جسے کپتان چاہے۔۔۔!!

پاکستانی ٹیم کی یہ بدقسمتی ہے کہ دیگر بڑی ٹیموں کے برعکس گرین شرٹس کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے مواقع بہت کم میسر آتے ہیں جبکہ دو سیریزوں کے دوران وقفہ اتنا طویل ہوجاتا ہے کہ پچھلی ٹیسٹ سیریز میں اچھا پرفارم کرنے والے شائقین حتیٰ کہ سلیکٹرز اور کپتان کے ذہنوں سے بھی محو ہوچکے ہوتے ہیں جبکہ ون ڈے اور ٹی 20 میں اچھی کارکردگی دکھانے والے آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں۔یہاں ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو سراہنے کا رواج نہیں ہے لیکن ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں چند باؤنڈریز لگا کر یا ایک دو وکٹیں لے کر کھلاڑی ہیرو کا درجہ اختیار کرجاتے ہیں اور پھر جو دکھتا ہے، وہی بِکتا ہے!

احمد شہزاد رواں سال بغیر کوئی فرسٹ کلاس میچ کھیلے ٹیسٹ کرکٹر بن گئے، اور شان مسعود کارکردگی دکھانے کے باوجود دوسرا موقع ملنے سے محروم (تصویر: AFP)

احمد شہزاد رواں سال بغیر کوئی فرسٹ کلاس میچ کھیلے ٹیسٹ کرکٹر بن گئے، اور شان مسعود کارکردگی دکھانے کے باوجود دوسرا موقع ملنے سے محروم (تصویر: AFP)

جنوبی افریقہ کےخلاف گزشتہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں خرم منظور اور شان مسعود نے دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک کےخلاف 135رنز کا آغاز فراہم کیا جوسال بھر میں اوپنرز کی طرف سے بہترین پارٹنرشپ بھی تھی کیونکہ اس سے قبل سب سے عمدہ شراکت 46 رنز رہی تھی۔اگرچہ اگلی تین اننگز میں یہ دونوں اوپنرز اچھا آغاز فراہم نہ کرسکے لیکن اس کے باوجود دونوں کی پرفارمنس تسلی بخش تھی جو اس بات کا تقاضا کررہی تھی کہ سری لنکا کےخلاف کم از کم پہلے ٹیسٹ اوپننگ جوڑی کو نہ توڑا جائے لیکن ٹیم مینجمنٹ نے ابوظہبی کے پہلے ٹیسٹ میں احمد شہزاد کو ٹیسٹ کیپ دے دی ہے جو گزشتہ چار برسوں سے محدود اوورز کے فارمیٹس تک ہی محدود تھا۔

شان مسعود کی پرفارمنس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ احمد شہزاد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایسی کون سی غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے جس کی وجہ سے احمد کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے؟ ٹیسٹ ٹیم کی فائنل الیون میں احمد شہزاد کی سلیکشن کا پیمانہ فرسٹ کلاس کرکٹ کو نہیں بلکہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کےخلاف ون ڈے سیریز کو بنایا گیا ہے جس میں نوجوان اوپنرنے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کیپ حاصل کرلی ہے جبکہ شان مسعود فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارم کرنے کے باوجود بھی باہر بیٹھا ہوا ہے۔

یہی صورتحال محمد حفیظ کے ساتھ ہے جنہوں نے ون ڈے سیریز میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے کے بعد ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ حاصل کی اور اب وہ اظہر علی کی جگہ ٹیسٹ میچ بھی کھیل رہے ہیں۔اگر کپتان ،کوچ اور مینیجر نے ٹیسٹ ٹیم کی سلیکشن کا پیمانہ ون ڈے اور ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کو ہی بنانا ہے تو پھر شان مسعود، خرم منظور، اظہر علی، اسد شفیق، عدنان اکمل اور راحت علی کا کیا قصور ہے جنہیں یہ "سہولت" دستیاب نہیں ہے بلکہ چند ماہ بعد ملنے والا ایک ٹیسٹ میچ پر ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا جاتا ہے جس میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کی صورت میں انہیں باہر کردیا جاتا ہے جبکہ رنگین وردی پہننے والے ہیرو نہایت طمطراق کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی جلوہ گر ہوجاتے ہیں۔

سری لنکا کےخلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے محمد طلحہ کا انتخاب کیا گیا جو پانچ سال تک ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا خاصا رگڑا کھانے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستانی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ فاسٹ بالرز میں محمد طلحہ سب سے زیادہ رفتار کا بھی مالک ہے اور جو گیند کو دونوں اطراف سوئنگ کروانے میں عبور رکھتا ہے۔ٹیم کے اعلان کے بعد محمد طلحہ کا کھیلنا یقینی دکھائی دے رہا تھا لیکن ون ڈے سیریز ختم ہونے کے بعد جب ٹیسٹ میچ کے لیے مکمل فٹ نہ سمجھے جانے والے عمر گل کے "بیک اَپ" کے طور پربلاول بھٹی کو روکا گیا تو ساری دال ہی کالی ہوگئی کیونکہ جس کھلاڑی کو "اضافی" کے ٹیگ کے ساتھ روکا گیا تھا وہ "یقینی" کا درجہ پاکر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے جبکہ محمد طلحہ اپنی تمام تر ڈومیسٹک پرفارمنس کے باوجود اس میچ میں کھلاڑیوں کو پانی پلانے کی "اہم ذمہ داری" نبھائے گا۔

احمد شہزاد اور بلاول بھٹی کی صلاحیتوں پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں جو یقینی طور پر پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہیں جس میں بلاول بھٹی نے لنچ کے بعد تین وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت بھی دے دیا ہےجو ممکنہ طور پر ڈیبیو پر پانچ وکٹوں کا کارنامہ انجام دے سکتا ہے مگر یہ بھی درست نہیں ہے کہ ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو "کھپانے" کے لیے دیگر نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو بَلی چڑھا دیا جائے۔

اس سیزن میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ مصروفیت کے باعث احمد شہزاد نے کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا جبکہ مصباح الحق کی ڈومیسٹک ٹیم سوئی نادرن گیس کی نمائندگی کرنے والے بلاول بھٹی نے تین میچز میں ایک سنچری اسکور کرتے ہوئے اپنی بیٹنگ کی صلاحیتوں کا بھی ثبوت دیا مگر بالنگ کے شعبے میں وہ صرف 9 وکٹیں ہی لے سکے جبکہ دوسری جانب شان مسعود اپنے آخری فرسٹ کلاس میچ میں سنچری اسکور کرنے کے بعد سری لنکا کے باؤلرز کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے اور محمد طلحہ نے 18.75کی اوسط سے 33کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ حاصل کی لیکن جس طرح پہلے ٹیسٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہےاسے دیکھتے ہوئے دو باتیں واضح ہوگئی ہیں کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا پیمانہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارمنس نہیں بلکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس میں اچھی کارکردگی دکھانا ہے اور پھر جسے پیا چاہے، وہی سہاگن!!

Facebook Comments