دورۂ نیوزی لینڈ: تیز پچوں پر بھارت کا نیا امتحان

تحریر: فیاض منظر (پٹنہ، بھارت)

رواں ماہ یعنی جنوری کی 19 تاریخ سے بھارت کے دورۂ نیوزی لینڈ کا آغاز ہورہا ہے، جس میں 5 ایک روزہ مقابلوں کے ساتھ ساتھ 2 ٹیسٹ میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ 'ٹیم انڈیا' گزشتہ ایک سال سے گھریلو میدانوں پر ہی کھیلتی آ رہی ہے اور 2012ء کے اختتامی ایام میں انگلستان کے دورۂ بھارت کو چھوڑ کر بھارت نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے لیکن جوں ہی گھریلو سرگرمی ختم ہوئی اور ٹیم جنوبی افریقہ پہنچی، وہ تمام خامیاں و کمزوریاں ابھر کر سامنے آ گئیں، جو عام طور پر اچھال دار یعنی باؤنسی پچوں پر بھارتی ٹیم میں نظر آتی ہیں ۔

انگلستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے بعد اب بھارتی بلے بازوں کا امتحان نیوزی لینڈ کے میدانوں میں ہوگا (تصویر: AFP)

انگلستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے بعد اب بھارتی بلے بازوں کا امتحان نیوزی لینڈ کے میدانوں میں ہوگا (تصویر: AFP)

بھارت کے انگلستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے گزشتہ غیر ملکی دورے بری طرح ناکام رہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو نیوزی لینڈ ان تینوں کے مقابلے میں کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اس سیریز میں بھارتی سورماؤں کی عزت داؤ پر لگی رہے گی۔

تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نیوزی لینڈ کی سرزمین پر بھارت کا مظاہرہ قابل ذکر نہیں رہا۔ 1968ء میں پہلے دورۂ نیوزی لینڈ میں بھارت نے جو تین-ایک سے سیریز اپنے نام کی، اس کے بعد 2009ءتک ٹیم انڈيا کوششوں کے باوجود میزبان پر کبھی قابو نہ پاسکی۔ 1998-99ء کی سیریز میں بھی اسے ایک-صفر کی شکست سے دوچار ہونا پڑا اور 2002-03ء کے انہی ایام میں بھی ٹیم نیوزی لینڈ سے نامراد وطن واپس لوٹی۔ 2009ء میں جب بھارت نے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں 10 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور اگلے دونوں مقابلے کسی نتیجے تک پہنچے بغیر اختتام پذیرہوئے تو یہ 41 سال بعد پہلا موقع تھا کہ ٹیم انڈیا کو دورۂ نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل ہوئی ہو۔ لیکن اس وقت بھارت کے پاس تجربہ کار کھلاڑی تھے۔ ٹاپ آرڈر گوتم گمبھیر، وریندر سہواگ، راہول ڈریوڈ، سچن تنڈولکر اور وی وی ایس لکشمن پر مشتمل تھا لیکن اب ٹیم میں کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ لیکن بھارت نے نیوزی لینڈ کی جس ٹیم کا سامنا تقریباً پانچ سال پہلے کیا تھا، وہ موجودہ دستے سے قدرے کمزور تھی ، اس لیے اگر بھارت نیوزی لینڈ کو کمزور سمجھتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔

بھارت اور نیوزی لینڈ میں ایک مماثلت ہے کہ دونوں "گھر کے شیر" سمجھے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کا دورۂ نیوزی لینڈ ایک سخت چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ نیوزی لینڈ نے صاف طور پر کہہ بھی دیا ہے کہ جس طرح بھارت اپنے اسپن گیندبازوں کے لیے سازگار وکٹیں بناتا ہے، اسی طرح اس مرتبہ وہ بھی اپنے تیز گیندبازوں کے لیے مددگار پچیں بنائے گا اور یہی بیرون ملک بھارت کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ انہیں ایسی وکٹوں پر کھیلنے کی عادت نہیں۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ قومی ٹیم میں اب بھی عالمی معیار کے بلے باز موجود ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرزمین پر ان کی کارکردگی ویسی نہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت عالمی کپ 2015ء، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے انہی میدانوں میں کھیلا جائے گا، سے قبل نیوزی لینڈ کے آخری دورے میں کیا کچھ سیکھتا ہے۔

Facebook Comments