[سالنامہ 2013ء] جو دنیائے کرکٹ کو ویران کرگئے!

یکم جنوری کا سورج اسی طرح طلوع ہوگا جیسا کہ 2013ء کے آخری دن ہوا تھا اور نئے سال کے ’’عہد‘‘ باندھنے والوں کے لیے بھی کچھ تبدیل نہ ہوگا، جو چند دن تک انقلابی باتیں کرنے کے بعد پھر معمول کا حصہ بن جائیں گے مگر 2014ء اور پھر اس کے بعد شائقین کرکٹ دوبارہ سچن تنڈولکر کو کھیلتا ہوئے نہ دیکھ سکیں گے۔ژاک کیلس کی تینوں شعبوں میں مہارت بھی آئندہ دیکھنے کو نہیں ملے گی ، ’’مسٹر کرکٹ‘‘ مائیکل ہسی بھی دوبارہ آسٹریلیا کی نمائندگی نہیں کریں گے اورگریم سوان جیسا اسپنر بھی اب کرکٹ کے میدانوں میں دکھائی نہیں دے گا۔ ٹونی گریگ کی آواز بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں منیر حسین کی صحافت کا باب بھی بند ہوچکا ہے ۔2014ء میں سب کچھ معمول کے مطابق ہوگا ،کرکٹ میچز بھی اسی جوش وخروش کے ساتھ کھیلے جائیں گے۔شائقین کی دیوانگی بھی برقرار رہے گی لیکن سچن اور کیلس جیسے کرکٹرز کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی جن کا نعم البدل ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے جبکہ آسٹریلین اور انگلش ٹیم کو بھی مائیکل ہسی اور گریم سوان جیسے کرداروں کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔

الوداع سچن، ٹیسٹ کی تاریخ کا اہم باب اس سال بند ہوگیا (تصویر: BCCI)

الوداع سچن، ٹیسٹ کی تاریخ کا اہم باب اس سال بند ہوگیا (تصویر: BCCI)

سچن تنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے اور بیٹنگ کے کم و بیش تمام تر ریکارڈز عظیم بیٹسمین کے قدموں تلے ہیں جنہوں نے 24 سال تک بھارت کے لیے لازوال کارنامے دکھائے اور کرکٹ کے میدانوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کے لیے عظیم سچن نے 2013ء کا انتخاب کیا جب انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ ممبئی پر کیرئیر کا 200واں ٹیسٹ کھیلتے ہوئے اس کھیل کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا ۔

2013ء کا آغاز ’’مسٹر کرکٹ‘‘ مائیکل ہسی کی اچانک ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہوا جنہوں نے سری لنکا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو چھوڑنے کا اعلان کردیااور رکی پونٹنگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد مائیکل ہسی کا یوں ریٹائر ہوجانا آسٹریلین ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہواجس سے کینگروز اس وقت تک نہیں نکل پائے جب تک کہ حالیہ ایشیز سیریز شروع نہيں ہوئی۔ سڈنی کا یہی ٹیسٹ میچ سری لنکن مڈل آرڈر بیٹسمین تھیلان سماراویرا کے کیرئیر کا بھی آخری ٹیسٹ میچ ثابت ہوا جنہوں نے اپنے ملک کے لیے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ٹیسٹ رنز اسکور کرنے کے بعد مارچ میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

’’ آسٹریلین سمرز‘‘ اس مرتبہ کافی بھاری ثابت ہوئیں، جس میں رکی پونٹنگ اور مائیکل ہسی کی ریٹائرمنٹ کے علاوہ معروف کمنٹریٹر ٹونی گریگ 29دسمبر کو جان کی بازی ہار گئے اور انگلینڈ کے سابق کپتان کی آخری رسومات 2013ء کے ابتدائی دنوں میں ادا کی گئیں۔ پاکستان میں اردو کرکٹ کمنٹری کے بانی منیر حسین بھی اس سال داغ مفارقت دے گئے ۔ سال کے پہلے دن ایم سی سی کے سابق صدر اور کمنٹیٹر کرسٹوفر مارٹن جینکنز کینسر کے خلاف طویل جنگ ہار کر ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سوگئے۔6 جنوری کو جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ بالر نیل ایڈکاک کا انتقال ہوا جبکہ 13جنوری کو سابق سری لنکن وکٹ کیپر گائے ڈی ایلوس اور بھارتی آل راؤنڈر روسی سورتی کا انتقال ہوا۔23 جنوری کو سابق پروٹیز کپتان پیٹر وان ڈر مرو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔8مارچ کو پاکستان کے سابق آف اسپنر حسیب احسن کا انتقال ہوا جبکہ اسی سال انگلینڈ کے عظیم بیٹسمین جیک ہابس بھی اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔

مائیکل ہسی نے اپنے دور عروج میں بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ گئے (تصویر: Getty Images)

مائیکل ہسی نے اپنے دور عروج میں بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ گئے (تصویر: Getty Images)

رچرڈ ہیڈلی کے بعد نیوزی لینڈ کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والا کرس مارٹن بھی 38 برس کی عمر میں اس سال دنیائے کرکٹ کو الوداع کہہ گیا۔ 2005ء کی تاریخی ایشیز سیریز کے ہیروز فاسٹ بالرز اسٹیو ہارمیسن اور میتھیو ہوگرڈ نے بھی اس سال فرسٹ کلاس کرکٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیاجبکہ سابق ٹیسٹ بیٹسمین اویس شاہ نے بھی کاؤنٹی کرکٹ کو الوداع کہہ دیاجبکہ بھارت کے ایک سابق فاسٹ بالر اجیت آگرکر نے بھی کرکٹ کے میدانوں کو خیر باد کہہ دیا۔کینیڈا کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین اشیش بگائی نے بھی اپنے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔اس کے علاوہ ماضی کے نامور لیگ اسپنر شین وارن اور راہول ڈریوڈ نے اپنے ٹی 20 کیرئیر کے خاتمے کا اعلان کیا۔

سال کے آخرمیں سوان کے بعد ژاک کیلس بھی اپنے مداحوں کو دکھی کرکے چلے گئے، جنہوں نے سال کا آخری ٹیسٹ کھیل کر اپنے 18 سالہ کیرئیر کا خاتمہ کیا۔ انہیں دنیائے کرکٹ کا عظیم ترین آل راؤنڈر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔2013ء کا سال کھیل کے اعتبار سے کیسا رہا، اس میں کون سے نئے ریکارڈز بنے اور کون سے ریکارڈز پاش پاش ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے مگر 2013ء کا سال کرکٹ کی دنیا کو ویران کرکے چلا گیا ہے کیونکہ ان 12 مہینوں میں جو کھلاڑی اس کھیل سے دور ہوئے ہیں ان کی کمی شاید پوری نہ ہوسکے۔

سال 2013ء کا اختتام ژاک کیلس کے 18 سالہ کیریئر کے خاتمے کے ساتھ ہوا (تصویر: Getty Images)

سال 2013ء کا اختتام ژاک کیلس کے 18 سالہ کیریئر کے خاتمے کے ساتھ ہوا (تصویر: Getty Images)

Facebook Comments