[سالنامہ 2013ء] سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی

2013ء ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے ایک مصروف سال رہا اور ٹیسٹ کھیلنے والے تمام ہی ممالک نے اس سال طویل ترین طرز میں اپنی صلاحیتوں کو آزمایا، جن میں سب سے نمایاں روایتی حریف آسٹریلیا و انگلستان کے مابین کھیلی گئی دو پے در پے ایشیز سیریز تھیں جن میں میزبانوں نے حریف کو چاروں شانے چت کیا۔ پہلے انگلستان اپنے ملک میں ہونے والی سیریز میں تین-صفر سے فتحیاب ٹھہرا تو اب آسٹریلیا میں ہونے والی ایشیز میں اب تک ہونے والے چاروں مقابلے میزبان کے نام رہے ہیں۔

مائیکل کلارک نے ایک مرتبہ پھر سال میں ایک ہزار رنز بنائے اور سال کے بہترین کھلاڑی اور سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کے آئی سی سی ایوارڈز بھی جیتے (تصویر: Getty Images)

مائیکل کلارک نے ایک مرتبہ پھر سال میں ایک ہزار رنز بنائے اور سال کے بہترین کھلاڑی اور سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کے آئی سی سی ایوارڈز بھی جیتے (تصویر: Getty Images)

دوسری جانب پاکستان کے لیے رواں سال مایوس کن رہا اور سال بھر کی جدوجہد کے باوجود وہ کوئی ٹیسٹ سیریز نہ جیت پایا ۔ پاکستان نہ صرف دورۂ جنوبی افریقہ میں کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہو ابلکہ اس کے بعد زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی گئی اگلی دونوں سیریز جیتنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکا اور یوں پورا سال بغیر کسی کامیابی کے گزر گیا۔

اگر سال بھر میں کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بلے بازوں میں آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک ایک مرتبہ پھر نمایاں رہے۔ 'پپ' نے 2013ء میں 13 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 47.52 کے اوسط اور 4 سنچریوں اور 3 نصف سنچریوں کی مدد سے 1093 رنز اسکور کیے۔ انگلستان کے ناکام دورے کے اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں بنائے گئے 187 رنز ان کا بہترین اسکور رہا اور یہی وہ اننگز تھی جس کی بدولت آسٹریلیا ایشیز میں کلین سویپ کی ہزیمت سے بچا۔

کلارک گزشتہ سال یعنی 2012ء کی طرح ڈبل سنچریاں تو نہ جڑ سکے لیکن ان کی ملی جلی کارکردگی کے باعث رواں سال آسٹریلیا کے نتائج بھی ملے جلے رہے۔ سری لنکا کے خلاف کلین سویپ سے سال کا آغاز کرنے والے آسٹریلیا نے اختتام انگلستان کے خلاف چار-صفر کی شاندار برتری کے ساتھ کیا لیکن درمیان میں بھارت کے خلاف چار-صفر اور انگلستان کے خلاف سال کی پہلی ایشیز سیریز میں تین-صفر کی بدترین شکست نے ٹیسٹ کپتان کو کافی مایوس کیا ہوگا۔ لیکن مائیکل کلارک وقتاً فوقتاً قائدانہ اننگز کھیلتے رہے جیسا کہ چنئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 130 رنز، حیدرآباد ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 91 رنز اور پھر انگلستان میں اولڈ ٹریفرڈ میں 187 رنز کی شاندار باری نے ان کی فارم کو زنگ نہ لگنے دیا۔ سال کی آخری سیریز میں، کلارک نے کیریئر کا 100 وواںواں ٹیسٹ بھی کھیلا اور برسبین اور ایڈیلیڈ ٹیسٹ میچز میں سنچریاں جڑیں اور یوں آسٹریلیا کی فتوحات میں مرکزی کردار ادا کیا۔

اسی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر مائیکل کلارک کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سال کے بہترین کھلاڑی اور سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کے دو اعلی ترین اعزازات سے نوازا۔

ان کے بعد انگلستان کے این بیل کا نمبر ہے جو اس وقت تو سال میں ایک ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے سال کے دوسرے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 2013ء میں 14 ٹیسٹ مقابلوں میں 41.87 کے اوسط سے 1005 رنزبنائے۔ بیل کی رواں سال کارکردگی کابڑا حصہ ہوم گراؤنڈ پر ایشیز فتوحات کا رہا جہاں ٹرینٹ برج، لارڈز اور چیسٹر-لی-اسٹریٹ میں انہوں نے شاندار سنچریاں بنائیں اور ٹیم کو فتوحات کی جانب لے گئے۔ لیکن جوابی دورۂ آسٹریلیا کے چار مقابلوں میں وہ دو نصف سنچریوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔

تیسرا نام جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر بیٹسمین ابراہم ڈی ولیئرز کا ہے جنہوں نے رواں سال صرف 9 ٹیسٹ مقابلوں میں 933رنز اسکور کی۔ 77.75 کے شاندار اوسط کےساتھ بنائے گئے ان رنز میں 4 سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ڈی ولیئرز نے 2013ء میں جس تواتر کے ساتھ رنز بنائے، ان کے علاوہ کسی نے نہیں اسکور کیے۔ سال کاآغاز نیوزی لینڈ کے خلاف سیريز کے دو مقابلوں سے کیا اور دونوں میں کھیلی گئی واحد اننگز میں انہوں نے نصف سنچریاں بنائیں اور پھر پاکستان کی باری آئی، جس کے خلاف کھیلے گئے لگاتار 5 مقابلوں میں انہوں نے تین سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بنائیں۔ انہوں نے اس وقت جب جنوبی افریقہ سیریز میں ایک-صفر سے خسارے میں تھے، دبئی ٹیسٹ میں 164 رنز کی بہترین اننگز کھیل کر جنوبی افریقی فتح کی راہ ہموار کی اور سیریز بچائی۔

ڈی ولیئرز نے سال کا اختتام بھی بھارت کے خلاف ڈربن میں 74 رنز کی شاندار اننگز کے ساتھ کیا، اور جنوبی افریقہ کی فتح میں اپنا حصہ ڈالا۔

بلے بازوں میں پاکستان کے کپتان مصباح الحق 25 ویں نمبر پر رہے، جی ہاں پچیسویں نمبر پر جہاں انہوں نے سال بھر میں کھیلے گئے 7 ٹیسٹ مقابلوں میں 570 رنز بنائے،جس میں ایک سنچری اور 5 نصف سنچریاں شامل رہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں مایوس کن کارکردگی کا سب سے بڑا سبب اس کی بیٹنگ تھی۔

سال 2013ء میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
مائیکل کلارک  آسٹریلیا 13 1093 187 47.52 4 3 116 6
این بیل  انگلستان 14 1005 113 41.87 3 5 130 6
ابراہم ڈی ولیئرز  جنوبی افریقہ 9 933 164 77.75 4 5 102 2
ایلسٹر کک انگلستان 14 916 130 33.92 2 6 106 0
ڈیوڈ وارنر آسٹریلیا 12 909 124 39.52 2 6 112 7

رواں سال سب سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع انگلستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کو ملا اس لیے بلے بازوں کی طرح باؤلرز میں بھی انہی کے کھلاڑی نمایاں ہیں۔ 2013ء میں اسٹورٹ براڈ نے 14 مقابلوں میں 25.80 کے اوسط سے سب سے زیادہ 62 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ان کے ہم وطن جمی اینڈرسن نے 31.82 کے اوسط سے 52 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

وکٹوں کی تعداد سے قطع نظر اگر معیاری باؤلنگ کی بات کی جائے تو 2013ء ڈیل اسٹین کا سال تھا (تصویر: Getty Images)

وکٹوں کی تعداد سے قطع نظر اگر معیاری باؤلنگ کی بات کی جائے تو 2013ء ڈیل اسٹین کا سال تھا (تصویر: Getty Images)

سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے اسٹورٹ براڈ نے سال کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار باؤلنگ کے ذریعے کیا، بالخصوص ویلنگٹن میں کھیلے گئے ان کی شاندار باؤلنگ کے سامنے اگر بارش نہ آجاتی تو فالو آن کے شکار نیوزی لینڈ کے لیےسخت مشکلات کھڑی ہوجاتیں۔ تیسرے و حتمی ٹیسٹ میں انگلستان میٹ پرائیر کی ناقابل شکست و شاندار سنچری کی بدولت شکست سے بال بال بچا۔ اس سیريز میں براڈ نے 11 وکٹیں حاصل کیں لیکن نیوزی لینڈ کے جوابی دورۂ انگلستان کے دو مقابلوں میں براڈ نے 12 وکٹیں حاصل کرکے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سال کی بہترین کارکردگی اگست میں آسٹریلیا کے خلاف چیسٹر-لی-اسٹریٹ ٹیسٹ میں دکھائی جہاں ان کی 11 وکٹوں کی کارکردگی نے نہ صرف انگلستان کو فتح سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ سیریز بھی جتوائی بلکہ اپنے لیے مرد میدان کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

ان کے ہم وطن جیمز اینڈرسن کے کارنامے بھی انہی حریفوں پر خوب جھپٹے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 7 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں سال کی بہترین کارکردگی دکھائی اور 10 وکٹیں حاصل کیں اور انگلستان کی محض 14 رنز سے فتحیاب کیا۔ 311 رنز کے ہدف کے تعاقب میں موجود آسٹریلیا کی راہ میں اینڈرسن ہی حائل ہوگئے تھے جنہوں نے آخری لمحات میں اس کی 5 وکٹیں حاصل کرکے مقابلہ انگلستان کے حق میں پلٹا اور اسے سیریز میں برتری دلائی۔

وکٹوں کی تعداد سے قطع نظر یہ سال بلاشبہ جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کا تھا، خود ملاحظہ کیجیے: 17.66 کے اوسط سے صرف 9 مقابلوں میں 51 وکٹیں۔ ان کی کارکردگی کو برصغیر کے پڑوسی ملک پاکستان اور بھارت نہیں بھولیں گے، جو سال کے اوائل اور اواخر میں 'اسٹین ریموور' کا شکار ہوئے۔ اسٹین نے 2013ء میں 4 مرتبہ اننگز میں 4 وکٹوں اور ایک مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ ان کی بہترین کارکردگی اننگز میں 8 رنز دے کر 6 وکٹیں رہی جبکہ میچ میں 80 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کرنے ان کا بہترین کارنامہ رہا۔

سال 2013ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز

گیندباز ملک مقابلے رنز وکٹیں بہترین باؤلنگ/اننگز بہترین باؤلنگ/میچ اوسط 5 وکٹیں 10 وکٹیں
اسٹورٹ براڈ انگلستان 14 1600 62 7/44 11/121 25.80 5 1
جیمز اینڈرسن انگلستان 14 1655 52 5/47 10/158 31.82 3 1
ڈیل اسٹین جنوبی افریقہ 9 901 51 6/8 11/60 17.66 4 1
ٹرینٹ بولٹ نیوزی لینڈ 12 1154 46 6/40 10/80 25.08 3 1
گریم سوان انگلستان 10 1466 43 6/90 10/132 34.09 3 1

پاکستان کے لیے ٹیسٹ میں یہ سال اجتماعی طور پر تو مایوس رہا ہی اوریہی وجہ ہے کہ انفرادی سطح پر بھی کوئی کھلاڑی نمایاں نہیں۔ سب سے زیادہ وکٹیں سعید اجمل کو ملیں جنہوں نے 7 مقابلوں میں 24.72 کے اوسط سے 37 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ لیکن پاکستان کے پاس اب موقع ہے کہ وہ سری لنکا کے خلاف آج یعنی 31 دسمبر کو شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کرکے 2014ء کا آغاز کامیابی کے ساتھ کرے اور پچھلے سال کی ناکامیوں کا داغ دھوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ 2013ء جنوبی افریقہ کاسال تھا، اس نے عالمی درجہ بندی میں اپنی سرفہرست پوزیشن کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ بھارت جیسے سخت ترین حریف کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دے کر ثابت کردیا کہ وہ حقیقی عالمی نمبر ون ہے۔ اس کی یہ بادشاہت کیا اگلے سال بھی برقرار رہ پائے گی؟ لگتا ایسا ہی ہے کیونکہ فی الوقت کوئی ٹیم اس کا مقابلہ کرتی نظر نہیں آ رہی۔ سال 2013ء میں اسے صرف ایک ٹیسٹ میچ میں شکست ہوئی۔ ویسے بھی جب تک اے بی ڈی ولیئرز، ڈیل اسٹین اور ہاشم آملہ جیسے کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی پیش کرتے آئیں گے تب تک جنوبی افریقہ کو زیر کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments