”سستا“ قطر اور قحط!!

پاکستان کرکٹ بورڈ کی عبوری انتظامی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے عندیہ دیا ہے کہ وطن عزیز میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی تک پاکستان کے مقابلوں کے لیے قطر نیا میزبان بن سکتا ہے جو متحدہ عرب امارات کی نسبت ”سستا“ ثابت ہوگا۔ قطر میں پاکستان، جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان اگلے ماہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں یعنی کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے خواب کی کوئی تعبیر نظر نہیں آتی۔

آخر پاکستانی تماشائی کب عمر اکمل اور احمد شہزاد کو پاکستان میں پہلا بین الاقوامی میچ کھیلتا دیکھیں گے؟ (تصویر: AFP)

آخر پاکستانی تماشائی کب عمر اکمل اور احمد شہزاد کو پاکستان میں پہلا بین الاقوامی میچ کھیلتا دیکھیں گے؟ (تصویر: AFP)

جب سوال پوچھا جاتا ہے کہ ملکی شائقین کب اپنے ہیروز کو اپنے ہی میدانوں پر غیر ملکی کھلاڑیوں سے نبرد آزما ہوتے دیکھ سکیں گے؟ کب عمر اکمل اور احمد شہزاد اپنے کیریئر کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ پاکستان میں کھیلیں گے تو اس کے جواب میں چپ سادھ لی جاتی ہے۔

3 مارچ کو بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان سے روٹھے ہوئے 4 سال مکمل ہو جائیں گے اور ان سالوں میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی جتنی مثبت کوششیں کی گئی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے گزشتہ سربراہان کی طرح موجودہ چیئرمین بھی محض زبانی جمع خرچ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کو دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے یعنی 'نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی'۔

گزشتہ چار سالوں میں دو مختلف حکومتوں کے ادوار میں دہشت گردی کا خاتمہ تو نہیں ہو سکا، البتہ اس کی شدت میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ کبھی دہشت گردمصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل نہیں نکل سکا بلکہ حکومتیں بھی دہشت گردوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اس ماحول کے باوجود ملک بھر میں خوشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے تو جب ان حالات میں بھی ملک میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے تو پھر بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کی جا رہیں؟

اگر پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس آتی ہے تو اس کا فائدہ کھلاڑیوں اور شائقین کو ہوگا لیکن غالباً کرکٹ بورڈ کے عہدیداران کے لیے بیرون ملک 'ہوم سیریز' کھیلنا زیادہ نفع کا سودا ہے۔ اس سے عہدیداران کو گھومنے پھرنے، اہل خانہ کو ساتھ لے جانے اور شاپنگ کرانے ک اموقع بھی گاہے بگاہے ملتا رہا ہے جو بین الاقوامی کرکٹ کی ملک میں واپسی کی صورت میں نہیں ملے گا۔ دبئی،ابوظہبی اور شارجہ سے دل بھرجانے کے بعد اب نئے مقام کی تلاش ہے، جہاں شاید تفریح کے نئے مواقع ڈھونڈے جا رہے ہیں۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لانا ہرگز آسان نہيں لیکن حالات سدھرنے کا مزید کتنا انتظار کیا جائے گا؟ کب تک 'ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا' رہیں گے؟ 4 سالوں میں بہتر نہ ہونے والے حالات کے سدھرنے میں آئندہ کتنے سال لگیں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے پی سی بی سربراہ نے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح وقت گزارنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔

حالیہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران پی سی بی نے قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں ایسی سیکورٹی فراہم کی تھی کہ چڑیا بھی پر نہ مار سکے اور تماشائیوں سے زیادہ تعداد اسٹیڈیم سے باہر پولیس کی تھی جبکہ تماشائیوں کو ایک کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ ٹورنامنٹ کے پہلے دن کے آر ایل کی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کو پولیس اہلکاروں نے داخلی راستے پر روک لیا جنہوں نے اپنی کٹ دکھا کر پولیس کو مطمئن کیا کہ وہ اس ایونٹ میں حصہ لینے میں کھلاڑیوں میں سے ہیں، جن کے لیے ہی اتنی سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔اگر پی سی بی ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کو اس قدر عمدہ سیکورٹی فراہم کرسکتا ہے تو پھر انٹرنیشنل مقابلوں میں سیکورٹی کا معیار اور بھی بڑھایاجاسکتا ہے۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کی رہائش کا مسئلہ انہیں نیشنل اکیڈمی میں ٹھہرا کر حل کیا جاسکتا ہے جہاں سہولیات کسی فائیو اسٹار ہوٹل سے کم نہیں ہیں جبکہ کھلاڑیوں کی اکیڈمی سے اسٹیڈیم آمدورفت کے لیے ایک زیر زمین راستہ بھی بنایا جاسکتا ہے جہاں سے کھلاڑیوں کو خفیہ طور پر نیشنل اکیڈمی سے قذافی اسٹیڈیم پہنچا دیا جائے۔ان باتوں کے جواب میں ایسا کہنا بہت آسان ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا لیکن قذافی اسٹیڈیم میں آرام دہ نشستوں پر بیٹھے عہدیدار اگر نیک نیتی سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس لانے کا عزم کرلیں تو ایسا کرنا ناممکن بھی نہیں ہے۔اکیڈمی سے اسٹیڈیم کے درمیان زیر زمین راستہ بنا کرکسی بین الاقوامی ٹیم کو محض دو ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے تو مدعو کیا جاسکتاہے، جو فول پروف سیکورٹی کے درمیان میچز کھیل کر 48 گھنٹوں میں اپنے ملک واپس چلی جائے اور جس طرح سانحہ 3 مارچ کے بعد سری لنکن کھلاڑیوں کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر ایئرپورٹ پہنچایا گیا تھا، بالکل اسی طرح ہیلی کاپٹر کو آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پی سی بی کے عہدیداروں کی تفریح کے باعث سستا قطر بھی ”مہنگا“ ہی ثابت ہوگااور جب ان عہدیداروں کا دل قطر سے بھی بھر جائے گا تو پھر کوئی نیا اور ”سستا“ مقام تلاش کیا جائے گا؟ یہ نہیں معلوم البتہ یہ بات یقینی ہے کہ اس سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا قحط مزید بڑھ جائے گا۔

Facebook Comments