ایشیا کپ معاملہ: فیصلے پر پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا انحصار

بنگلہ دیش میں طے شدہ ایشیا کپ 2014ء میں شرکت کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ 'دیکھو اور انتظار کرو' کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کیونکہ ابھی ایونٹ کے انعقاد میں چند ہفتے باقی ہیں، لیکن بنگلہ دیش میں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے اور پاکستان مخالف جذبات بھی سب کے سامنے ہیں۔ اگر آئندہ دنوں میں حالات میں بہتری نہ آئی تو پاکستانی ٹیم کے لیے بنگلہ دیش جاکر کھیلنا بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو پاکستان کے لیے بنگلہ دیش جاکر کھیلنا بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے (تصویر: AFP)

اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو پاکستان کے لیے بنگلہ دیش جاکر کھیلنا بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے (تصویر: AFP)

غالباً اسی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے حکومتی ڈھال اٹھاتے ہوئے ایشیا کپ کو بنگلہ دیش سے منتقل کروانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایشین کرکٹ کونسل نے واضح جواب دے دیا کہ ایشیا کپ بہرصورت بنگلہ دیش ہی میں ہوگا اور یہ تک کہہ ڈالا کہ اگر پاکستان شرکت نہیں کرنا چاہتا تو اس سے ٹورنامنٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت جیسی ٹیموں کی عدم موجودگی میں ایک مرتبہ ایشیا کپ کھیلا جا چکا ہے۔ پھر ایشین کرکٹ کونسل نے پانچویں ٹیم کی حیثیت سے افغانستان کو بھی شامل کرلیا ہے تاکہ عین وقت پر پاکستان کی عدم شرکت کی صورت میں چوتھی ٹیم کی کمی افغانستان سے پوری کرلی جائے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پی سی بی کی عبوری انتظامی کمیٹی کے سربراہ حکومت اور دفتر خارجہ سے "مسلسل" رابطے میں ہیں اور معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ رواں ماہ ایک وفد بنگلہ دیش میں سیکورٹی حالات کا جائزہ لینے جائے گا اور اس کے بعد ہی 'اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا'۔!

اس پورے معاملے میں سب سے تشویشناک امر بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی اور عام انتخابات کے بعد پیدا شدہ حالات ہیں بالخصوص پاکستان مخالف رحجانات، جن کی موجودگی میں قومی ٹیم کو بنگلہ دیش بھیجنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ حال ہی میں ملک بھر میں پاکستان مخالف مظاہرے ہوئے، پاکستان کے پرچم نذر آتش کیے گئے لیکن پڑوسی ممالک بھارت اور سری لنکا کو ان حالات کا سامنا نہیں ہے اور جب تینوں ممالک "شانتی" کے ساتھ یہ ایونٹ کھیلیں گے تو نقصان پاکستان ہی کو اٹھانا پڑے گا۔

ملک میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی کرکٹ ویسے ہی تنہا ہے۔ دنیا کا کوئی کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے پر تیار نہیں اور ایسے حالات میں ایشیا کپ میں عدم شرکت پاکستان کرکٹ کو مزید تنہا کردے گی۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں بھی بنگلہ دیش میں حالات معمول نہ آئیں اور پاکستان کو ایشیا کپ "اسکپ" کرنا پڑے لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء جیسا سال کا اہم ترین ٹورنامنٹ پاکستان نہیں چھوڑ سکتا، جو بنگلہ دیش ہی میں کھیلا جائے گا۔ اس لیے پی سی بی کو ایشیا کپ میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ اس فیصلے کا اثر مستقبل میں پاکستان کی کرکٹ پر بھی اثرانداز ہوگا۔

اگر پاکستانی ٹیم تمام تر تناؤ اور کشیدگی کے باوجود بنگلہ دیش میں ایشیا کپ کھیلنے جاتی ہے تو اس سے یہ مثبت پیغام بھی جائے گا کہ جب پاکستان بدترین حالات میں بنگلہ دیش جاکر کھیل سکتا ہے تو دوسری ٹیمیں بھی پاکستان آنے کا حوصلہ پیدا کرسکتی ہیں، جہاں حالات بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔

Facebook Comments