[انٹرویوز] نئے خون کی ضرورت ہے لیکن سینئرز کامیابی کی ضمانت ہیں: ثناء میر

سہ فریقی کرکٹ سیریزکھیلنے کے لیے پاکستان کا خواتین کرکٹ دستہ قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ چکا ہے۔ آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ جیسے حریفوں کے خلاف 10 جنوری سے شروع ہونے والے معرکوں سے قبل قومی خواتین ٹیم کی کپتان ثناء میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مردانہ ٹیم کی طرح خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ بھی بیٹنگ ہے اور اس وقت بھی یہ ایک چیلنج کی صورت میں قومی ٹیم کے سامنے ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہم دورے پر اپنے ساتھ چار مستند اوپنر لے کر جارہے ہیں کیونکہ بیٹنگ آرڈر میں سب سے بڑا مسئلہ اوپننگ بلے بازوں کا ہے۔

بیٹنگ کا مسئلہ چیلنج کی طرح سامنے کھڑا ہے، قومی کپتان (تصویر: ICC)

بیٹنگ کا مسئلہ چیلنج کی طرح سامنے کھڑا ہے، قومی کپتان (تصویر: ICC)

پاکستانی خواتین ٹیم کی رہنما نے "کرک نامہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ٹیم کو نئے خون کی ضرورت پیش آرہی ہے اور اس مقصد کے لیے وقتاً فوقتاً نئی کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا جاتا رہا ہے لیکن اگر ماضی کی کامیابیوں کو دیکھا جائے تو بیشتر فتوحات سینئر کھلاڑیوں کی مرہون منت ہیں۔ ثناء نے کہا کہ میرے خیال میں عمرکے مقابلےمیں کارکردگی کی اہمیت زیادہ ہے اور جب تک کوئی کھلاڑی پرفارم کرتا رہے، اسے ٹیم میں کھلائیں گے۔

تیز باؤلنگ کے شعبے کے حوالے سے ثناء میر کافی مطمئن نظر آئیں، جن کا کہنا تھا کہ پاکستانی باؤلرز نے گزشتہ چند دنوں میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور شاید ہماری مٹی میں ہی کوئی ایسی خاص بات ہے کہ جوشیلے تیز باؤلرز یہاں جنم لیتے ہیں اور ان کا یہ جوش و جذبہ ہی حریف بلے بازوں کو تنگ کرتا ہے۔ ثناء نے کہا کہ ہم ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کے عزم کے ساتھ دوحہ پہنچے ہیں اور ان میں سے کم از کم ایک سیریز جیتنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

مقابل ٹیموں کے حوالے سے ثناء میر نے کہا کہ گو کہ ہم آئرلینڈ کو کئی مرتبہ شکست دے چکے ہیں لیکن پھر بھی اسے آسان حریف تصور نہیں کرتے اور جہاں تک جنوبی افریقہ کی بات ہے تو سب جانتے ہیں کہ وہاں کا کرکٹ معیار کتنا بلند ہے، ان کی ٹیم ہر طرز کی کرکٹ میں سخۃ حریف ثابت ہوتی ہے۔ البتہ کپتان کا کہنا تھا کہ قطر کا موسم اور حالات پاکستان کے حق میں ہے۔

اس سہ فریقی سیریز کا اختتام 22 جنوری کو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی مقابلے سے ہوگا۔

Facebook Comments