فائنل تک رسائی کا پہلا معرکہ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا آمنے سامنے

عالمی کپ 2011ء اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور اب مقابلے دوسرے سے تیسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پہلا مقابلہ آج (منگل کو) میزبان سری لنکا اور بلیک کیپس نیوزی لینڈ کے درمیان ہوگا۔

نیوزی لینڈ جو عرصہ دراز سے بڑی فتوحات کی تلاش میں سرگرداں تھا، بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیم کے خلاف ہزیمت آمیز وائٹ واش اور پاکستان کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر ہار کا داغ لیے عالمی کپ میں پہنچا اور سوائے پاکستان کو ہرانے کے کوئی بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک دن میں وہ فرش سے عرش پر پہنچ گیا جب اس نے کوارٹر فائنل میں فیورٹ جنوبی افریقہ جیسے مضبوط حریف کو زیر کیا۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی، جنوبی افریقہ جیسی شاندار بیٹنگ لائن اپ کے خلاف 222 رنز کا باآسانی دفاع کر لینا بلیک کیپس کی بلند حوصلگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں نیوزی لینڈ چھٹی مرتبہ عالمی کپ کے سیمی فائنل تک پہنچا ہے۔ بدقسمت ٹیم کبھی بھی عالمی کپ کے فائنل تک نہیں پہنچ پائی اور اس مرتبہ ان کا ہدف ایک ہی ہوگا کہ حریف کو شکست دے کر فائنل میں جگہ پائیں۔ نیوزی لینڈ سیمی فائنل مرحلے میں جگہ پانے والی واحد غیر ایشیائی ٹیم ہے، اس کے علاوہ تینوں ٹیمیں ایشیا سے تعلق رکھتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کا اصل مقابلہ سری لنکا کی مضبوط بلے بازی سے ہوگا (اے ایف پی)

نیوزی لینڈ کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی سب سے خطرناک موڈ میں نظر آنے والی ٹیم سری لنکا سے ہے جو گروپ میچز میں صرف پاکستان سے زیر ہوئی۔ لنکن شیروں نے کوارٹر فائنل میں انگلستان کو جس طرح بری طرح کچلا ہے وہ ان کے فاتحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔ 229 رنز کا ہدف بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے اور 40 اوورز سے بھی قبل حاصل کر لینا تو ٹورنامنٹ کی سب سے مضبوط لائن اپ بھارت کے بس کی بھی بات نہیں لیکن یہ کارنامہ سری لنکا نے انجام دیا ہے۔ سری لنکا نے آسٹریلیا کے خلاف اسپن جال بچھایا تھا لیکن خوش قسمتی سے بارش نے آسٹریلیا کو اس میں گرنے سے بچا لیا اور سری لنکن ٹیم انتظامیہ یہ بھی جانتی ہے کہ نیوزی لینڈ اسپنرز کو کھیلنے میں کمزور ہے اس لیے وہ ایک مرتبہ پھر یہی تکنیک بروئے کار لائیں گے۔ پہلا سیمی فائنل پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو کی اسی پچ پر کھیلا جائے گا جس پر انکلستان اور سری لنکا کا کوارٹر فائنل ہوا تھا۔ یہ اسپنرز کے لیے انتہائی مددگار پچ ہوگی اور اس کا زیادہ فائدہ سری لنکن باؤلرز کو ہوگا۔ گو کہ گروپ مرحلے میں جب دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئی تھیں تو صورتحال تھوڑی مختلف تھی کیوں کہ دونوں ٹیموں کا مقابلہ ممبئی میں تھا اور اب وہ کولمبو میں مدمقابل ہوں گی اس لیے اسپنرز کا کردار بہرحال اہم ہوگا۔ سری لنکا کے لیے ایک بری خبر یہ ہے کہ لیجنڈری اسپنر متیاہ مرلی دھرن مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں۔ ان کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کافیصلہ میچ سےقبل کیا جائے گا۔

بظاہر دیکھا جائے تو اسے سری لنکا کی خوش قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ وہ کوارٹر فائنل میں فتح کے بعد جنوبی افریقہ سے ٹکراؤ کی توقعات لگائے بیٹھا تھا لیکن اب اس کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہو رہا ہے جو کاغذ پر جنوبی افریقہ سے کہیں کمزور حریف ہے۔ لیکن بلیک کیپس نے گزشتہ میچ میں جس طرح کی باؤلنگ اور فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا ہے اس نے سری لنکا کے لیے خطرے کی گھنٹی ضرور بجا دی ہوگی اور وہ ہر گز انہیں کمزور حریف نہیں سمجھے گا۔ پھر جس ٹیم کے اندر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والا کھلاڑی روز ٹیلر ہو اسے کون کمتر سمجھ سکتا ہے؟

اس میچ میں دو چیزیں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں ایک سری لنکن ابتدائی بلے باز تلکارتنے دلشان، اوپل تھارنگا، کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے کی بلے بازی اور دوسری طرف نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ۔ سری لنکا نے انگلستان کے خلاف گزشتہ میچ میں جس طرح کی فیلڈنگ کی ہے، جس میں تین آسان کیچز ڈراپ کیے گئے، اس طرح کی کارکردگی اگر دہرائی گئی تو یہ سری لنکا کو عالمی کپ سے باہر کر سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں نیوزی لینڈ فیلڈنگ کے شعبے میں اپنے ایشیائی حریف سے کہیں زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔

عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے گزشتہ چاروں مقابلے سری لنکا کے نام رہے ہیں اور میزبان ٹیم اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دے گی۔ گزشتہ عالمی کپ 2007ء میں بھی یہ دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھیں جس میں سری لنکا نے نیوزی لینڈ کو 81 رنز سے شکست دی تھی۔

اگر نیوزی لینڈ سیمی فائنل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ چھ کوششوں میں پہلا موقع ہوگا جس میں بلیک کیپس کا سفر سیمی فائنل سے آگے جائے گا۔ اس سے قبل تمام 5 مقابلوں میں نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل ہی میں شکست ہوئی ہے۔ دوسری جانب اگر فتح سری لنکا کے قدم چومتی ہے تو یہ تیسرا موقع ہوگا جب وہ فائنل تک رسائی حاصل کرے گا۔ 1996ء کے عالمی کپ کے فائنل میں انہوں نے آسٹریلیا کو شکست دے کر اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا جبکہ دوسری مرتبہ 2007ء میں وہ فائنل تک پہنچے جہاں آسٹریلیا نے انہیں شکست دے کر 1996ء کا بدلہ چکایا۔

Facebook Comments