2013ء کی دریافت ۔۔۔۔ جنید خان!

2013ء کی جب بات کریں تو پاکستان کرکٹ کے حوالے سے یہ نوجوانوں کا سال ثابت ہوا جس میں مجموعی طور پر تینوں فارمیٹس میں 14 کھلاڑیوں کو پاکستان کی 'سبز کیپ' پہلی مرتبہ پہنائی گئی ان میں احمد شہزاد، ناصر جمشید جیسے کھلاڑی بھی شامل تھے جو کافی عرصے سے محدود اوورز کی کرکٹ کھیلنے کے بعد ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ان میں صہیب مقصود، بلاول بھٹی، شرجیل خان جیسے نو وارد بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سال پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ان میں سے ایک دو کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں باآسانی 'سال کی دریافت' کہا جاسکتا ہے، لیکن میری نظر میں2013ء کی دریافت جنید خان ہے جس نے ان 12 مہینوں میں خود کو صحیح معنوں میں دریافت کیا ‪اور ایسی قوت بن کر سامنے آیا جو دنیا بھر کے بیٹسمینوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

2002ء میں وقار یونس کے بعد جنید خان پہلا پاکستانی فاسٹ باؤلر ہے جس نے کیلنڈر ایئر میں ون ڈے وکٹوں کی ففٹی مکمل کی (تصویر: AFP)

2002ء میں وقار یونس کے بعد جنید خان پہلا پاکستانی فاسٹ باؤلر ہے جس نے کیلنڈر ایئر میں ون ڈے وکٹوں کی ففٹی مکمل کی (تصویر: AFP)

جنید خان نے سال کا آغاز 3 جنوری کو بھارت کےخلاف 3/39کی کارکردگی کے ساتھ کیا اور 31دسمبر کا سورج غروب ہونے سے پہلے جنید خان تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 78وکٹوں کا مالک بن چکا تھا۔ سال کے آخری دن بھی پانچ وکٹوں کا کارنامہ دکھاتے ہوئے جنید نے اپنے کپتان کو آسانیاں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2002ء میں وقار یونس کے بعد جنید خان پہلا پاکستانی فاسٹ باؤلر ہے جس نے کیلنڈر ایئر میں ون ڈے وکٹوں کی ففٹی مکمل کی، جو 21.46 کی اوسط اور 4.88کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 52وکٹیں لے کر سعید اجمل کے بعد سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا دوسرا باؤلر ہے۔ گزشتہ 12 ماہ میں 'جادوگر' آف اسپنر کے بعد جنید پاکستان کا سب سے خطرنا ک ترین باؤلر بن کر ابھرا مگر اس کے باوجود بائیں ہاتھ کے پیسر کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ حقدار ہے۔‬

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل اور عمر گل کی انجریز کے بعد جنید خان نے پاکستان کو پیس اٹیک کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی مگر گزشتہ دو برسوں کے دوران ایبٹ آباد کا فاسٹ باؤلر کسی حد تک جدوجہد کا شکار رہا، اسے وہ حوصلہ افزائی بھی نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا بلکہ کپتان اور کوچ دوسرے باؤلرز پر زیادہ بھروسہ کرتے ہوئے دکھائی دیے جنہوں نے اپنی ٹیم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

سال بھر عمدہ کارکردگی کے باوجود جنید خان کو پورے مواقع نہیں ملے جسے کئی مرتبہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ون ڈے الیون سے باہر بٹھایا گیا۔اس سال متعدد مواقع پر جنید نے اختتامی اوورز میں اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے پاکستان کو ون ڈے میچز میں کامیابیا ں دلوائی جبکہ سال کے آغاز میں بھارت کی مضبوط ترین بیٹنگ لائن میں دڑاریں ڈال کر جنید خان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور موجودہ دور کا بہترین بیٹسمین ویراٹ کوہلی جو کسی باؤلر کو خاطر میں نہیں لاتا وہ تینوں ون ڈے میچز میں معمولی سے اسکور پر جنید خان کی باؤلنگ کا نشانہ بنا۔پاکستان نے اگرچہ اس سال زیادہ ٹیسٹ میچز نہیں کھیلے مگر پانچ روزہ فارمیٹ میں بھی جنید خان کی کارکردگی بہتر رہی جسے زیادہ ترمیچز ایشیا کی بیٹنگ وکٹوں پر کھیلنے کو ملے۔ ‬

اس سال جنید خان بدلے ہوئے باؤلر کے روپ میں دکھائی دیا ہے، جس نے تینوں فارمیٹس میں اپنی اہلیت کو ثابت کیا ہے اور گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اب جنید ایسا باؤلر نہیں رہا جس پر بھروسہ نہ کیا جاسکے بلکہ ان اب جنید خان پاکستانی پیس اٹیک کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہایت خوبی کے ساتھ اٹھالیا ہے۔ دوسرے اینڈ سے بہت زیادہ مدد نہ ملنے کے باوجود شیر دل باؤلر نے ہر طرح کے حالات میں اپنی ٹیم کے لیے پرفارم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ اکثر کامیاب رہا ہے۔ 2014ء بھی جنید خان کا سال ثابت ہوسکتا ہے جس کے آغاز میں گرین شرٹس نے ورلڈ ٹی 20میں حصہ لینا ہے جس میں جنید خان پاکستانی باؤلنگ لائن کا اہم ہتھیار ہوگا ۔2013ءمیں جنید خان نے خود کو "دریافت" کرلیا ہے اور اب 2014ء میں یہ فاسٹ باؤلر کیا قہر ڈھائے گا اس کے بارے میں سوچ کر یقینا مخالف بیٹسمینوں کو دانتوں تلے پسینہ آجائے گا۔‬

Facebook Comments