احمد شہزاد دلشان کے بعد ساتھی کھلاڑی سے بھی الجھ پڑے

پاکستان کے اوپنر احمد شہزاد اپنی حالیہ کارکردگی کی بدولت آجکل عوام کے ہیرو بنے ہوئے ہیں، لیکن ان کی بدمزاجی اور تندخوئی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں بارہا وہ اپنی تیز طبیعت کی وجہ سے تنبیہ اور جرمانوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ پاک-سری لنکا گزشتہ ایک روزہ مقابلے میں سری لنکا کے اوپنر تلکارتنے دلشان کے ساتھ تلخ کلامی اور دھکم پیل کے جرم میں انہیں اپنی آدھی میچ فیس گنوانا پڑی۔

اگر احمد شہزاد نے کارکردگی کے ساتھ ساتھ ڈسپلن کو بھی بہتر نہ بنایا تو وہ اینڈریو سائمنڈز کی طرح ہمیشہ کے لیے ٹیم سے باہر ہوجائیں گے (تصویر: Getty Images)

اگر احمد شہزاد نے کارکردگی کے ساتھ ساتھ ڈسپلن کو بھی بہتر نہ بنایا تو وہ اینڈریو سائمنڈز کی طرح ہمیشہ کے لیے ٹیم سے باہر ہوجائیں گے (تصویر: Getty Images)

لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اس دن احمد شہزاد لڑائی جھگڑے کی ٹھان کر آئے تھے اور جب تیسرا ون ڈے جیتنے کے بعد ٹیم ہوٹل واپسی کے لیے بس میں سوار ہو رہی تھی تو اس وقت وہ ساتھی وکٹ کیپر عمر اکمل سے الجھ پڑے۔ معاملہ تلخ کلامی سے گالم گلوچ تک پہنچا اور انہیں دست و گریباں ہونے سے روکنے کے لیے چند سینئر کھلاڑیوں نے بھی کودنے کی کوشش کی لیکن احمد شہزاد بے قابو ہوگئے یہاں تک کہ ٹیم مینیجر معین خان نے دونوں منہ زور کھلاڑیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروایا۔

بلاشبہ احمد شہزاد کی کارکردگی اچھی ہے اور پاکستان کو اس کی سخت ضرورت بھی ہے لیکن نظم و ضبط کے حوالے سے تین سال پہلے کے اور اب کے احمد شہزاد میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اگر انہوں نے اپنے رویے میں بہتری نہ کی تو عین ممکن ہے کہ ان کا کرکٹ کیریئر اختتام کو پہنچ جائے جیسا کہ آسٹریلیا کے آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز کا پہنچا تھا۔

بارہا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر احمد شہزاد کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم مینیجر کی رپورٹ کے بعد عبوری انتظامی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ان کے خلاف ایکشن لیں گے؟

Facebook Comments