سہیل تنویر پراتنا بھروسہ کیوں؟؟

سری لنکا کے خلاف جاری ایک روزہ سیریز کے ابتدائی دونوں مقابلوں میں پاکستانی بلے بازوں نے جس عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اظہار دو ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کی سنچریوں سے ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر بلے بازوں نے بھی بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر خوب مزے اڑائے ہیں لیکن شارجہ اور دبئی میں پاکستانی باؤلرز اپنی صلاحیتوں کا جادو بالکل نہیں جگا سکے اور یہی وجہ ہے کہ پہلے مقابلے میں 322 رنز کے بڑے مجموعے کی حفاظت بھی پاکستان کے لیے مشکل ہوگئی تھی جبکہ دوسرے مقابلے میں 284 رنز کا دفاع ناکام ہوا اور سری لنکا دو وکٹوں سے مقابلہ جیت کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

سہیل تنویر کے دو اوورز میں پڑنے والے 30 رنز سے سری لنکا پر سے دباؤ کا خاتمہ کردیا اوروہ مقابلے میں واپس آگیا (تصویر: AP)

سہیل تنویر کے دو اوورز میں پڑنے والے 30 رنز سے سری لنکا پر سے دباؤ کا خاتمہ کردیا اوروہ مقابلے میں واپس آگیا (تصویر: AP)

چند روز قبل یہی گیندباز جنوبی افریقہ کے بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچا رہے تھے، اور کم ترین اسکورز کا دفاع بھی کامیابی کے ساتھ کررہے تھے کیونکہ جنوبی افریقہ کے خلاف انہی میدانوں میں کھیلی گئی سیریز میں سپورٹنگ وکٹیں بنائی گئی تھیں، جن پر گیندبازوں نے کافی بہتر کارکردگی دکھائی لیکن سری لنکا کے خلاف اب تک کھیلے گئے دونوں مقابلے کے لیے روایتی ایک روزہ وکٹیں بنا کر بیٹسمینوں کا اعتماد تو بحال کروا لیا گیا ہے لیکن باؤلنگ لائن اپ کی قلعی کھل کر رہ گئی ہے جو بڑے اہداف کے دفاع سے بھی اصر دکھائی دے رہی ہے۔

باؤلرز کی خراب کارکردگی دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی شکست کی بڑی وجہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مصباح الحق کی غلط منصوبہ بندی نے بھی اس میچ میں گرین شرٹس کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ سیریز میں اب تک کھیلے گئے دونوں مقابلے میں مصباح یہ نہیں جان سکے کہ انہیں کس کھلاڑی پر کتنا بھروسہ کرنا چاہیے اور کس صورتحال میں کون سا کھلاڑی زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔

سیریز کے پہلے مقابلے میں سہیل تنویر نے 69 رنز کھائے جبکہ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے خلاف آخری مقابلے میں بھی انہیں 7.4 اوورز میں 42 رنز پڑے۔ اس کے باوجود مصباح نے سہیل تنویر پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے ان سے اہم مواقع پر باؤلنگ کروائی اور نتیجہ دوسرے اسپیل میں دو اوورز میں 30 رنز کھانے کی صورت میں نکلا۔ یہی دو اوورز تھے، جن میں رنز ملنے کے سبب سری لنکا کا اعتماد بحال ہوا اور وہ دباؤ سے نکل گیا۔

سہیل تنویر کے دوسرے اسپیل سے قبل جنید خان تین وکٹیں لے کے سری لنکا کو پچھلے قدموں پر دھکیل چکے تھے اور اس موقع پر لنکا کو تقریباً 9 رنز فی اوور کے اوسط سے آگے بڑھنے کی ضرورت تھی اور صرف 5 وکٹیں ہی باقی تھیں۔ لیکن سہیل نے اننگز کے چالیسویں اوور میں 11 رنز دے کر سری لنکا کو 200 کے سنگ میل تک پہنچا دیا اور پھر اپنے اگلے اوور میں 19 رنز دیے اور یوں مطلوبہ رن ریٹ کو 7.25 تک گرگیا۔

پہلے مقابلے میں 7 اوورز میں 30 رنز دینے والے شاہد کو بقیہ تین اوورز کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا لیکن سہیل تنویر سے پورے 10 اوورز کروائے گئے جس میں انہوں نے 69 رنز دے کو آخری حد تک سری لنکا کو فتح کے قریب پہنچایا جبکہ دوسرے مقابلے میں بھی سہیل تنویر پر اعتماد اسی سطح پر رکھا، اور اب نتیجہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دوسرے مقابلے میں محمد حفیظ نے 8 اوورز میں 39 رنز دیے لیکن اس کے باوجود ان سے مکمل 10 اوورز نہیں کروائے گئے جبکہ بلاول بھٹی کے 7 اوورز میں 39 رنز سہیل تنویر کے 9 اوورز میں 58 رنز سے کہیں بہتر کارکردگی تھی۔ لیکن مصباح کی نظر انتخاب نجانے کیوں ہمیشہ سہیل تنویر پر ہی جاکر ٹھہرتی ہے۔ بلاشبہ وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا بہتر باؤلر ہے لیکن ایک روزہ میں اہم مواقع پر وہ اعتماد پر پورا نہیں اتر رہا۔ پھر جنید خان کی جگہ سہیل تنویر نے باؤلنگ کا آغاز کروانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اس سال پاکستان کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرکی جگہ دوسرے باؤلر پر یہ حد درجہ بھروسہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

سہیل تنویر پر بھروسے کی وجہ شاید ان کا تجربہ ہے لیکن مصباح کو صرف سینئر کھلاڑیوں پر تکیہ کرنے کی عادت سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا کیونکہ جس طرح شرجیل خان اور صہیب مقصود جینے نئے بلے باز کارآمد ثابت ہو رہے ہیں اسی طرح مصباح کو نئے گیندبازوں پر بھی اعتماد کرنا چاہیے۔ موجودہ ٹیم میں بہترین تیز باؤلر جنید خان ہی ہیں، جو حالیہ کچھ عرصے میں متعدد بار تناؤ بھری صورتحال میں عمدگی سے باؤلنگ کروا چکے ہیں اور آنے والے مقابلے میں بھی سہیل پر جنید کو ترجیح دینا ہوگی۔

دوسرے ایک روزہ مقابلے میں کامیابی کے بعد سری لنکا نے ٹیم پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اب اتوار کو شارجہ میں ہونے والا مقابلہ بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہاں جیتنے والی ٹیم کو سیریز میں نفسیاتی برتری بھی حاصل ہوجائے گی۔ پاکستان کو دوسرے میچ میں شکست سے سبق سیکھ کر ٹیم میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اگر مصباح کسی "وجہ" سے سہیل تنویر کوڈراپ نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم آئندہ مقابلوں میں ان سے اننگز کے اختتامی اوورز میں بالکل باؤلنگ نہ کروائی جائےجبکہ انور علی کو اگلے مقابلے میں موقع دے کر سہیل تنویراور بلاول بھٹی میں سےکسی ایک کوآرام کا موقع دیا جائے۔

Facebook Comments