقع 2006-07ء میں آیا جب انگلستان 2005ء کی شاندار فتوحات کے بعد اعزاز کے دفاع کے لیے آسٹریلوی سرزمین پر اترا اور پھر وہی حال ہوا جو اس وقت 'کک الیون' کا ہے۔ 5-0 کی بدترین شکست کے بعد آسٹریلیا خوش بھی تھا اور افسردہ بھی، کیونکہ اس کے تین عظیم کھلاڑی شین وارن، گلین میک گرا اور جسٹن لینگر اس سیریز کے ساتھ ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے جبکہ ڈیمین مارٹن کی بھی یہ آخری سیریز تھی۔ تو کہا جا سکتا ہے کہ کئی سالوں تک دنیائے کرکٹ پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنے والے آسٹریلیا کے زوال کا نقطہ آغاز یہی تھا۔

ویسے حسن اتفاق ہے کہ جب بھی ایشیز میں ابتدائی تین مقابلوں کے بعد نتیجہ 3-0 سے آسٹریلیا کے حق میں رہا، ہر مرتبہ آسٹریلیا نے سیریز کے بقیہ مقابلے بھی جیتے اور وائٹ واش مکمل کیا یعنی تاریخ کا جھکاؤ آسٹریلیا کے حق میں دکھائی دیتا ہے، اور مائیکل کلارک ضرور چاہیں گے کہ وہ ایک ملے جلے بلکہ مایوس کن سال کا اختتام اور نئے سال کا آغاز بہترین انداز میں کریں۔

اگر آسٹریلیا ایسا کرنے میں کامیاب ہوا تو نہ صرف یہ فتوحات اس کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے کی سمت اہم قدم ہوں گی بلکہ یہ بھی ثابت کریں گی کہ انگلستان کو دنیائے کرکٹ کی حقیقی قوت بننے کے لیے ابھی بہت سے پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص یادگار فتوحات کے بعد بدترین شکستوں سے کام نہیں چلے گا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے ہی میدانوں پر بدترین شکست کے بعد بھارت میں تاریخی فتوحات اور پھر اپنی سرزمین پر باآسانی ایشیز جیتنے کے بعد آسٹریلیا میں جوابی دورے میں انگلستان کا یہ حال، صاف ظاہر کرتا ہے کہ انگلش کھلاڑیوں کے اعصاب کمزور ہیں۔

Facebook Comments