عالمی کپ کی ناکام مہم؛ رکی پونٹنگ قیادت سے مستعفی

عالمی اعزاز کے دفاع میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں قیادت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ تاہم 36 سالہ رکی پونٹنگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ سچن ٹنڈولکر کی طرح اپنا کھیل جاری رکھ سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کی ٹیم کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد عالمی کپ سے باہر ہو گئی تھی جبکہ گروپ میچز میں بھی اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رکی پونٹنگ نے کوارٹر فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری اسکور کی لیکن اس کے باوجود وہ ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کرا سکے۔

رکی پونٹنگ، جنہیں بطور قائد پہلی بار عالمی کپ سے ناکام و نامراد لوٹنا پڑا

رکی پونٹنگ نے اس دستبرداری کا اعلان وطن واپسی کے بعد منگل کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آسٹریلیا کی ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں ٹیموں سے بطور کپتان استعفی دے رہا ہوں لیکن میں کرکٹ بدستور جاری رکھوں گا اور اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے دونوں طرز کی کرکٹ میں دستیاب ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اگلا قائد ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں ٹیموں کے لیے قیادت سنبھالے۔ ہمیں 2013-14ء کی ایشیز اور 2015ء کا عالمی کپ جیتنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آج میرے لیے اک نئے دن کا آغاز ہے اور میں مستقبل کے حوالے سے بہت پرجوش ہوں۔ میں نئے قائد کو مکمل سپورٹ دوں گا اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کے لیے بہترین مثال بننے کی کوشش کروں گا۔ پونٹنگ نے اگلے ماہ دورۂ بنگلہ دیش کے لیے ٹیم میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس دورے کے لیے ٹیم کا اعلان بدھ کو کیا جائے گا۔ پونٹنگ کے استعفے کے بعد ممکنہ طور پر مائیکل کلارک کو آسٹریلین ٹیم کی قیادت سونپی جائے گی۔

رکی پونٹنگ نے اسٹیو واہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیا کی ایک روزہ اور ٹیسٹ دونوں ٹیموں کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے 77 میں سے 48 ٹیسٹ میچز میں فتوحات حاصل کیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے ریکارڈ 228 ایک روزہ مقابلوں میں آسٹریلین ٹیم کی قیادت کی جن میں سے 164 میں فتح حاصل کی۔ اس میں 2003ء اور 2007ء کے عالمی کپ بھی شامل ہیں۔

عالمی کپ 2011ء میں شکست کے ساتھ ان کی ایک روزہ قیادت کا خاتمہ ہوگیا جبکہ ان کی ٹیسٹ قیادت کا اختتام ایشیز سیریز 2010-11ء میں انگلستان کے ہاتھوں 3-1 کی بدترین شکست پر ہوا۔

Facebook Comments