ویسٹ انڈیز نے اگلی پچھلی سب کسریں نکال دیں، سیریز برابر

دورۂ نیوزی لینڈ میں پے در پے اور بھیانک شکستوں کے بعد آخری ون ڈے میں ویسٹ انڈیز سے تمام اگلی پچھلی تمام کسریں نکال دیں۔ 'کالی آندھی' نے ہملٹن میں 206 رنز کی بھاری بھرکم فتح کے ذریعے ایک روزہ سیریز 2-2 سے برابر کر ڈالی۔

ایڈورڈز اور براوو کی بروقت کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو سیریز شکست سے بچا لیا (تصویر: Getty Images)

ایڈورڈز اور براوو کی بروقت کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو سیریز شکست سے بچا لیا (تصویر: Getty Images)

ہملٹن میں کھیلے گئے آخری مقابلے سے قبل نیوزی لینڈ کے حوصلے آسمان پر تھے جو کوئنزٹاؤن میں 159 رنز کی شاندار فتح اور نیلسن میں ڈک ورتھ لوئس کی بدولت ملنے والی جیت کی بدولت آخری مقابلے میں فیورٹ تھا لیکن ویسٹ انڈیز نے میزبان پر حیرت کے پہاڑ توڑ دیے۔ کرک ایڈورڈز اور ڈیوین براوو کی شاندار سنچریوں نے ویسٹ انڈیز کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مجموعے 363 رنز تک پہنچایا۔

ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست اور اس کے بعد ایک روزہ سیریز میں لب گور پہنچ جانے کے بعد ایسی شاندار فتح ویسٹ انڈیز کے لیے تو مسرت کا لمحہ ہوگی ہی، ساتھ ہی میدان میں موجود ایک تماشائی کا بھی دل ایک لاکھ ڈالرز جیتنے پر بلیوں اچھل رہا ہوگا۔ نیوزی لینڈ-ویسٹ انڈیز سیریز کے لیے ایک مقامی ادارے ٹوئی نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی تماشائی کھلاڑیوں کے لگائے گئے شاٹ کو کیچ میں بدلے گا۔ اسے ایک لاکھ نیوزی لینڈ ڈالرز کا انعام دیا جائے گا۔ تمام مقابلوں میں تماشائی اپنے ہاتھوں سے اپنی خطیر رقم گنواتے رہے حتیٰ کہ کوئنزٹاؤن میں ہونے والے مقابلے میں لگائے گئے 26 چھکوں پر بھی کوئی تماشائی کامیاب نہ ہوسکالیکن آج ویسٹ انڈین اننگز کے چھٹے اوور میں قرعہ فال مائیکل مورٹن کے نام نکلا جنہوں نے کیرن پاول کے ایک چھکے پرکیچ تھام لیا۔

اگر کہا جائے کہ ویسٹ انڈیز کی باری کو اتنا آگے پہنچانے کے لیے ابتدائی دھکا کیرن پاول نے لگایا تو بے جا نہ ہوگا۔ صرف 44 گیندوں پر 73 رنزکی اننگز اور جانسن چارلس کے ساتھ 12 اوورز میں فراہم کردہ 95 رنز کا آغاز ویسٹ انڈیز کو بعد میں بہت آگے تک لے گیا۔ پاول بدقستمی سے ناتھن میک کولم کو سویپ کھیلنے کی پاداش میں وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے، ورنہ ان کی اننگز سنچری کی حقدار تھی۔ اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے ویسٹ انڈیز کی اننگز تھم سی گئی۔ نہ صرف یہ کہ رنز بننے کی رفتار کم ہوگئی بلکہ 24 اوورز تک ویسٹ انڈیز مزید دو وکٹیں بھی گنوا بیٹھا۔ پہلے جانسن چارلس 31 رنز بنا کر میدان بدر ہوئے تو کچھ دیر بعد لینڈل سیمنز کی اننگز بھی 9 رنز پر تمام ہوئی۔

اس مرحلے پر کپتان ڈیوین براوو میدان میں آئے اور پھر انہوں نے کرک ایڈورڈز کے ساتھ مل کر کیا ہی بہترین شراکت داری قائم کی۔ میدان میں کچھ دیر سنبھلنے اور حریف کے داؤ پیچ کو سمجھنے کے کے بعد انہوں نے میزبان باؤلرز کی وہ درگت بنائی کہ ان کی ہمت ہی توڑ دی۔

صرف 150 گیندوں پر 211 رنز کی شاندار شراکت داری!! جس کے دوران کرک ایڈورڈز نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں ایک شاندار چھکے کے ذریعےپہلی بار 50 رنز کا ہندسہ عبور کیا ، جسے بعد ازاں تہرے ہندسے میں بدلنے میں بھی کامیاب ہوا۔ جیسے جیسے کھیل حتمی 10 اوورز کے مرحل میں داخل ہونے لگا، رنز بننے کی رفتار تیز تر ہوتی چلی گئی۔ 40 ویں اوور کی تکمیل پر ہی ویسٹ انڈیزکا اسکور 246 رنز تھا اور 7 وکٹیں باقی تھی اور ویسٹ انڈیز نے آخری 10 اوورز میں 117 رنز لوٹے۔ جس میں 44 ویں اوور میں کوری اینڈرسن کو لگائے گئے 21 رنز بھی شامل تھے ۔ براوو نے 49 ویں اوور میں اپنی سنچری مکمل آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے محض 81 گیندوں پر 12 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 106 رنز بنائے۔ دوسرے اینڈ پر کرک ایڈورڈز 108 گیندوں پر 12 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 123 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے اور ویسٹ انڈیز کی اننگز 363 رنز پر مکمل ہوئی۔

اگر گزشتہ مقابلے میں نیوزی لینڈ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ بہت بڑا مجموعہ نہ لگتا تھا۔ کوئنزٹاؤن میں کھیلے گئے مقابلے میں نیوزی لینڈ نے محض 21 اوورز میں 283 رنز بنا لیے تھے اور اگر یہاں ہملٹن میں بھی دو، تین بلے باز جم جاتے تو مقابلہ دلچسپ ہو سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

ویسٹ انڈیز نے جتنی اچھی بیٹنگ کی، گیندبازی اور فیلڈنگ میں بھی اتنی ہی جان لڑائی جبکہ نیوزی لینڈ، جسے 364 رنز کے ہدف کے تعاقب کے لیے کوئنزٹاؤن والی کارکردگی دہرانے کی ضرورت تھی، بری طرح ناکام ہوا۔ اوپننگ جوڑی محض 4 اوورز تک ٹھہر سکی جبکہ آنے والے بلے باز بھی کارکردگی تو درکنار کریز پر موجودگی ہی برقرار نہ رکھ سکے اور 11 اوورز کی تکمیل پر ہی مقابلہ ویسٹ انڈیز کی جھولی میں تھا کیونکہ نیوزی لینڈ کا اسکور محض 50 رنز تھا اور اس کے 4 سرفہرست بلے باز اپنی باریاں ختم کرکے واپس آ چکے تھے۔

اس کے بعد کیا ہوسکتا تھا؟ یہی کہ آنے والے کھلاڑی بھی ہمت ہار بیٹھے اور پوری ٹیم 30 ویں اوور میں 160 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ سب سے زیادہ رنز کوری اینڈرسن نے بنائے، جن کی تعداد 29 تھی اور ان کے بعد صرف کائل ملز ہی ایسے کھلاڑی تھے جن کے رنز کی تعداد 20 سے اوپر گئی جبکہ 4 کھلاڑیوں تو دہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچ سکے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے نکیتا ملر نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ دو، دو وکٹیں جیسن ہولڈر اور آندرے رسل کو ملیں۔ ایک کھلاڑی کو کپتان ڈیوین براوو نے آؤٹ کیا۔

کپتان ڈیوین براوو کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

Facebook Comments