[آج کا دن] 'کانا شیر' منصور علی خان!

اردو کے سب سے بڑے شاعر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ

اندھیری راہ میں چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

دنیائے کرکٹ کی ایک شخصیت پر بالکل صادق آتا ہے۔ وہ شخصیت ہے بھارت کی تاریخ کے کم ترین کپتان نواب منصور علی خان کی۔ جو 1941ء میں آج ہی کے روز یعنی 5 جنوری کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ عنفوان شباب میں حادثے میں دائیں آنکھ ضایع ہونے کے باوجود نواب منصور کبھی اس معذوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ ان کی واحد آنکھ ہی گویا 'چیتے کی آنکھ' تھی۔ اس زمانے میں جب ہیلمٹ کا استعمال بھی عام نہیں ہوا تھا، آپ نے 46 ٹیسٹ مقابلوں پر محیط طویل کیریئر کھیلا اور دنیا کے بہترین باؤلرز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ 1962ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں صرف 21 سال کی عمر میں آپ کو بھارت کی قیادت بھی سونپی گئی، جسے انہو ں نے اپنے کیریئر کے بیشتر حصے میں بخوبی نبھایا۔

سرزمین ہند پر پیدا ہونے والے دو عظیم سپوت منصور علی خان (دائیں) اور محمد حنیف (بائیں)، جنہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کی قیادت بھی کی (تصویر: The Cricketer International)

سرزمین ہند پر پیدا ہونے والے دو عظیم سپوت منصور علی خان (دائیں) اور محمد حنیف (بائیں)، جنہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کی قیادت بھی کی (تصویر: The Cricketer International)

منصور علی خان نے بچپن ہی سے خود کو کرکٹ کے قریب پایا کیونکہ آپ کے والد افتخار علی خان پٹودی ایک بین الاقوامی کھلاڑی تھے بلکہ تاریخ کے واحد کھلاڑی بھی جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں انگلستان اور بھارت دونوں کی نمائندگی کی۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے منصور بھی آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ قیادت کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچے۔ ان کی زیر قیادت بھارت نے 7 ٹیسٹ مقابلے جیتے جن میں بھارت کی بیرون ملک پہلی فتح بھی شامل ہے جو اس نے فروری 1968ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن ٹیسٹ میں حاصل کی۔

مجموعی طور پر 46 ٹیسٹ مقابلوں پر محیط اپنے کیریئر میں منصور علی خان نے 34.91 کے اوسط سے 2793 رنز بنائے۔ دہلی میں انگلستان کے خلاف ناقابل شکست ڈبل سنچری ان کی بہترین اننگز تھی لیکن اس اننگز سمیت 6 سنچریوں نے بھی وہ شہرت حاصل نہیں کی جو 1967ء کے بالکل آخری ایام میں ملبورن میں کھیلی گئی 75 رنز کی اننگز کو ملی، اس باری نے بلاشبہ منصور کو لافانی حیثیت دی۔

ایک آنکھ سے محروم ہوئے تو منصور کو کئی سال بیت چکے تھے لیکن ملبورن ٹیسٹ میں ران کا پٹھا چڑھ جانے کی وجہ سے بھی وہ مسئلے سے دوچار تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ بھارت پہلے بیٹنگ کرتےہوئے محض 25 رنز پر 4 کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا تھا جبکہ روسی سورتی بھی زخمی ہوکر میدان سے واپس آچکے تھے۔ اس صورتحال میں ایک سبز وکٹ پر منصور نے 228 منٹ تک آسٹریلیا کے برق رفتار باؤلرز کا سامنا "ایک آنکھ اور ایک ٹانگ" کے ساتھ کیا۔ کرکٹ کی 'بائبل' وزڈن نے ان کی اس باری کو بھارت کی 25 بہترین ٹیسٹ اننگز میں شمار کیا اور آسٹریلیا کے اخبار "آبزرور" نے یہ سرخی جمائی " اننگز جو ایک آنکھ اور ایک ٹانگ سے تراشی گئی۔"

نواب منصور نے اپنے زمانے کی معروف بالی ووڈ اداکارہ شرمیلا ٹیگور سے شادی کی جن کے بطن سے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں نےجنم لیا جن میں سے سیف علی خان اور سوہا علی خان آج اپنی والدہ کے نقش قدم پر فلمی صنعت سے وابستہ ہیں۔

بھارت کے لیے قابل فخر سپوت نے 22 ستمبر 2011ء کو دہلی میں اپنی آخری سانسیں لیں۔ یوں بھارت کی کرکٹ تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔

Facebook Comments