حفیظ کی واپسی۔۔۔تلوار کس پر گرے گی؟؟

چند روز قبل ہی میں نے لکھا تھا کہ طرف ایک فارمیٹ میں ناقص کارکردگی کی پاداش میں کسی کھلاڑی کو دوسری طرز کی کرکٹ سے بھی باہر کردینا درست روش نہیں ہے اور اسی طرح ایک فارمیٹ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ اس کھلاڑی کو دوسرے فارمیٹ میں واپس بلا کر نہیں دیا جا سکتا، بلکہ جو کھلاڑی جس طرز کی کرکٹ میں فٹ ہے، اسے وہیں کھلانا چاہیے۔ محمد حفیظ اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے قومی ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہوچکے تھے لیکن ایک سیریز سے ڈراپ ہونے کے بعد حفیظ نے سری لنکا کے خلاف تادم تحریر چار ون ڈے مقابلوں میں تین سنچریاں بنا کر نہ صرف ایک روزہ ٹیم میں اپنی جگہ بلکہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں قیادت کو بھی بچا لیا ہے۔ یوں رنگین یونیفارم میں عمدہ کارکردگی کے صلے میں سلیکشن کمیٹی نے 'پروفیسر' کو سفید وردی بھی واپس کردی ہے۔

حفیظ کی واپسی پر فائنل الیون سے باہر ہونے کی تلوار کس کی گردن پر پڑے گی؟ "موزوں ترین امیدوار" اظہر علی ہی دکھائی دیتے ہیں (تصویر: AP)

حفیظ کی واپسی پر فائنل الیون سے باہر ہونے کی تلوار کس کی گردن پر پڑے گی؟ "موزوں ترین امیدوار" اظہر علی ہی دکھائی دیتے ہیں (تصویر: AP)

پاکستان کے ٹیسٹ دستے میں پہلے ہی خرم منظور اور شان مسعود جیسے ہونہار اوپنرز موجود ہیں جنہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سیریز میں کسی طرح محمد حفیظ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی بلکہ دونوں اوپنرز نے رواں سال پاکستان کے لیے سب سے بڑی افتتاحی شراکت داری بھی قائم کی لیکن اب سری لنکا کے خلاف سیریز میں ان دونوں اوپنرز کے سر پر سینئر بلے باز محمد حفیظ کی صورت میں تلوار لٹکا دی گئی ہے۔

محمد حفیظ سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اپنے کیریئر کی بہترین فارم سے گزر رہے ہیں اور ان کے پاس سیریز کے آخری ون ڈے میں چوتھی سنچری بنا کر تاریخ رقم کردینے کا موقع بھی موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے تجربہ کار بلے باز کو ٹیسٹ سیریز کےلیے منتخب کیا ہے۔ کیونکہ ایک 'مکتبہ فکر' کا یہ ماننا ہے کہ جب بلے باز فارم میں ہو تو اسے ہر طرح کی کرکٹ کھلانی چاہیے۔ لیکن محمد حفیظ کی واپسی کی صورت میں شان مسعود اور خرم منظور پر دباؤ قائم ہوگا جو جنوبی افریقہ کے خلاف کارکردگی پیش کرنے کے بعد پاک-لنکا ٹیسٹ سیریز کے لیے آٹومیٹک چوائس تھے جبکہ گزشتہ سیریز میں تیسرے اوپنر کے طور پر منتخب ہونے والے احمد شہزاد بھی اسکواڈ میں موجود ہیں۔

محمد حفیظ جیسے سینئر بلے باز کو منتخب کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں گنتی پوری کرنے کے لیے شامل کیا گیا ہے بلکہ "پروفیسر" کا سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کھیلنا یقینی ہے۔ حفیظ کو فائنل الیون میں شامل کرنے کے لیے اگر شان یا خرم میں سے کسی ایک کو باہر نکالا گیا تو یہ ان نوجوانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جنہوں نے دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک کے خلاف عمدہ کارکردگی دکھائی تھی۔

آگے نظر ڈالیں، مڈل آرڈر میں یونس خان، مصباح اور اسد شفیق کی نشستیں تو پکی ہیں اور اوپنرز میں سے بھی کسی کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ ایسی صورت میں حفیظ کے لیے ون ڈاؤن پوزیشن پر ہی جگہ نکلے گی جس کے لیے اظہر علی کو اپنی جگہ خالی کرنا پڑے گی، جو رواں سال خراب فارم کا شکار رہے اور 7 ٹیسٹ مقابلوں میں محض 19.28 کے اوسط سے 270 رنز بنائے جو اظہر کی ناکامی کی داستان سنا رہے ہیں۔ مگر گزشتہ سال پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے اظہر پچھلے سال کے اختتام تک 45 سے زیادہ کی اوسط کے مالک تھے اور رواں سال خراب کارکردگی کے باوجود اظہر کی مجموعی اوسط 40 کے قریب ہے۔ اگر محمد حفیظ کو ایک روزہ کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا صلہ دے کر ٹیسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے تو یہ سہولت اظہر علی کو کیوں حاصل نہیں؟ جو اس فارمیٹ میں 41 کے اوسط کے باوجود پاکستان کی ایک روزہ ٹیم سے باہر ہے۔

اظہر علی کی ٹیسٹ فارمیٹ میں حالیہ فارم خراب ہے لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے بعد وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں تین سنچریاں بنا چکے ہیں، اور اعتماد کی بحالی کے لیے انہيں سری لنکا کے خلاف موقع دینا ضروری ہے کیونکہ اظہر اور اسد آنے والے سالوں میں مصباح اور یونس کا نعم البدل ثابت ہوں گے۔ مگر نوجوانوں کا اعتماد متزلزل کرنے کی روایت برقرار رہی تو پھر آنے والے برسوں میں پاکستان کا مڈل آرڈر بھی کھوکھلا ہو سکتا ہے۔ پھر شان مسعود اور خرم منظور کو پورے مواقع دیے بغیر 'ان اینڈ آؤٹ' کا شکار بنایا گیا تو یہ شعبہ پھر عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔

سری لنکا کے خلاف پاکستان 'ہوم سیریز' کھیل رہا ہے لیکن اس کے باوجود تین ٹیسٹ مقابلوں کے لیے اعلان کردہ ٹیم سمجھ سے باہر ہے۔ دنیا بھر میں ہوم سیریز کے لیے ہر ٹیسٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ 12 رکنی دستوں کا اعلان ہوتا ہے مگر پاکستانی سلیکٹرز پوری سیریز کے لیے ٹیم منتخب کرکے اپنے کام سے فارغ ہوجاتے ہیں۔

اگر صرف پہلے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے اسی ٹیم کو برقرار رکھا جاتا جو جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلی تھی تو زیادہ مشکلات نہ ہوتیں مگر تینوں ٹیسٹ مقابلوں کے لیے 15 رکنی ٹیم کا اعلان اور محمد حفیظ کی واپسی کروا کر سلیکشن کمیٹی نے نوجوان بلے بازوں پر سخت دباؤ ڈال دیا ہے۔ کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی گردن پر فائنل الیون سے ڈراپ ہونے کی تلوار گرے گی اور فی الوقت اس کے سب سے "موزوں امیدوار" اظہر علی ہی نظر آ رہے ہیں لیکن آخری وقت میں اگر اسد شفیق کو ایک مرتبہ پھر باہر کا دروازہ دکھایا گیا تو شاید کسی کو حیرت نہ ہو!!

Facebook Comments