گرین شرٹس کو بھرپور وار کرنا ہوگا!

پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے سری لنکن ٹیم کو ٹھکانے لگاتے ہوئے سال کے آخری دن کو یادگار بنایا تو اگلے دن یونس خان اور مصباح الحق کی تجربہ کار جوڑی نے سنچریاں داغ کر ثابت کردیا کہ ’’اولڈ از گولڈ‘‘ ...جو سری لنکا کی باؤلنگ کے خلاف ’’میلہ‘‘ لوٹنے آئے تھے انہیں خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا جبکہ یونس خان اور مصباح الحق نے اپنی بیٹنگ سے ثابت کردیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کے لیے باؤلرز کے خلاف کتنے ’’ٹیسٹ‘‘ دینا پڑتے ہیں۔

سنگا اور مہیلا کے آؤٹ کرنے کے بعد پاکستان مقابلے پر دوبارہ حاوی ہوگیا ہے، اب آخری بھرپور وار کرنا ہوگا (تصویر: AFP)

سنگا اور مہیلا کے آؤٹ کرنے کے بعد پاکستان مقابلے پر دوبارہ حاوی ہوگیا ہے، اب آخری بھرپور وار کرنا ہوگا (تصویر: AFP)

83پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن ڈانواڈول ہوسکتی تھی لیکن تجربہ کار جوڑی نے تیسری وکٹ کے لیے 218 رنز کی شراکت قائم کرکے میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کردی۔ یونس خان پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگئے ہیں جبکہ40ویں سالگرہ کی طرف بڑھتے ہوئے مصباح الحق نے بھی اپنی عمدہ فارم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو 2013ء میں دونوں فارمیٹس میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے اور نئے سال کے پہلے دن سنچری داغ کر مصباح نے اپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے۔

سری لنکا کا باؤلنگ اٹیک کسی طور پر بھی جنوبی افریقہ کے ہم پلہ نہیں ہے جس کا سامنا پاکستانی ٹیم نے کچھ عرصہ قبل کیا تھا اور پاکستانی بیٹسمینوں کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ اس باؤلنگ لائن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لمبی اننگز کھیلیں مگر اس کا فائدہ صرف دو سینئر بیٹسمین ہی اٹھا سکے جو کئی برسوں سے قومی ٹیم کے لیے مردبحران کا کردار ادا کرتے ہوئے آئے ہیں اور نوجوان بیٹسمینوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ یونس خان اور مصباح الحق کو آنے والے عرصے میں بھی بیٹنگ کا تمام تر بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا ہوگا کیونکہ کوئی نوجوان بیٹسمین آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

اظہر علی اور اسد شفیق کو مستقبل کا اسٹارز سمجھاجاتا ہے جو دونوں سینئر بیٹسمینوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا خلا پر کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن گزشتہ بارہ ماہ میں ناقص کارکردگی دکھانے کے باعث اظہر علی فائنل الیون سے باہر ہوچکے ہیں مگر اسد شفیق میں بحرانی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے بڑی اننگز کھیلنے کی اہلیت موجود ہے جس کے بارے میں سابق بیٹسمین باسط علی کا کہنا ہے کہ ان کے بعد کراچی میں پیدا ہونے والا سب سے عمدہ بیٹسمین اسد شفیق ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کرکے پاکستانی ٹیم کو شکست سے بچانے کی کوشش کرنے والے اسد شفیق کو گزشتہ تین برسوں سے چھٹے نمبر پر بیٹنگ کروائی جارہی ہے اور اکثر اوقات ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیلنے کے باعث پستہ قد بیٹسمین کی اننگز پنپ نہیں پاتی۔ گزشتہ برس اظہر علی کے ناکامی کے باوجود اسد شفیق کوٹاپ آرڈر میں منتقل نہ کیا گیا اور اس مرتبہ جب اظہر علی کو پہلی مرتبہ ڈراپ کیا گیا ہے تو پھر بھی اسد شفیق کے بیٹنگ آرڈر میں ترقی نہ ہوسکی اور محمد حفیظ کو ون ڈاؤن پوزیشن پر کھلا دیا گیا جو خود کو ابھی تک ون ڈے فارمیٹ کے حصار سے باہر نہیں نکال سکاجبکہ احمد شہزاد بھی اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں متاثر نہیں کرسکا جس میں لمبی کرکٹ کے ٹمپرامنٹ کی کمی دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے پہلے دو دن تک ٹیسٹ میچ میں اپنی گرفت مضبوط رکھی لیکن تیسرے دن گرین شرٹس کی گرفت ڈھیلی پڑنا شروع ہوگئی ہے۔سری لنکا کو 204پر ڈھیر کرنے کے بعدپاکستانی ٹیم کو اس وکٹ پر کم از کم ساڑھے 400 رنز بنانا چاہیے تھے تاکہ اننگز کی فتح کا امکان روشن ہوجاتا مگر 4/327 پر دوسرے دن کا خاتمہ کرنے والی پاکستانی ٹیم تیسرے دن 383رنز تک ہی جاسکی جبکہ سری لنکن بیٹسمینوں نے اپنی ٹیم کو ٹھوس آغاز فراہم کرکے اس میچ کو دلچسپ بنانے کی کوششیں شروع کردی تھی مگر سنگاکارا اور مہیلا جے ودھنے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم پھر سے اس میچ میں حاوی ہوگئی ہے ۔پہلی اننگز میں پاکستانی باؤلرز نے 124 پر 8 وکٹیں حاصل کرنے بعد سری لنکا کو 200 سے زائد رنز بنانے کا موقع فراہم کردیا تھا لیکن دوسری اننگز میں یہ غلطی دہرانے سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ دنیش چندیمال اور اینجلوز میتھیوز ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر سری لنکا کی برتری کو اگر 150تک کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ ٹارگٹ پاکستانی ٹیم کے لیے آسان نہ ہوگا اس لیے چوتھی صبح پاکستانی باؤلرز کو بھرپور وار کرکے سری لنکا کو جلد آؤٹ کرنا تاکہ پاکستان کو کم سے کم ہدف کا تعاقب کرنا پڑے۔

Facebook Comments