[فل لینتھ] جیت کے لیے شاہد آفریدی کی آل راؤنڈ کارکردگی درکار ہوگی

پاک-سری لنکا ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے اختتام کو پہنچی اور اب دونوں ٹیمیں آج سے اگلے مرحلے کے آغاز کے لیے تیار ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دونوں مقابلے خاصے سخت ہوئے، گو کہ سیریز کا خاتمہ برابری کی بنیاد پر ہوا لیکن پاکستان کے کھیل کے کئی پہلو اجاگر ہوئے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے لیے ہمیں ان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ سرفہرست تو بیٹنگ کی خامیاں ہیں، لیکن ساتھ ساتھ اس مرتبہ باؤلرز بھی کچھ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئے اور اس کی یقینی وجہ محمد عرفان کی عدم موجودگی تھی۔

شاہد کو اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرنا ہوگا کہ گیندبازی میں کمال کے ساتھ بلے سے بھی رنز اگلیں (تصویر: Getty Images)

شاہد کو اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرنا ہوگا کہ گیندبازی میں کمال کے ساتھ بلے سے بھی رنز اگلیں (تصویر: Getty Images)

خیر، ایک روزہ مقابلوں کے آغاز کے ساتھ کپتان کی تبدیلی کا فرق بھی واضح ہوکر سامنے آئے گا۔ مصباح الحق گو کہ انفرادی طور پر پورے سال بہت عمدہ کھیلے اور رنز سمیٹنے میں بھی کامیاب رہے لیکن اس کے باوجود ان کی دفاعی سوچ اور انداز کھیل پر واضح نظر آیا۔ پاکستان کے برعکس سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز نہ صرف اچھے آل راؤنڈر ہیں بلکہ ان کا قیادت کا جارحانہ انداز بھی نمایاں نظر آتا ہے اور میرے نزدیک یہی فرق پاک-لنکا ون ڈے میچز میں واضح طور پر نمایاں ہوگا۔

متحدہ عرب امارات کی وکٹوں کے مزاج کو سب جانتے ہیں، بیٹنگ کے لیے سازگار۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سری لنکا کے پاس لاستھ مالنگا جیسا باؤلر ہے جو سیٹ بلے بازوں کو بھی منٹوں میں چلتا کردیتا ہے، جبکہ پاکستان کی بیٹنگ لائن کا اس وقت یہ حال ہے کہ بیشتر کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ نہیں رکھتے۔ اس لیے ایک روزہ مقابلوں میں ہمارے نوجوان کھلاڑیوں پر دباؤ ہوگا اور اس کو کم کرنے کے لیے سینئر کھلاڑیوں جیسا کہ محمد حفیظ اور مصباح الحق کو ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ اس کے علاوہ اسد شفیق کو بھی اب اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہوگا۔ اب انہیں نووارد ہونے کی چھوٹ نہیں ملے گی، خاصے مواقع دیے جاچکے ہیں اور آج شارجہ میں اگر انہیں کھلایا گیا تو یہ ان کا 47 واں ون ڈے مقابلہ ہوگا۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ اگر سینئر کھلاڑی نہیں ہیں تو جونیئر بھی نہیں رہے۔ لہٰذا مقابلے کے اہم مرحلے پر ان کی وکٹ کا ضیاع پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے اس لیے انہیں بہرصورت کارکردگی دکھانا ہوگی۔

شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تو بہت ہی عمدہ کارکردگی دکھائی۔ گیند پکڑی یا بلّا تھاما یا فیلڈنگ میں ان کی کارکردگی کا مقابلوں کے نتیجے میں اہم کردار رہا۔ اگر پاکستان کو ایک روزہ سیریز جیتنی ہے تو اسے شاہد کی آل راؤنڈ کارکردگی درکار ہوگی۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آفریدی گیند بازی میں تو کمال دکھائیں لیکن بلّا رنز نہ اگلے۔ اس لیے انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

صہیب مقصود سے بہت جلد اور بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی گئی ہیں اور ایسا بہت کم کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ تماشائیوں سے لے کر ٹیم کے سینئر کھلاڑی تک آپ سے توقعات باندھ لیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سیریز میں صہیب پر دباؤ ہوگا۔ اگر وہ اپنا فطری کھیل پیش کرے تو نہ صرف انفرادی بلکہ پاکستان کے لیے بھی فیصلہ کن ہوسکتے ہیں۔ ایک چیز کو پلے سے باندھ لیں، مالنگا کے خلاف طیش میں نہیں آنا اور اجنتھا مینڈس کو خاطر میں نہیں لانا، وکٹ پر رک گئے تو صہیب رنز کے انبار لگا سکتے ہیں۔

اوپنر احمد شہزاد بھرپور فارم میں ہیں لیکن انہیں تھوڑا سنبھل کر کھیلنا ہوگا۔ گو کہ وہ اپنے فطری جارحانہ انداز سے ہٹ کر محتاط ہوکر ہی کھیل رہے ہیں لیکن جنوبی افریقہ میں تیز اور باؤنس کی حامل وکٹوں کے بعد اب یہاں انہیں الگ مزاج کی وکٹوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ کہنے کو تو عرب امارات میں بیٹنگ ٹریک ہیں، لیکن ان پر گیند اٹھ کر بلّے پر نہیں آئے گا اس لیے سمجھداری کے ساتھ گیند کا انتظار کرکے کھیلنا ہوگا۔

شرجیل خان نے ٹی ٹوئنٹی میں بہت شاندار کارکردگی دکھائی اور امید ہے کہ وہ ایک روزہ میں بھی ایک اچھے اوپنر کا کردار دکھائیں گے۔ البتہ سب سے افسوسناک پہلو عمر اکمل کا ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جسے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، ایک اضافی بلے باز کا کردار نبھا رہا ہے۔

اگر پاکستانی باؤلنگ کا جائزہ لیا جائے تو تمام تر انحصار بنیادی طور پر سعید اجمل اور ان کے بعد دیگر اسپنرز پر ہوگا کیونکہ محمد عرفان کے بغیر تیز باؤلنگ وہ دم خم نظر نہیں آتا۔ جنید خان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود کمار سنگاکارا اور تلکارتنے دلشان جیسے بلے بازوں کو شاید زیادہ پریشان نہ کرسکیں۔ رہی بات انور علی اور بلاول بھٹی کی تو وہ دونوں نوجوان ہیں، بجائے ان سے توقعات وابستہ کرنے یا حوصلہ شکنی کے صرف اتنا کہنا مناسب ہوگا کہ وہ صرف اور صرف اپنے کھیل پر توجہ دیں۔

گو کہ دل کی خواہش ہے کہ پاکستان کو ایک روزہ سیریز میں فتح نصیب ہو لیکن حقیقت سے نظریں نہ چرائی جائیں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سری لنکا زیادہ بہتر ٹیم لگتی ہے اور اس کا ہر کھلاڑی فتح گر نظر آتا ہے۔

Facebook Comments