’’ورلڈ کپ 2015ء کھیل کر ریٹائر ہونا چاہتا ہوں‘‘: عبدالرزاق

وسط نومبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی مقابلے کے دوران جب عبد الرزاق حریف باؤلر عمران طاہر کی گگلی پر کلین بولڈ ہوئے تو بیشتر ماہرین کا خیال تھا کہ عبد الرزاق کی بین الاقوامی کی اننگز بھی ختم ہوچکی ہے۔ پھر جنوبی افریقہ کے ٹور سے بھی عبدالرزاق اچانک ان فٹ ہوکر واپس آئے تو اس بات پر مہر ثبت ہوگئی کہ 1996ء میں اپنا کیرئیر شروع کرنے والے آل راؤنڈر کے دن پورے ہوگئے ہیں لیکن گزشتہ دنوں وہ اپنے ادارے زرعی ترقیاتی بنک کی نمائندگی کرتے ہوئے پریذیڈنٹ کپ ون ڈے میں نہ صرف ایکشن میں نظر آئے بلکہ نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے بہترین واپسی بھی کی۔ اب عبدالرزاق چار روزہ میچ کھیل کر اپنی فٹنس ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کل قذافی اسٹیڈیم میں چار روزہ میچ کے پہلے دن عبدالرزاق سے کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی جو انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے پر عزم ہیں۔

عبد الرزاق عزت و احترام کے ساتھ کیريئر کو خیرباد کہنے کے خواہاں ہیں (تصویر: Farhan Nisar)

عبد الرزاق عزت و احترام کے ساتھ کیريئر کو خیرباد کہنے کے خواہاں ہیں (تصویر: Farhan Nisar)

عبدالرزاق اکثر و بیشتر ڈومیسٹک کرکٹ سے دور رہتے ہیں۔ بلکہ اہم ڈومیسٹک ایونٹس سے ان کی غیر حاضری بہت سے سوالات کو بھی جنم دیتی ہے لیکن حالیہ سیزن میں اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے عبدالرزاق ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کررہے ہیں۔ ’’کرک نامہ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عبد الرزاق نے کہا کہ ’’میں اس لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آیا ہوں تاکہ سلیکشن کمیٹی میری فٹنس سے آگاہ ہوسکے اور میں آنے والے دنوں میں دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کرسکوں‘‘۔مستقبل کے حوالے سے عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ ’’میری عمر 34برس ہوچکی ہے اور اب میرے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے لیے بہت زیادہ وقت باقی نہیں رہااس لیے چاہتا ہوں کہ ایک مرتبہ پھر پاکستانی ٹیم میں واپس آؤں اور اچھے انداز میں کرکٹ کو الوداع کہوں، جس کے ساتھ میں 18 سال منسلک رہا ہوں‘‘

فی الوقت عبدالرزاق نے اپنی نظریں فروری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے قومی ٹی20کپ پر جمائی ہوئی ہیں جہاں اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے عبدالرزاق ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں پاکستان کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ’’میرا فوکس یہی ہے کہ چار روزہ فارمیٹ میں اپنی فٹنس ثابت کرنے کے بعد اب لاہور لائنز کے لیے ٹی20 کپ میں اچھی کارکردگی پیش کروں اور یوں پاکستانی ٹیم میں واپسی کروں ‘‘

دو برس قبل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ہی عبدالرزاق کے لیے مایوسیوں کا پیغام لے کر آیا تھا۔ سیمی فائنل سے باہر بیٹھنے کے بعد عبد الرزاق نے کپتان محمد حفیظ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔اس بارے میں مایہ ناز آل راؤنڈر کا کہنا تھاکہ ’’اگر مجھے سیمی فائنل جیسے میچ سے باہر بٹھایا جائے گا تو میں خاموش نہیں رہوں گا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ مجھے وہ میچ کھلایا جانا چاہیے تھا ‘‘لیکن اب عبدالرزاق حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مفاہمتی پالیسی پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں اور حفیظ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ سیمی فائنل کی وجہ سے میں نے بیان دیا تھا لیکن حفیظ کے ساتھ پہلے بھی کوئی اختلاف نہیں تھا اور بعد میں بھی معاملات ٹھیک ہوگئے تھے، لیکن زیادہ غلط فہمی ذکاء اشرف کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی‘‘۔

جنوبی افریقہ کے دورے سے عبدالرزاق اچانک ‘‘زخمی‘‘ ہوکر واپس آئے تو ایک مرتبہ پھر یہ خبریں آئیں کہ ٹی20کپتان محمد حفیظ آل راؤنڈر کو ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے، جس کی وجہ سے انہیں دورے سے واپس بھیجا گیا لیکن عبدالرزاق نے ان باتوں کو محض افواہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اختلافات کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں، جنوبی افریقہ میں پریکٹس کرتے ہوئے میرا مسل پھٹ گیا تھا جس کی وجہ سے مجھے واپس آنا پڑا‘‘۔

عبدالرزاق اس وقت اپنے کیرئیر کے آخری حصے میں کھڑے ہیں جو عزت و احترام کے ساتھ اپنے کیرئیر کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں، ’’ ابھی جنوری کا مہینہ چل رہا ہے اور اگلے برس فروری مارچ میں ورلڈ کپ 2015ء کھیلا جانا ہے، اس لیے ہمارے پاس پورے ایک سال کا وقت ہے کیونکہ ورلڈ کپ کے بعد سب سینئر کھلاڑی چلے جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھ سمیت کوئی دوسرا سینئر کھلاڑی 2019ء کا ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش کرے گا، اس لیے ان بارہ ماہ کے دوران سینئرز کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور میں بھی چاہتا ہوں کہ آسٹریلیا میں 2015ء کا ورلڈ کپ کھیل کر ریٹائر ہوجاؤں‘‘۔

Facebook Comments